ایران امریکہ مذاکرات کی ناکامی کا خمیازہ کون بھگتے گا؟

ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث امن مذاکرات ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال کا شکار نظر آتےہیں،ایسے میں اصل سوال یہ ہے کہ اگر یہ سفارتی کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں تو اس کی سیاسی قیمت کون ادا کرے گا؟ تہران سے آنے والی اطلاعات کے مطابق ایرانی اسٹیبلشمنٹ کے بعض حلقے مذاکرات متاثر ہونے کی ذمہ داری صدر مسعود پزشکیان پر ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اصل فیصلے طاقتور ریاستی مراکز میں ہوتے ہیں۔ ایسے میں ایران کی داخلی سیاست، طاقت کے مختلف مراکز اور آئندہ سیاسی منظرنامے پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی نے سفارتی مذاکرات کے مستقبل پر ایک بار پھر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ ادھر ایران کے اندر بھی سیاسی ماحول گرم ہوتا جا رہا ہے، جہاں بعض حلقے مذاکرات کی ممکنہ ناکامی کی ذمہ داری صدر مسعود پزشکیان پر ڈالنے کی کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ایران میں سرکاری بیانیے کا رخ بتدریج اس جانب موڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اگر امریکا کے ساتھ جاری سفارتی عمل مطلوبہ نتائج نہ دے سکا تو اس کا سیاسی بوجھ صدر پزشکیان کو اٹھانا پڑے۔ مبصرین کے نزدیک اس حکمت عملی کا مقصد حکمران اشرافیہ کے اندر موجود اختلافات کو عوامی نگاہوں سے اوجھل رکھنا بھی ہو سکتا ہے۔اطلاعات کے مطابق سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ مذاکراتی عمل کی اجازت صدر پزشکیان کی سفارش پر دی گئی، تاہم انہوں نے ان اہم شخصیات کا نام لینے سے گریز کیا جو عملی طور پر مذاکراتی حکمت عملی اور فیصلوں میں نمایاں کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا نام نہ لینا محض اتفاق نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا سیاسی فیصلہ ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو اس کا سیاسی فائدہ طاقتور حلقوں اور قالیباف کو مل سکتا ہے، جبکہ ناکامی کی صورت میں تمام تر ذمہ داری صدر پزشکیان کے کھاتے میں ڈالنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔رپورٹس کے مطابق امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے کی تیاری میں ایران کے طاقتور ریاستی اداروں پر مشتمل ایک وسیع اتحاد شامل رہا، جس میں پاسدارانِ انقلاب، سکیورٹی ادارے اور مذہبی و مالیاتی اداروں کے نمائندے بھی شریک تھے۔ تاہم اسی اتحاد کے اندر بھی مختلف نقطۂ نظر رکھنے والے دھڑے موجود ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایک دھڑا نسبتاً تکنیکی، معاشی اور عملی سوچ کا حامل سمجھا جاتا ہے، جس کی نمائندگی محمد باقر قالیباف کرتے ہیں، جبکہ دوسرا سخت گیر گروہ مغربی ممالک کے ساتھ کسی بھی مفاہمت کو ایران کی نظریاتی پالیسیوں کے لیے خطرہ تصور کرتا ہے۔اسی تناظر میں بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ صدر مسعود پزشکیان کو ایسے وقت میں اقتدار تک پہنچنے کا موقع ملا جب طاقت کے اصل مراکز کو ایک ایسی سیاسی شخصیت درکار تھی جو مختلف ریاستی اداروں کے لیے قابل قبول ہو اور جو خود طاقت کا متوازی مرکز نہ بن سکے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق سابق ایرانی صدور کے مقابلے میں پزشکیان کا سیاسی اثر و رسوخ محدود تصور کیا جاتا ہے، جس کے باعث ان پر دباؤ ڈالنا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ حالات میں مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی کے تناظر میں ان کا کردار مسلسل زیر بحث ہے۔
دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی نے سفارتی عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اگر خطے میں عسکری تناؤ برقرار رہا تو مذاکرات کی بحالی مزید مشکل ہو سکتی ہے، جس کے اثرات نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور عالمی معیشت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ماہرین کا خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ ایران کی قیادت داخلی اختلافات پر قابو پا کر سفارتی عمل کو آگے بڑھاتی ہے یا مذاکرات کی ناکامی ایک نئے سیاسی بحران کو جنم دیتی ہے، جس کے اثرات ایران کی داخلی سیاست اور علاقائی صورتحال دونوں پر پڑ سکتے ہیں۔
