وفاقی کابینہ میں ردوبدل، محسن نقوی وزیر داخلہ ہی رہیں گے

وزیراعظم شہباز شریف کی وفاقی کابینہ میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کی تیاریاں آخری مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں لیکن محسن نقوی بطور وزیر داخلہ اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق آئندہ چند روز میں وفاقی کابینہ کی تشکیل نو، نئی تقرریوں اور کئی وزارتوں کے قلمدان تبدیل کیے جانے کا باضابطہ اعلان متوقع ہے۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے گزشتہ دو برس کے دوران وفاقی وزرا اور وزارتوں کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ مکمل کر لیا ہے اور اسی بنیاد پر نئی ذمہ داریوں کی تقسیم کے لیے مشاورت بھی حتمی مرحلے میں پہنچ چکی ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم کے پاس مختلف وزارتوں کی کارکردگی سے متعلق جامع رپورٹ موجود ہے، جس کی روشنی میں بہتر نتائج دینے والے وزرا کو مزید اہم ذمہ داریاں سونپنے جبکہ کمزور کارکردگی دکھانے والی وزارتوں میں تبدیلیاں لانے پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ کابینہ میں کارکردگی کو بنیادی معیار بنایا جا رہا ہے تاکہ معاشی اہداف اور حکومتی پالیسیوں پر عملدرآمد کی رفتار تیز کی جا سکے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق اس وقت وزیراعظم شہباز شریف کی وفاقی کابینہ کے مجموعی ارکان کی تعداد 51 ہے، جن میں 31 وفاقی وزرا، 11 وزرائے مملکت، 4 مشیر اور 5 خصوصی معاونین شامل ہیں، جبکہ صرف وفاقی وزرا اور وزرائے مملکت کی تعداد 42 بنتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر مملکت بلال اظہر کیانی کو وفاقی وزیر کے عہدے پر ترقی دے کر وزارتِ تجارت کا قلمدان دینے کی تجویز زیر غور ہے۔ اسی طرح وزیر مملکت بیرسٹر عقیل ملک کو بھی وفاقی وزیر بنانے پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کو محمد اورنگزیب کی جگہ وزارتِ خزانہ کی ذمہ داری سونپنے کی تجویز زیر غور ہے، جبکہ نائب وزیراعظم کا عہدہ ایک مرتبہ پھر بلاول بھٹو کو آفر کیا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب ذرائع نے واضح کیا ہے کہ محسن نقوی کو وزارتِ خارجہ دیے جانے یا رانا ثناء اللہ کو وزارتِ داخلہ سونپے جانے کی اطلاعات درست نہیں ہیں اور اس حوالے سے گردش کرنے والی افواہوں میں کوئی صداقت نہیں۔

ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ میں نوجوان قیادت کو آگے لانے کی حکمت عملی بھی تیار کی جا رہی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی رکن قومی اسمبلی نوشین افتخار کا نام کابینہ میں شمولیت کے لیے زیر غور ہے، جبکہ حالیہ ضمنی انتخاب میں کامیابی حاصل کرنے والے بابر نواز کو وزیر مملکت بنانے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ اسی طرح اسامہ سرور کو وزیر مملکت برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان مقرر کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ دیگر چند اراکین پارلیمنٹ کو بھی مختلف وزارتوں یا وزارتِ مملکت کی ذمہ داریاں دی جا سکتی ہیں۔
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف وزارتِ تجارت، وزارتِ صنعت و پیداوار اور وزارتِ آبی وسائل کی مجموعی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں۔ برآمدات میں مطلوبہ اضافہ نہ ہونے، خصوصاً چاول، آلو، پھلوں اور دیگر زرعی مصنوعات کی برآمدات میں توقعات کے مطابق نتائج حاصل نہ ہونے پر بھی اعلیٰ سطح پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق کابینہ میں توسیع کے ساتھ ساتھ چند نئے چہروں کو بھی شامل کرنے پر غور جاری ہے۔ انہی ناموں میں سابق نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کی کابینہ میں وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار کے طور پر خدمات انجام دینے والے معروف صنعت کار اور لیک سٹی کے چیئرمین گوہر اعجاز کا نام بھی زیر غور ہے۔ حکومتی حلقوں میں یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انہیں دوبارہ وفاقی کابینہ میں شامل کر کے صنعت، تجارت یا معاشی شعبے سے متعلق اہم ذمہ داری سونپی جا سکتی ہے، تاہم اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم ایک جانب کابینہ کو زیادہ مؤثر اور نتیجہ خیز بنانا چاہتے ہیں تو دوسری جانب قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ کم رکھنے کے لیے بعض کم اہم وزارتوں کی تنظیم نو اور چند وزرائے مملکت کی ذمہ داریوں میں ردوبدل یا انہیں فارغ کرنے کی تجاویز بھی زیر غور ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اگر مجوزہ تبدیلیوں کی منظوری دے دی جاتی ہے تو یہ موجودہ حکومت کے قیام کے بعد وفاقی کابینہ کی سب سے بڑی تنظیم نو ثابت ہوگی، جس کا بنیادی مقصد حکومتی کارکردگی میں بہتری، معاشی چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹنا اور نوجوان و فعال قیادت کو آگے لا کر انتظامی نظام کو مزید مؤثر بنانا ہوگا۔

Back to top button