40 برس بعد مینار پاکستان پر جلسہ،PPPقیادت کیلئے کڑا امتحان کیوں؟

پاکستان پیپلز پارٹی نے تقریباً چار دہائیوں بعد لاہور کے تاریخی مینارِ پاکستان پر بڑے عوامی جلسے کا اعلان کر کے ملکی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ 25 جولائی کو ہونے والا یہ اجتماع صرف ایک سیاسی جلسہ نہیں بلکہ پنجاب میں پارٹی کی دوبارہ سیاسی بحالی، تنظیمی طاقت اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت کے لیے ایک اہم امتحان تصور کیا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس جلسے کی کامیابی یا ناکامی سے نہ صرف پنجاب میں پیپلز پارٹی کی عوامی مقبولیت کا اندازہ ہوگا بلکہ یہ بھی واضح ہو جائے گا کہ آیا بلاول بھٹو صوبے کی سیاست میں مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے مقابلے میں مؤثر سیاسی جگہ بنانے میں کامیاب ہو رہے ہیں یا نہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی نے 40 برس بعد لاہور کے تاریخی مینارِ پاکستان پر ایک بڑے عوامی جلسے کا اعلان کرتے ہوئے پنجاب میں اپنی سیاسی سرگرمیوں کو نئی رفتار دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ پارٹی قیادت کے مطابق 25 جولائی کو ہونے والا یہ اجتماع تنظیمی بحالی، کارکنوں کو متحرک کرنے اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی سیاسی جدوجہد کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے عزم کا اظہار ہوگا۔

تاریخی اعتبار سے مینارِ پاکستان پر پیپلز پارٹی کا آخری بڑا جلسہ 10 اپریل 1986 کو منعقد ہوا تھا، جب بے نظیر بھٹو جلاوطنی ختم کر کے وطن واپس آئیں اور لاکھوں افراد کے اجتماع سے خطاب کیا۔ تقریباً چار دہائیاں بعد اسی مقام پر واپسی کو پارٹی علامتی اور سیاسی طور پر ایک اہم سنگ میل قرار دے رہی ہے۔

سینیئر تجزیہ نگار سلمان غنی کے مطابق مینارِ پاکستان ہمیشہ سے بڑی سیاسی جماعتوں کے لیے عوامی طاقت کے اظہار کی علامت رہا ہے۔ ان کے بقول پیپلز پارٹی کا یہ جلسہ اس بات کا امتحان ہوگا کہ آیا وہ پنجاب، خصوصاً لاہور میں اپنی کھوئی ہوئی سیاسی جگہ دوبارہ حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے یا نہیں۔

انہوں نے اس تاثر کا بھی ذکر کیا کہ ماضی میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان ایک غیر اعلانیہ سیاسی مفاہمت موجود رہی، جس کے تحت دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے مضبوط سیاسی علاقوں میں زیادہ جارحانہ سیاست سے گریز کرتی رہیں۔ تاہم موجودہ جلسہ اس تاثر کو بدلنے کی کوشش بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اگرچہ پنجاب کی سیاست پر اس وقت مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کا غلبہ ہے، لیکن پیپلز پارٹی اس جلسے کے ذریعے یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ وہ آئندہ عام انتخابات سے قبل پنجاب میں اپنی تنظیم اور ووٹ بینک کو دوبارہ متحرک کرنے کے لیے سنجیدہ ہے۔

دوسری جانب پیپلز پارٹی لاہور کے صدر فیصل میر کا کہنا ہے کہ 25 جولائی کا جلسہ تاریخی نوعیت کا ہوگا اور لاہور ایک بار پھر پیپلز پارٹی کی عوامی طاقت کا گواہ بنے گا۔ ان کے مطابق جلسے کی تیاریوں کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، خصوصی ترانہ جاری ہو چکا ہے، جبکہ سکیورٹی، اسٹیج، ساؤنڈ سسٹم اور دیگر انتظامات کے لیے مختلف کمیٹیاں تشکیل دی جا چکی ہیں۔

پارٹی ذرائع کے مطابق جلسے میں بلاول بھٹو زرداری سمیت مرکزی قیادت، پنجاب بھر کے رہنما اور کارکن شریک ہوں گے۔ جلسے میں مہنگائی، بے روزگاری، صحت، تعلیم، پنجاب کے عوامی مسائل اور موجودہ حکومت کی پالیسیوں پر تفصیلی اظہار خیال کیا جائے گا، جبکہ آئندہ سیاسی حکمت عملی کا اعلان بھی متوقع ہے۔

سینیئر تجزیہ نگار ماجد نظامی کے مطابق اس جلسے کا بنیادی مقصد مسلم لیگ (ن) کو فوری سیاسی نقصان پہنچانا نہیں بلکہ پارٹی تنظیم کو متحرک رکھنا اور پنجاب میں اپنی موجودگی کا احساس دلانا ہے۔ ان کے مطابق اگر جلسے میں توقع سے زیادہ عوام شریک ہوتے ہیں تو پیپلز پارٹی اسے اپنی سیاسی بحالی کی علامت قرار دے سکتی ہے، تاہم موجودہ حالات میں صرف ایک جلسے کی بنیاد پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ پیپلز پارٹی پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کے لیے بڑا چیلنج بن چکی ہے۔

سیاسی حلقوں کی نظر اب 25 جولائی کے جلسے پر مرکوز ہے، کیونکہ یہی اجتماع اس بات کا عملی پیمانہ بنے گا کہ بلاول بھٹو زرداری پنجاب میں پارٹی کی نئی سیاسی حکمت عملی کو کس حد تک کامیاب بنا پاتے ہیں۔ اگر عوامی شرکت توقعات کے مطابق رہی تو یہ جلسہ پیپلز پارٹی کی پنجاب واپسی کا نقطۂ آغاز ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ کمزور عوامی ردعمل پارٹی کی تنظیمی مشکلات کو مزید نمایاں کر سکتا ہے۔

Back to top button