سپریم کورٹ نےمقدمات کا17 سال کا بیک لاگ ختم کردیا

سپریم کورٹ نے سزائے موت کے مقدمات میں 11 سال اوربعد ازگرفتاری ضمانت کے مقدمات کا 17 سال کا بیک لاگ ختم کردیا۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پرانے زیرالتوا مقدمات کوترجیحی بنیادوں پرنمٹانے کی پالیسی پرمؤثر عملدرآمد کیا گیا، جان، آزادی،خاندانی حقوق، ٹیکس،کرایہ داری مقدمات کوترجیحی بنیادوں پرسنا جارہا ہے جبکہ اصلاحات کے بہترنتائج سامنے آئے  ہیں اور زیر سماعت مقدمات کی اوسط مدت میں کمی ہوئی ہے۔

عدالتی اعلامیہ میں کہا گیا کہ اکتوبر2024 میں سپریم کورٹ 2015 کے سزائے موت کے مقدمات سن رہی تھی تاہم اب سپریم کورٹ نے سزائے موت کے مقدمات میں11 سال کا بیک لاگ ختم کردیا، سزائے موت کی608 اپیلوں کا فیصلہ کیا گیا،اب عدالت میں رواں سال کے مقدمات کی سماعت شروع ہوگئی ہے اور صرف 22 اپیلیں زیرالتوا ہیں۔

اعلامیہ کے مطابق سپریم کورٹ نے قبل ازگرفتاری ضمانت کےمقدمات میں6 سال کا بیک لاگ ختم کیا، اکتوبر2024 میں قبل ازگرفتاری ضمانت کے2020 کے مقدمات زیرسماعت تھے، 2156 درخواستوں کا فیصلہ کیاگیا اور اب صرف23 درخواستیں زیرالتوا ہیں۔

عدالتی اعلامیہ میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ نے ضمانت بعدازگرفتاری کے مقدمات میں17 سال کا بیک لاگ ختم کردیا، جولائی2026 میں بعدازگرفتاری کے رواں سال کے مقدمات کی سماعت ہورہی ہے، بعدازگرفتاری ضمانت کی2303 درخواستوں کا فیصلہ کیا گیا اور اب صرف66 زیرالتوا ہیں۔

اسی طرح سپریم کورٹ میں خاندانی مقدمات کا بیک لاگ بھی ختم کردیا گیا ہے اور اب رواں سال کے مقدمات زیرسماعت ہیں، ایک1065 خاندانی مقدمات کا فیصلہ کیا گیا، صرف150 مقدمات زیرالتوا ہیں جب میں سے میں سے 122 رواں سال کے ہیں۔

Back to top button