خلیج ایک بار پھر جنگ کے دہانے پر، ہرمز بحران نے دنیا کو ہلا دیا

امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی جنگ بندی، مذاکراتی عمل اور پاکستان و قطر کی ثالثی سے وجود میں آنے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت سے دنیا کو امید تھی کہ مشرقِ وسطیٰ ایک بڑے تصادم سے بچ جائے گا، مگر یہ امید زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ آبنائے ہرمز پر بڑھتی کشیدگی، امریکہ کی مسلسل کارروائیاں، اسرائیلی سخت مؤقف اور ایران کے جوابی اقدامات نے ایک بار پھر خطے کو جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی ہے جہاں صرف دو ممالک نہیں بلکہ عالمی توانائی، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی معیشت داؤ پر لگی ہوئی ہے، جبکہ پاکستان اور قطر ایک مرتبہ پھر سفارتی محاذ پر بحران ٹالنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر شدید غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکراتی عمل کے بعد پاکستان اور قطر کی معاونت سے طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو خطے میں امن کی جانب ایک بڑی پیش رفت قرار دیا گیا تھا۔ اس معاہدے کے تحت طے پایا تھا کہ ساٹھ روز کے اندر تمام اہم تنازعات کے حل کے لیے ایک قابلِ عمل روڈ میپ تیار کیا جائے گا، تاہم بدلتے حالات نے اس امید کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔

مبصرین کے مطابق ابتدا ہی سے بعض حلقے اس امن عمل پر تحفظات کا اظہار کر رہے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان کئی دہائیوں پر محیط بداعتمادی محض ایک معاہدے سے ختم نہیں ہو سکتی۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ خدشات درست ثابت ہوتے دکھائی دے رہے ہیں، کیونکہ معاہدے کے باوجود کشیدگی کم ہونے کے بجائے دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل ان فریقوں میں شامل تھا جو اس مفاہمتی عمل کو اپنے مفادات کے لیے موزوں نہیں سمجھتے تھے۔ لبنان اور غزہ میں جاری فوجی کارروائیوں نے ایران کے خدشات میں اضافہ کیا، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی مسلسل ایران اور اس کی قیادت کے خلاف سخت بیانات دیتے رہے، جس کے باعث اعتماد سازی کی کوششیں کمزور پڑتی گئیں۔

دونوں ممالک کے درمیان اصل تنازع ایک مرتبہ پھر آبنائے ہرمز بن کر سامنے آیا۔ ایران کا مؤقف ہے کہ مفاہمتی یادداشت کے مطابق مخصوص مدت کے دوران آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں کی محفوظ آمدورفت کی ذمہ داری اس کے سپرد تھی، اسی لیے اس نے جہاز رانی کے لیے مخصوص سمندری راستے متعین کیے تھے۔ ایران کا الزام ہے کہ بعض جہازوں نے ان طے شدہ راستوں کی خلاف ورزی کی، جس کے بعد اس نے کارروائی کی۔

دوسری جانب امریکا کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے اور کسی بھی ملک کو عالمی تجارتی جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت محدود کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔ یہی اختلاف اب ایک نئے فوجی تصادم کی بنیاد بنتا دکھائی دے رہا ہے۔

صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب دونوں ممالک نے عملی طور پر جنگ بندی ختم ہونے کا اعلان کر دیا۔ امریکا ایرانی اہداف پر حملے کر رہا ہے، جبکہ ایران بھی خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی تنصیبات اور مفادات کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہے۔ اس کشیدگی نے پورے خلیجی خطے میں عدم استحکام کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔

آبنائے ہرمز کی اہمیت کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا کی سمندری تیل تجارت کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اس لیے یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہ صرف عالمی تیل کی قیمتوں بلکہ پوری عالمی معیشت پر فوری اثرات مرتب کرتی ہے۔

پاکستان کے لیے بھی یہ بحران غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک طرف خطے میں جنگی ماحول پیدا ہو رہا ہے تو دوسری جانب توانائی کی بڑھتی قیمتیں، معاشی دباؤ اور علاقائی سلامتی کے خدشات اسلام آباد کے لیے بڑے چیلنج بن سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اور قطر ایک مرتبہ پھر سفارتی رابطوں کے ذریعے دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت پاکستانی قیادت مختلف علاقائی اور عالمی رہنماؤں سے مسلسل رابطے کر رہی ہے تاکہ کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔ سعودی عرب، قطر، چین اور یورپی یونین بھی سفارتی حل پر زور دے رہے ہیں، کیونکہ کسی بھی بڑے تصادم کے اثرات پوری دنیا تک پہنچ سکتے ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اصل رکاوٹ دونوں ممالک کے درمیان گہری بداعتمادی ہے۔ امریکا میں داخلی سیاسی دباؤ، آئندہ انتخابی ماحول اور عالمی سطح پر اپنی برتری برقرار رکھنے کی خواہش واشنگٹن کو سخت مؤقف اپنانے پر مجبور کر رہی ہے، جبکہ ایران بھی بھاری نقصانات کے باوجود پسپائی اختیار کرنے کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتا اور قومی اتحاد اس کے مؤقف کو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ پس پردہ سفارتی رابطے جاری ہیں، لیکن کسی بھی نئے معاہدے کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا واشنگٹن اور تہران ایک دوسرے پر دوبارہ اعتماد کرنے اور محدود مگر قابلِ قبول سمجھوتے پر آمادہ ہوتے ہیں یا نہیں۔ مبصرین کے بقول حالات کا مجموعی جائزہ یہی ظاہر کرتا ہے کہ خلیج میں پیدا ہونے والا بحران صرف دو ممالک کے درمیان تنازع نہیں رہا بلکہ یہ عالمی توانائی، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی سفارت کاری کا سب سے بڑا امتحان بنتا جا رہا ہے۔ اگر بروقت سفارتی پیش رفت نہ ہوئی تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا اس کے معاشی اور سیاسی نتائج بھگتنے پر مجبور ہو سکتی ہے۔

Back to top button