عدالت نے جے یو آئی رہنما فرخ کھوکھر کو عمر قید کی سزا کیوں سنائی؟

راولپنڈی کی ایک مقامی عدالت نے تقریباً چار سال تک جاری رہنے والے ہائی پروفائل ماجد ستی قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما فرخ امتیاز کھوکھر سمیت تین ملزمان کو عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔ عدالت نے استغاثہ کے پیش کردہ شواہد، فارنزک رپورٹس، ڈیجیٹل ریکارڈ اور گواہوں کے بیانات کی بنیاد پر فیصلہ سنایا، جبکہ ایک ملزم کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا۔ فیصلے کے بعد فرخ کھوکھر کو کمرہ عدالت سے گرفتار کر لیا گیا، جبکہ ان کے وکلا نے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ مقدمہ نہ صرف راولپنڈی کے اہم فوجداری مقدمات میں شمار ہوتا رہا بلکہ اس نے سیاسی، قانونی اور سماجی حلقوں میں بھی غیر معمولی توجہ حاصل کی۔
راولپنڈی کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز عدالت نے ماجد ستی قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما فرخ امتیاز کھوکھر، امیر حمزہ اور حیدر علی عرف علی جوگی کو قتل کے جرم میں عمر قید کی سزا سنا دی، جبکہ شریک ملزم وسیم کو ناکافی شواہد کی بنیاد پر بری کر دیا۔
عدالت نے سزا یافتہ ہر ملزم کو مقتول کے قانونی ورثا کو دس، دس لاکھ روپے بطور معاوضہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا، جبکہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 382-بی کے تحت دورانِ حراست گزارا گیا عرصہ سزا میں شمار کرنے کی ہدایت بھی دی گئی۔ فیصلہ سنائے جانے کے فوراً بعد فرخ کھوکھر کو عدالت کے احاطے سے گرفتار کر کے سزا پر عملدرآمد کے لیے جیل منتقل کر دیا گیا۔
یہ مقدمہ 23 اگست 2022 کو تھانہ صادق آباد راولپنڈی میں درج ہوا تھا۔ ابتدائی ایف آئی آر میں فرخ کھوکھر نامزد نہیں تھے، تاہم بعد ازاں پولیس تفتیش کے دوران سامنے آنے والے شواہد کی بنیاد پر انہیں مقدمے میں شامل کیا گیا۔ پولیس کے مطابق قتل کی بنیادی وجہ ذاتی دشمنی اور مخالف گروہ کی حمایت تھی۔
عدالتی کارروائی تقریباً چار برس جاری رہی، جس دوران استغاثہ نے متعدد گواہان، فارنزک رپورٹس، جیو فارنزک، سفری ریکارڈ اور ڈیجیٹل شواہد عدالت کے سامنے پیش کیے۔ استغاثہ کا مؤقف تھا کہ منصوبہ بندی، معاونت اور حملے کے مختلف مراحل میں ملوث افراد کے خلاف شواہد جرم ثابت کرنے کے لیے کافی تھے۔
استغاثہ کے وکیل کے مطابق مقدمے میں نامزد مبینہ مرکزی شوٹر سمیت چار ملزمان اب بھی مفرور ہیں اور انہیں اشتہاری قرار دیا جا چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے دستیاب شواہد کی بنیاد پر تین ملزمان کے کردار کو ثابت قرار دیا، جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے بعد ان کے خلاف قانونی کارروائی جاری رہے گی۔
فرخ کھوکھر کے وکلا نے عدالتی فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکل بے گناہ ہیں اور انہیں غلط طور پر مقدمے میں ملوث کیا گیا۔ دفاعی ٹیم نے اعلان کیا ہے کہ فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی جائے گی۔
فیصلہ سنائے جانے کے موقع پر جوڈیشل کمپلیکس میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے تھے۔ مقتول ماجد ستی کے اہل خانہ اور حامیوں کے ساتھ ساتھ فرخ کھوکھر کے حامی بھی بڑی تعداد میں عدالت پہنچے، تاہم کسی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے عدالت کے احاطے میں سخت حفاظتی اقدامات نافذ رہے۔
خیال رہے کہ فرخ امتیاز کھوکھر کا تعلق راولپنڈی اور اسلام آباد کے معروف کھوکھر خاندان سے ہے، جو ماضی میں پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستہ رہا۔ بعد ازاں انہوں نے جمعیت علمائے اسلام (ف) میں شمولیت اختیار کی۔ وہ سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ سماجی اور فلاحی کاموں میں بھی متحرک رہے اور سوشل میڈیا پر بھی خاصی مقبولیت رکھتے ہیں۔تاہم ان کا نام ماضی میں بھی مختلف مقدمات میں سامنے آتا رہا، جن میں بعض مقدمات میں انہیں ریلیف ملا جبکہ بعض معاملات عدالتوں میں زیر سماعت رہے۔ ماجد ستی قتل کیس کا یہ فیصلہ ان کے سیاسی اور قانونی مستقبل کے لیے ایک اہم موڑ تصور کیا جا رہا ہے، اگرچہ اس مقدمے کا حتمی قانونی انجام اب اعلیٰ عدالتوں میں اپیلوں کے بعد ہی سامنے آئے گا۔
