لوڈشیڈنگ سے انٹرنیٹ بھی مفلوج، بجلی بند ہوتے ہی ٹیلی کام ٹاورز خاموش

پاکستان میں بجلی کا بحران اب صرف صنعت، تجارت اور گھریلو صارفین تک محدود نہیں رہا بلکہ ملک کا ڈیجیٹل انفراسٹرکچر بھی اس کی زد میں آ گیا ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں انکشاف کیا گیا کہ بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کے باعث ٹیلی کام ٹاورز بند ہو جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں موبائل سگنلز غائب اور انٹرنیٹ سروس شدید متاثر ہوتی ہے۔ پی ٹی اے نے واضح کیا کہ ٹیلی کام کمپنیاں بجلی کے بل باقاعدگی سے ادا کرتی ہیں، اس کے باوجود انہیں مسلسل بجلی فراہم نہیں کی جا رہی۔ دوسری جانب حکومت نے ٹیلی کام ٹاورز کو سولر توانائی پر منتقل کرنے، الگ فیڈرز مختص کرنے اور لیتھیئم بیٹریاں نصب کرنے کی تجاویز پر غور شروع کر دیا ہے تاکہ ملک کے مواصلاتی نظام کو بجلی کے بحران سے محفوظ بنایا جا سکے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان میں بجلی کی طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے اثرات اب براہِ راست موبائل فون اور انٹرنیٹ صارفین تک پہنچ گئے ہیں۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اجلاس میں بتایا گیا کہ بجلی بند ہوتے ہی متعدد علاقوں میں ٹیلی کام ٹاورز بھی بند ہو جاتے ہیں، جس سے موبائل سگنلز کمزور پڑ جاتے ہیں اور انٹرنیٹ سروس متاثر ہوتی ہے۔

چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ملک بھر میں کیے گئے سروے کے مطابق اوسطاً 10 گھنٹے جبکہ بعض علاقوں میں 18 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیلی کام کمپنیاں اپنے بجلی کے بل مکمل اور بروقت ادا کرتی ہیں، نہ بجلی چوری میں ملوث ہیں، اس لیے انہیں چوبیس گھنٹے بلا تعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جانی چاہیے۔

پی ٹی اے کے مطابق اس مسئلے کے حل کے لیے نیپرا کو باضابطہ خط لکھا جا چکا ہے، جبکہ وزیراعظم کی ہدایت پر ایک خصوصی کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے جو بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے ساتھ مل کر ٹیلی کام ٹاورز کے لیے مستقل حل تلاش کرے گی۔ اس حوالے سے الگ بجلی فیڈرز مختص کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

اجلاس کے دوران قائمہ کمیٹی کے ارکان نے تجویز دی کہ مستقبل میں ٹیلی کام ٹاورز کو قومی گرڈ پر انحصار کم کرتے ہوئے سولر توانائی پر منتقل کیا جائے اور بیک اپ کے لیے جدید لیتھیئم بیٹریاں نصب کی جائیں تاکہ بجلی کی بندش کے باوجود مواصلاتی نظام فعال رہے۔

وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ نے بتایا کہ حکومت اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ ان کے مطابق چین کی ایک کمپنی سے ملاقات بھی ہوئی ہے جو سولر مائیکرو گرڈز کی ٹیکنالوجی فراہم کرتی ہے، جس کے ذریعے ٹیلی کام ٹاورز کو قومی بجلی کے نظام سے آزاد کیا جا سکتا ہے۔

اجلاس میں ایک اور تشویشناک انکشاف یہ بھی سامنے آیا کہ ملک بھر میں ٹیلی کام ٹاورز چوری کی وارداتوں کا بھی نشانہ بن رہے ہیں۔ وفاقی وزیر کے مطابق اب تک تقریباً 9 ہزار چوری کے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں، جن میں ڈیزل، بیٹریاں، دیگر آلات اور بعض مقامات پر پورے کے پورے ٹاورز تک چرا لیے گئے۔ پاکستان میں اس وقت تقریباً 50 سے 55 ہزار ٹیلی کام ٹاورز موجود ہیں۔

قائمہ کمیٹی کے ارکان نے موبائل سگنلز کی خرابی، کال ڈراپ ہونے اور انٹرنیٹ کی ناقص رفتار پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ارکان کا کہنا تھا کہ کئی علاقوں میں آدھا منٹ گفتگو کے بعد ہی کال منقطع ہو جاتی ہے، جس سے صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

اس موقع پر وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد گزشتہ برسوں میں دوگنی ہو چکی ہے، جبکہ ایک صارف اوسطاً پورے مہینے کے انٹرنیٹ کے لیے صرف 285 روپے، یعنی ایک ڈالر سے بھی کم ادائیگی کرتا ہے، جو خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔ تاہم انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت انفراسٹرکچر کی بہتری، بجلی کی دستیابی اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے موبائل اور انٹرنیٹ سروس کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان کی معیشت، ڈیجیٹل کاروبار، آن لائن تعلیم، بینکاری اور سرکاری خدمات کا بڑھتا ہوا انحصار انٹرنیٹ پر ہے، اس لیے ٹیلی کام انفراسٹرکچر کو بجلی کے بحران سے محفوظ بنانا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ اگر ٹیلی کام ٹاورز کو قابلِ اعتماد توانائی کے متبادل ذرائع فراہم نہ کیے گئے تو مستقبل میں ڈیجیٹل معیشت کو مزید سنگین چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

Back to top button