رینجرز اہلکار کا قتل: آزاد کشمیر میں بڑے آپریشن کا امکان

آزاد کشمیر میں کالعدم قرار دی جانے والی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے پرتشدد کارروائیوں میں ایک رینجرز اہلکار کے قتل کے بعد راولاکوٹ میں دھرنا دینے والے مظاہرین کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن کلین اپ کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ حکومتی ذرائع کے مطابق انتظامیہ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو شاہراہوں کی مکمل بحالی، سرکاری رٹ قائم کرنے اور مطلوب عناصر کی گرفتاری کے لیے جامع حکمت عملی پر عمل درآمد کی ہدایات جاری کر دی ہیں، جبکہ آزاد کشمیر حکومت نے قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کرتے ہوئے سابق مقدمات بھی دوبارہ فعال کر دیے ہیں۔
یاد رہے کہ راولاکوٹ میں تب کشیدگی انتہا پر پہنچ گئی جب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے وابستہ مسلح جتھوں نے شہری آبادی اور سکیورٹی فورسز پر فائرنگ کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ امن و امان کی صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے پولیس نے پیش قدمی کی تو اسے بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد پولیس کی معاونت کے لیے تعینات رینجرز اہلکار موقع پر پہنچے۔ حکام کے مطابق رینجرز کی نفری پر بھی شدید فائرنگ کی گئی، جسکے نتیجے میں ایک رینجرز اہلکار شہید جبکہ ایک اور اہلکار زخمی ہو گیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی اور حساس مقامات پر اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔
ادھر آزاد کشمیر حکومت نے ریاست میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے، جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں میں ملوث عناصر کے خلاف قانونی کارروائی مزید تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت نے کالعدم ایکشن کمیٹی کے خلاف پہلے سے درج مقدمات کی واپسی کا نوٹیفکیشن بھی منسوخ کر دیا ہے، جس کے بعد متعلقہ مقدمات دوبارہ فعال کر دیے گئے ہیں۔ میرپور پولیس کے مطابق مقدمات کی بحالی کے بعد نامزد ملزمان کی گرفتاریوں کا عمل شروع کر دیا گیا ہے اور مختلف علاقوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ قانون سے بالاتر کسی فرد یا گروہ کو رعایت نہیں دی جائے گی اور ریاستی رٹ ہر صورت برقرار رکھی جائے گی۔
دریں اثنا آزاد جموں و کشمیر کے سیکرٹری داخلہ چوہدری گفتار حسین نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے واضح کیا کہ تمام شاہراہوں کی مکمل کلیئرنس تک آپریشن جاری رہے گا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض عناصر پاکستان اور کشمیر کے تاریخی تعلقات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں اور کالعدم تنظیم کا اصل مقصد پاکستان مخالف بیانیے کو فروغ دینا ہے۔
سیکرٹری داخلہ کا کہنا تھا کہ راولاکوٹ میں شرپسند عناصر نے معصوم شہریوں پر بلااشتعال اندھا دھند فائرنگ کی، جبکہ تاجروں کو دھمکیاں دے کر بازار بند کرانے اور احتجاج کی آڑ میں دھونس، بلیک میلنگ اور پروپیگنڈے کی سیاست کو مستقل ہتھیار بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ طلبہ، خواتین اور بچوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنا انتہائی افسوسناک عمل ہے، تاہم آزاد کشمیر کے عوام نے ایسے انتشاری ایجنڈے کو مسترد کر دیا ہے۔ ان کے مطابق شاہراہوں کی مکمل بحالی اور امن و امان کی بحالی تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔ اسی دوران آزاد کشمیر کے سیکرٹری تعلیم نے بھی تعلیمی اداروں کے طلبہ و طالبات کو احتجاجی سرگرمیوں میں شامل کیے جانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تمام تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ طلبہ کو ہر قسم کی احتجاجی سرگرمی سے دور رکھا جائے تاکہ ان کی تعلیم متاثر نہ ہو اور انہیں کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے محفوظ رکھا جا سکے۔
دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے آزاد کشمیر کی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے بعض مطالبات ایسے تھے جنہیں کسی صورت تسلیم نہیں کیا جا سکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پورے ملک کے وسائل صرف آزاد کشمیر پر خرچ نہیں کیے جا سکتے کیونکہ وفاق کو تمام صوبوں اور خطوں کو ساتھ لے کر چلنا ہوتا ہے۔
خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ آزاد کشمیر میں بعض علاقوں میں احتجاج کرنے والے اور ریاستی ادارے آمنے سامنے آ گئے، جو افسوسناک صورتحال ہے، تاہم اس کی بنیادی وجہ کئی دہائیوں سے جاری بدانتظامی اور عوامی مسائل کا حل نہ ہونا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں بجلی پہلے ہی انتہائی رعایتی نرخوں پر فراہم کی جا رہی تھی اور وفاقی حکومت کی بڑی گرانٹس اسی مقصد کے لیے استعمال ہو رہی تھیں۔ البتہ ترقیاتی منصوبوں کے مطالبات پر بات ہو سکتی ہے اور ان کے لیے مرحلہ وار حکمت عملی بنائی جا سکتی ہے، لیکن پورے ملک کا بجٹ صرف ایک خطے پر خرچ نہیں کیا جا سکتا۔
سابق وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ معاملات اس وقت مزید خراب ہوئے جب بعض عناصر نے احتجاجی پلیٹ فارم سے پاکستان مخالف بیانیہ اختیار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مہاجرینِ کشمیر نے مسئلہ کشمیر کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں، اس لیے ان کی نمائندگی ختم کرنے کا مطالبہ قابل قبول نہیں ہو سکتا۔
خواجہ سعد رفیق کے مطابق مذاکرات کے دوران الحاقِ پاکستان سے متعلق بعض مطالبات بھی سامنے آئے، جنہیں کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ آٹھ دہائیوں کے دوران کشمیر کاز کے لیے بھاری سیاسی، سفارتی اور دفاعی قیمت ادا کی ہے اور آئندہ بھی اپنے مؤقف پر قائم رہے گا۔ راولاکوٹ میں حالیہ خونریز واقعے کے بعد سکیورٹی ادارے ہائی الرٹ ہیں اور حکومتی حلقوں میں یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ آئندہ چند روز میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں مزید تیز کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ریاست میں امن و امان کی مکمل بحالی تک آپریشن جاری رکھا جائے گا۔
