پنجاب اسمبلی میں قائم پہلی جوڈیشل کمیٹی کا اصل مقصد کیا ہے؟

پنجاب اسمبلی نے اپنی پارلیمانی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک مستقل جوڈیشل کمیٹی قائم کر کے قانون سازی اور پارلیمانی احتساب کے نظام میں ایک اہم سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ پنجاب اسمبلی پریولیجز ایکٹ 1972 کے تحت قائم ہونے والی یہ کمیٹی ارکانِ اسمبلی کے استحقاق سے متعلق معاملات کی تحقیقات، شواہد کا جائزہ لینے اور اسپیکر کو سفارشات پیش کرنے کی مجاز ہوگی۔ اگرچہ کمیٹی کو براہِ راست سزا دینے کا اختیار حاصل نہیں ہوگا، تاہم اسے پارلیمانی وقار، نظم و ضبط اور استحقاق کے تحفظ کے لیے ایک مؤثر فورم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس نو تشکیل شدہ کمیٹی کا پہلا بڑا امتحان قصور کے ڈی پی او آفتاب پھلروان کا کیس ہوگا، جسے اسپیکر پنجاب اسمبلی کے خلاف مبینہ توہین آمیز مہم کے الزام میں کمیٹی کے سپرد کیا گیا ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق پنجاب اسمبلی کی تاریخ میں پہلی بار ایک پارلیمانی جوڈیشل کمیٹی قائم کر دی گئی ہے، جس کا مقصد اسمبلی کے استحقاق، وقار اور نظم و ضبط سے متعلق معاملات کی باقاعدہ تحقیقات کرنا ہے۔ یہ کمیٹی پنجاب اسمبلی پریولیجز ایکٹ 1972 کے سیکشن 11-سی کے تحت تشکیل دی گئی ہے اور اسے اسپیکر پنجاب اسمبلی کی جانب سے بھیجے گئے استحقاقی معاملات کی سماعت اور تحقیقات کا اختیار حاصل ہوگا۔

اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کی ہدایت پر قائم ہونے والی کمیٹی کی سربراہی سردار محمد اویس دریشک کریں گے، جبکہ اس میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ تحقیقات کو زیادہ مؤثر اور نمائندہ بنایا جا سکے۔ ضرورت پڑنے پر کمیٹی کو مزید ارکان شامل کرنے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔

کمیٹی کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ استحقاق کی خلاف ورزی کے مقدمات میں متعلقہ افراد کو نوٹس جاری کرے، شواہد اور دستاویزات طلب کرے، گواہوں کے بیانات قلمبند کرے اور تمام متعلقہ فریقین کا مؤقف سننے کے بعد اپنی سفارشات مرتب کرے۔ تاہم یہ کمیٹی فوجداری یا دیوانی مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی بلکہ اس کا دائرۂ اختیار صرف پارلیمانی استحقاق اور اسمبلی کے وقار سے متعلق معاملات تک محدود ہوگا۔

قانونی ماہرین کے مطابق اس کمیٹی کا بنیادی کردار تحقیقات کرنا اور اپنی رپورٹ اسپیکر پنجاب اسمبلی کو پیش کرنا ہے۔ کمیٹی خود کسی سرکاری افسر یا فرد کو سزا، معطلی یا نااہلی کا حکم جاری نہیں کر سکتی بلکہ صرف متعلقہ محکمہ یا حکومت کو قانونی یا محکمانہ کارروائی کی سفارش کر سکتی ہے۔سابق صدر لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے مطابق یہ کمیٹی اسمبلی کی خودمختاری اور پارلیمانی استحقاق کے تحفظ کی جانب ایک اہم قدم ہے، کیونکہ ماضی میں ارکانِ اسمبلی کی جانب سے استحقاق کی خلاف ورزی کے متعدد معاملات سامنے آتے رہے، لیکن ان کی تحقیقات کے لیے ایسا مستقل اور خصوصی فورم موجود نہیں تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی معاملے میں استحقاق کی خلاف ورزی ثابت ہو جائے تو کمیٹی جرمانے، محکمانہ کارروائی یا دیگر قانونی اقدامات کی سفارش کر سکتی ہے، تاہم ان سفارشات پر عملدرآمد کا انحصار متعلقہ محکموں اور حکومت پر ہوگا۔

نو تشکیل شدہ کمیٹی کا پہلا اہم مقدمہ قصور کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر آفتاب پھلروان کا ہوگا۔ ان پر الزام ہے کہ ان کے دفتر سے سوشل میڈیا پر اسپیکر پنجاب اسمبلی کے خلاف مبینہ توہین آمیز مہم چلائی گئی، جس سے اسمبلی کے وقار اور پارلیمانی استحقاق کو نقصان پہنچا۔ذرائع کے مطابق ڈی پی او آفتاب پھلروان پہلے ہی پریولیجز کمیٹی اور لا ریفارمز کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر اپنا مؤقف بیان کر چکے ہیں، تاہم ارکان نے ان کی وضاحت کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے معاملہ مزید تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیٹی کو بھجوا دیا ہے۔؎سیاسی اور قانونی حلقوں کی رائے میں پنجاب اسمبلی کی یہ نئی جوڈیشل کمیٹی مستقبل میں پارلیمانی استحقاق کے تحفظ، ریاستی اداروں اور منتخب نمائندوں کے درمیان اختیارات کے توازن اور اسمبلی کے وقار کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ تاہم اس کی اصل افادیت کا اندازہ اس بات سے ہوگا کہ اس کی سفارشات پر کس حد تک مؤثر عملدرآمد کیا جاتا ہے اور یہ ادارہ کس حد تک غیرجانبدار اور شفاف انداز میں اپنے فرائض انجام دیتا ہے۔

Back to top button