کراچی رینجرز حملہ، ماسٹر مائنڈ اور سہولتکار کیسے پکڑے گئے؟

کراچی میں سندھ رینجرز کی ٹرانسپورٹ کمپنی پر 27 جون کو ہونے والے دہشت گرد حملے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سندھ حکومت اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے دعویٰ کیا ہے کہ حملے کا مبینہ ماسٹر مائنڈ قاری بشیر سمیت پورا سہولت کار نیٹ ورک گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ حملے کی منصوبہ بندی، تربیت اور دہشت گردوں کو ہدایات افغانستان سے دی جا رہی تھیں۔
وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے بتایا کہ سندھ رینجرز کی ٹرانسپورٹ کمپنی پر حملے کی مکمل سازش بے نقاب کر دی گئی ہے۔ ان کے مطابق حملے کا مقصد رینجرز اہلکاروں اور شہریوں کو یرغمال بنا کر بڑے پیمانے پر جانی نقصان پہنچانا تھا، تاہم سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی نے دہشت گردوں کے منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ حملے میں چار دہشت گرد شامل تھے، جن میں تین کا تعلق افغانستان جبکہ ایک کا تعلق باجوڑ سے تھا، جو گزشتہ 20 برس سے افغانستان میں مقیم رہا تھا۔ رینجرز کی جوابی کارروائی میں تین دہشت گرد مارے گئے جبکہ ایک زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔
ایس ایس پی سی ٹی ڈی عرفان بہادر نے بتایا کہ تحقیقات کے مطابق اس دہشت گرد کارروائی کو چار مراحل میں انجام دیا گیا۔ پہلے مرحلے میں افغانستان میں حملے کی منصوبہ بندی کی گئی، دوسرے مرحلے میں دہشت گردوں کو پاکستان منتقل کیا گیا، تیسرے مرحلے میں مقامی سہولت کاروں نے رہائش، نقل و حرکت اور دیگر انتظامات کیے، جبکہ آخری مرحلے میں اسلحہ، بارودی مواد اور خودکش جیکٹس فراہم کی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ حملے میں شامل خودکش بمبار جانان کا تعلق افغانستان سے تھا، دوسرا حملہ آور باجوڑ کا رہائشی تھا، تیسرا دہشت گرد عمر فاروق افغانستان کے صوبہ کنڑ کا رہنے والا تھا، جبکہ چوتھا دہشت گرد، جو زخمی حالت میں گرفتار ہوا، افغانستان کے صوبہ ننگرہار سے تعلق رکھتا ہے۔
سی ٹی ڈی حکام کے مطابق حملے کی منصوبہ بندی میں کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی، شیر علی، سعید شاہ اور دیگر افراد ملوث تھے، جبکہ جماعت الاحرار کے مبینہ امیر بصیر عرف احرار ملا کا نام بھی تحقیقات میں سامنے آیا ہے۔
حکام کے مطابق حملے کا مبینہ ماسٹر مائنڈ قاری بشیر ہے، جسے پہلے پاکستان سے افغانستان بلایا گیا، جہاں اسے حملے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ بعد ازاں رینجرز نے کارروائی کرتے ہوئے اسے گرفتار کر لیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ قاری بشیر نے دورانِ تفتیش حملے کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری سے متعلق اپنے کردار کا اعتراف کیا ہے۔
عرفان بہادر کے مطابق مجموعی طور پر اس کارروائی میں 13 افراد ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ دہشت گرد عثمان نے حملے سے قبل موٹر سائیکل پر سوار ہو کر رینجرز کمپنی اور اطراف کے علاقے کی ریکی کی تھی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ قاری بشیر کے موبائل فون کے فرانزک تجزیے کے دوران حملے کی تیاری، دہشت گردوں کی روانگی، اسلحہ کی تقسیم اور حملے سے قبل بنائی گئی متعدد ویڈیوز اور دیگر ڈیجیٹل شواہد برآمد ہوئے ہیں۔ ایک ویڈیو میں مبینہ طور پر قاری بشیر دہشت گردوں کو روانگی سے قبل رخصت کرتے اور ان کی ویڈیو بناتے ہوئے بھی نظر آتا ہے۔
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ تمام ہینڈلرز افغانستان سے مسلسل دہشت گردوں کو ہدایات دے رہے تھے، جبکہ حملے کے دوران بھی ان سے رابطہ برقرار رکھا گیا تھا۔
آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے بتایا کہ رواں سال سندھ میں دہشت گردی کے صرف سات واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں ایسے 37 واقعات پیش آئے تھے۔ ان کے مطابق سکیورٹی اداروں نے اس سال تقریباً 75 دہشت گرد گرفتار کیے ہیں، جبکہ متعدد دہشت گرد مختلف مقابلوں میں مارے جا چکے ہیں۔
ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ذوالفقار لاڑک نے کہا کہ حملے میں ملوث تمام دہشت گرد یا تو ہلاک ہو چکے ہیں یا گرفتار کیے جا چکے ہیں، جبکہ گرفتار ملزمان سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر دیگر سہولت کاروں اور دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔
حکام کے مطابق تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے اور حاصل ہونے والے ڈیجیٹل شواہد، اعترافی بیانات اور دیگر معلومات کی بنیاد پر دہشت گردی کے اس پورے نیٹ ورک، اس کے مقامی سہولت کاروں اور بیرونِ ملک موجود رابطوں تک پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
