بیرسٹر گوہر خان رؤف کلاسرا کی نظروں سے کیوں گر گئے؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کا رؤف نے کہا ہے کہ وہ چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر خان کی بہت عزت کرتے تھے لیکن حال ہی میں جب قومی اسمبلی میں ان کی تقریر سنی تو وہ ان کی نظروں سے گر گئے۔
سینیئر صحافی اپنی تحریر میں لکھتے ہیں کہ پریس گیلری سے بیرسٹرگوہر خان کی تقریر سنتے ہوئے خیال آیا کہ ان 23 برسوں میں ایک ہی تقریر ہے جو ہمیشہ سے سنتا آ رہا ہوں اور ہر مرتبہ وہی تقریر یہاں دہرائی جاتی ہے۔ ایم کیو ایم کے اراکین قومی اسمبلی یہاں کھڑے ہو کر الطاف حسین کی قیادت اور اعلیٰ ظرفی کی وہ کہانیاں سناتے تھے کہ آنکھوں میں آنسو آجاتے تھے۔ پھر نواز شریف اور آصف زرداری کے حامی بھی ان کی عظمت کی قصے کہانیاں سناتے رہے۔ تب عمران خان ان سب کے حامیوں کا مذاق اڑاتے تھے کہ یہ زندہ لاشیں ہیں۔ ان کا موقف تھا کہ ایم کیو ایم، پیپلز پارٹی اور نواز لیگ والے جب تک الطاف حسین‘ نواز شریف اور آصف زرداری کے نام کی تسبیح نہ پڑھ لیں‘ یہ نہ تو ٹی وی پر بات کر سکتے ہیں اور نہ ہی اسمبلی میں تقریر کر پاتے ہیں۔ لیکن اب وہی سلسلہ خان کی پارٹی نے بھی شروع کر دیا ہے۔
رؤف کلاسرا کہتے ہیں کہ اگر آپ نے اسمبلی میں تقریر کرنی ہے تو آپ کو عمران خان کے نام سے سٹارٹ لینا پڑے گا۔ اگر آپ کی تقریر میں ان کا نام بار بار نہیں آرہا اور آپ ان کو کریڈٹ نہیں دے رہے تو آپ کا سیاسی کیریئر ختم ہے۔ اس لیے جب بیرسٹر گوہر خان مسلسل خان کے نام کی تسبیح پڑھ رہے تھے تو مجھے عمران کی ایم کیو ایم والوں پر کسی گئی زندہ لاشوں والی پھبتی یاد آ رہی تھی۔ میں یہ بھی سوچ رہا تھا کہ بعض اوقات بڑے پڑھے لکھے لوگ بھی محض اپنی سیٹ بچانے کیلئے کیا کیا گفتگو اور حرکتیں کرتے ہیں۔ میری پی ٹی آئی میں جن چند لوگوں کے بارے میں اچھی رائے رہی تھی‘ ان میں بیرسٹر گوہر خان بھی شامل تھے لیکن ان کی اسمبلی میں کی گئی تقریر سے اندازہ ہوا کہ وہ بھی اس رنگ میں رنگے گئے ہیں جہاں آپ کو بادشاہ کی ہر صورت خوشامد کرنا پڑتی ہے اور ایسی خوشامد کہ الامان۔
کلاسرا بتاتے ہیں کہ اسمبلی میں اچھی خاصی تقریر کرتے کرتے پتا نہیں بیرسٹر گوہر خان کے پاس کون سی پرچی آئی کہ موصوف کہنے لگے کہ پاکستانی مائیں جتنا پیار عمران خان سے کرتی ہیں اتنا وہ اپنے بچوں سے بھی نہیں کرتیں۔ اب یہ سن کر ہر طرف ایک سناٹا سا چھا گیا کہ واقعی پاکستانی ماؤں کے نزدیک عمران خان زیادہ عزیز ہے۔ بیرسٹر گوہر کو لگا کہ شاید ابھی خوشامد مکمل نہیں ہوئی۔ چنانچہ انہوں نے اسی سانس میں فرمایا: پاکستانی مائیں عمران خان اور بشریٰ بی بی کے لیے جو دعائیں مانگتی ہیں وہ اپنی سگی اولاد کیلئے بھی نہیں مانگتیں۔ ہو سکتا ہے کہ وہ سچ کہہ رہے ہوں کہ کچھ مائیں واقعی عمران کو اپنے بچوں سے بھی زیادہ عزیز سمجھتی ہوں لیکن بڑا سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کی سب مائیں ایسی ہیں جنہیں اپنی اولاد سے زیادہ عمران خان یا بشریٰ بیگم عزیز ہیں؟
کلاسرا کہتے ہیں کہ خوشامد کے اس کلچر سے یاد آیا کہ برسوں پہلے نواز شریف کی حکومت بنی تو ایک سینیٹر جو اپنی سیدھی اور کھری کھری گفتگو کیلئے مشہور تھے‘ انہیں وزیر نہ بنایا گیا۔ وہ بھی اپنے مزاج کی وجہ سے ان چیزوں کے زیادہ شوقین نہ تھے کیونکہ وہ جو بات ٹھیک سمجھتے تھے وہ منہ پر کہہ دیتے تھے۔ یار دوستوں نے انہیں سمجھایا کہ ذرا زبان پر قابو رکھا کریں‘ آپ بھی تھوڑی سی خوشامد کر لیا کریں۔ میاں صاحب کو منہ پر ہر بات نہ کہہ دیا کریں‘ انہیں خوش کرنے کیلئے چند تعریفی الفاظ کہنے میں کوئی حرج نہیں۔ وہ صاحب اگرچہ راضی نہ تھے لیکن سب کے اصرار پر مان گئے کہ چلیں شاید ایسا کرنے سے کابینہ میں ان کی کوئی جگہ بن جائے۔ کچھ عرصے بعد وہ پارلیمانی پارٹی کے ایک اجلاس میں شریک تھے۔ سب ارکان نے باری باری میاں صاحب کی تعریفیں شروع کر دیں۔ خیر ان صاحب کی باری آئی تو وہ کچھ دیر تک میاں نواز شریف کی تعریف کرتے رہے لیکن انہیں محسوس ہوا کہ بات بن نہیں رہی۔ چنانچہ وہ اچانک پُرجوش انداز میں بولے: میاں صاحب! آپ عوام میں اتنے ذیادہ مقبول ہیں کہ آپ کے مخالفین آپ تک نہیں پہنچ سکتے۔ یقین کریں اگلا الیکشن بھی آپ ہی جیتیں گے‘ آپ کو کوئی مائی کا لعل نہیں ہرا سکتا‘ اگلی بار بھی آپ ہی وزیراعظم بنیں گے۔ جونہی وہ سانس لینے کو رکے تو ایک اور صاحب‘ جو میاں صاحب کے قریب تھے‘ وہ اچھل کر بولے: صاحب! کیا بات کرتے ہیں؟ صرف اگلا الیکشن…؟ میاں صاحب اب تاحیات الیکشن جیتیں گے‘ اب یہ عمر بھر کے لیے ہمارے وزیراعظم ہیں۔ یہ سن کر میاں صاحب کے چہرے پر خوشی پھیل گئی اور انہوں نے ان صاحب کو زور سے گھورا جو انہیں صرف اگلا الیکشن ہی جتوا رہا تھا۔
سانحہ 9 مئی کا سبق: فوج کو لاڈلے پالنے سے گریز کرنا ہوگا
رؤف کلاسرا کہتے ہیں کہ مجھے پی ٹی آئی والوں سے ہمدردی ہو رہی ہے کہ بیرسٹر گوہر کے اس حیران کن چھکے کے بعد کہ عمران کو پاکستانی مائیں اپنی اولاد سے زیادہ پیار کرتی ہیں اور اس سے زیادہ دعائیں دیتی ہیں‘ وہ کیا نیا سکور کریں گے۔ ہے کوئی پی ٹی آئی میں جو بیرسٹر گوہر خان سے آگے نکل کر ہٹ مارے اور بال میدان ہی سے باہر پھینک دے؟
