شہدا بارے بونگی، مولانا کو کیسے بھگتنا پڑی؟

دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ میں وطن پر جان نچھاور کرنے والے شہداء کی قربانیاں ہمیشہ قومی اتحاد، عزم اور قربانی کی علامت سمجھی جاتی رہی ہیں، تاہم جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے حالیہ بیان نے ایک نئی سیاسی اور عوامی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ شہادت کو تنخواہ اور ملازمت سے جوڑنے سے متعلق ان کے ریمارکس پر حکومتی اتحاد، اپوزیشن، پارلیمنٹ اور مختلف سیاسی حلقوں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا، جبکہ متعدد رہنماؤں نے اسے شہداء اور ان کے اہل خانہ کے جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف قرار دیا۔ دوسری جانب مولانا کے حامی مؤقف اختیار کر رہے ہیں کہ ان کے بیان کا مفہوم ریاست کی ذمہ داریوں کی نشاندہی کرنا تھا، نہ کہ شہداء کی قربانیوں کی نفی کرنا۔ اس تمام صورتحال نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ دہشتگردی جیسے حساس قومی معاملے پر سیاسی قیادت کو اپنے الفاظ کے انتخاب میں کس حد تک احتیاط برتنی چاہیے۔
مبصرین کے مطابق پاکستان ایک بار پھر دہشتگردی کے خلاف ایک فیصلہ کن مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں سکیورٹی فورسز روزانہ کی بنیاد پر دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں اور متعدد اہلکار وطن کے دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں شہداء کی قربانیوں سے متعلق ہر بیان نہ صرف سیاسی بلکہ قومی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔مولانا فضل الرحمن کے ایک عوامی اجتماع میں شہادتوں کو تنخواہوں اور ملازمت سے جوڑنے کی بات کرنے پر فوری طور پر شدید تنقید کی زد میں آ گئے۔ سیاسی مخالفین نے اسے شہداء کی عظیم قربانیوں کی توہین قرار دیا، جبکہ عوامی سطح پر بھی اس بیان پر مختلف آراء سامنے آئیں۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ فوجی جوانوں کی قربانی کو تنخواہ کا نتیجہ قرار دینا نہ صرف غیرمنصفانہ بلکہ شہداء اور ان کے خاندانوں کی دل آزاری ہے۔ وفاقی وزیر احسن اقبال نے بھی اسے کروڑوں پاکستانیوں کے جذبات مجروح کرنے والا بیان قرار دیا، جبکہ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ شہادت ایمان اور قربانی کا ایسا مقام ہے جسے دنیاوی مفادات سے نہیں جوڑا جا سکتا۔وفاقی وزیر طارق فضل چودھری، وزیر ریلوے حنیف عباسی اور ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی شہداء کے احترام کو قومی مفاد سے جوڑتے ہوئے زور دیا کہ سیاسی اختلافات کو قومی سلامتی کے معاملات سے الگ رکھا جانا چاہیے۔
دوسری جانب چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے متوازن مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی رہنماؤں کو شہداء کو سیاست میں نہیں گھسیٹنا چاہیے اور جوشِ خطابت میں الفاظ کے انتخاب میں احتیاط ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ مولانا فضل الرحمن کے اس بیان سے اتفاق نہیں کرتے۔
سیاسی ردعمل صرف بیانات تک محدود نہیں رہا بلکہ پنجاب اسمبلی میں بھی مولانا فضل الرحمن کے خلاف دو الگ الگ مذمتی قراردادیں جمع کرا دی گئیں۔ ان قراردادوں میں شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ قومی اداروں کے وقار کو مجروح کرنے والے بیانات کی حوصلہ شکنی کی جائے اور قومی سلامتی کے معاملات پر ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کیا جائے۔
دوسری طرف مولانا فضل الرحمن کے حامی یہ وضاحت کرتے ہیں کہ ان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔ ان کے مطابق مولانا کا مقصد شہداء کی قربانیوں کو کم تر ثابت کرنا نہیں بلکہ ریاست کی یہ ذمہ داری یاد دلانا تھا کہ وہ اپنے اہلکاروں کو مناسب تنخواہ، سہولیات اور تحفظ فراہم کرے۔ ان کے نزدیک قربانی اور شہادت اپنی جگہ ایک مقدس اور قابلِ احترام مقام رکھتی ہے۔
تاہم مبصرین کے مطابق اس تمام بحث نے ایک اہم حقیقت کو پھر اجاگر کیا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ صرف سکیورٹی فورسز کی نہیں بلکہ پوری قوم کی جنگ ہے۔ ایسے نازک حالات میں سیاسی قیادت کے بیانات قومی اتحاد کو مضبوط بنانے کا ذریعہ بننے چاہئیں، نہ کہ نئے تنازعات کو جنم دینے کا۔قومی سلامتی، شہداء کے احترام اور دہشتگردی کے خلاف جنگ جیسے معاملات پر سیاسی اختلافات کے باوجود مشترکہ مؤقف ہی ریاست کی طاقت بنتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین مسلسل اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سیاسی رہنماؤں کو ایسے حساس موضوعات پر ذمہ داری، احتیاط اور قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے گفتگو کرنی چاہیے تاکہ دہشتگردی کے خلاف قومی بیانیہ کمزور نہ ہو اور شہداء کی قربانیوں کا احترام ہر سطح پر برقرار رہے۔
