عمران نے جوکر اور ڈرٹی ویڈیو والے کو بڑے عہدوں کے لیے کیوں چنا؟

یوٹرن خان کہلانے والے تحریک انصاف کے بانی عمران خان نے جس محمود خان اچکزئی کو کرپٹ قرار دے کر اپنے 8 رشتہ داروں کو دھاندلی سے اسمبلی تک پہنچانے کے الزام عائد کیے تھے، اب اسے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نامزد کرتے ہوئے ایک اور بڑا یوٹرن لیا ہے۔ یاد رہے کہ خان صاحب ماضی میں بطور وزیراعظم اچکزئی کو چادر اوڑھنے پر جوکر قرار دے کر ان کی نقلیں اتارتے رہے ہیں۔
دوسری جانب عمران خان نے سینیٹ میں اعظم سواتی کو اپوزیشن لیڈر نامزد کیا ہے جو امریکہ میں ایک بڑے مالی فراڈ میں پہلے مطلوب اور پھر مفرور ہونے کے بعد پاکستان بھاگ آئے تھے۔ سواتی صرف اور صرف پیسے کے زور پر خان کے قریب ہوئے۔ انکی ججز کے ایک گیسٹ ہاؤس میں سیکس کرتے ہوئے برہنہ ویڈیو بھی سامنے آ چکی ہے۔ ویڈیو کے مارکیٹ ہونے کے بعد سواتی نے ایک پریس کانفرنس میں روتے ہوئے یہ دعوی کیا تھا کہ ویڈیو میں نظر آنے والی خاتون ان کی شریک حیات ہے، تاہم وہ اس سوال کا جواب نہیں دے پائے تھے کہ اس عمر میں گھر والی کے ساتھ سیکس کرنے کے لیے انہیں ججز گیسٹ ہاؤس میں جانے کی کیا سوجھی جب کہ وہ ارب پتی ہیں اور کسی بھی فائیو سٹار ہوٹل میں ٹھہر سکتے تھے۔
اعظم سواتی نے یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ خفیہ ایجنسیوں نے ان کی سیکس کرتی ویڈیو انکی بیٹی کو بھی واٹس ایپ کر دی تھی۔ تاہم پارٹی قیادت کے مطابق بانی نے سواتی کی تقرری میرٹ پر کی ہے اور اس فیصلے کا ان کی مالی حیثیت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
عمران خان کی جانب سے قومی اسمبلی اور سینٹ میں اپوزیشن لیڈرز کی نامزدگیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب خان کو 9 مئی کے حملوں میں انسداد دہشت گردی کی عدالت سے سزا ملنے کے بعد نہ صرف قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا بلکہ انہیں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی سمیت تمام قائمہ کمیٹیوں سے بھی فارغ کر دیا گیا تھا۔ لیکن عمران کی جانب سے محمود اچکزئی کی نامزدگی کے بعد سوشل میڈیا پر ان کی پرانی ویڈیوز ایک بار پھر وائرل ہو رہی ہیں، جن میں وہ اچکزئی کے سٹائل میں چادر اوڑھ کر ان کا مذاق اڑاتے دکھائی دیتے ہیں۔
ایسی ہی ایک وائرل ویڈیو میں عمران خا نے اپنی تقریر میں محمود خان اچکزئی کے چادر اوڑھنے کے انداز پر تبصرہ کرتے ہوئے انہیں ’جوکر‘ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ کچھ عرصے کے لیے تو میں بھی اس جوکر کے ہاتھوں پاگل بن گیا تھا اور اس کی عزت کرنے لگا تھا۔ عمران نے الزام عائد کیا کہ اچکزئی ایک کرپٹ شخص ہے جس نے اپنے 8 رشتہ دار کو دھاندلی کے زور پر اسمبلی میں پہنچا دیا اور اپنے بھائی کو گورنر بنوا دیا ہے۔ ان ویڈیوز کے وائرل ہونے کے بعد ناقدین عمران خان کو ڈبل سٹینڈرڈز والا سیاستدان قرار دے رہے ہیں۔
دوسری جانب تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے سنی اتحاد کونسل کے ارکان قومی اسمبلی بلوچستان کے ایک رکن قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن کا امیدوار نامزد کرنے پر حیرت اور مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس فیصلے سے ان کی صفوں میں پھوٹ پڑنے کے آثار نمایاں ہو گئے ہیں چونکہ محمود اچکزئی کے علاوہ ان کی جماعت میں کوئی دوسرا بندہ نہیں ہے۔ یاد رہے کہ نااہل قرار دیے جانے والے عمر ایوب خان تحریک انصاف کے مرکزی لیڈر تھے جبکہ محمود اچکزئی کا تحریک انصاف سے کوئی تعلق نہیں اور وہ ماضی میں عمران خان حکومت کے سب سے بڑے ناقد تھے۔
تحریک انصاف کے باخبر ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے ذیادہ تر ارکان قومی اسمبلی نے نہ صرف محمود خان اچکزئی بلکہ اعظم سواتی کی بطور اپوزیشن لیڈر نامزدگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے تقرر میں سپیکر ایاز صادق جب کہ سینیٹ میں چیئرمین یوسف رضا گیلانی کو صوابدیدی اختیارات حاصل ہیں۔ جب تک ان دونوں ایوانوں کے پریذائیڈنگ افسران یعنی ایاز صادق اور گیلانی کی طرف سے ارکان پارلیمنٹ کو اپوزیشن لیڈر کے لئے دستخطوں کے ساتھ اپنے پسندیدہ رکن کی نامزدگی کا نہیں کہا جاتا تب تک کسی نئے اپوزیشن لیڈر کا فیصلہ نہیں ہو سکتا۔
عمران خان کی جانب سے سینیٹ میں شبلی فراز کی جگہ اپوزیشن لیڈر کے عہدے کے لیے نامزد کردہ اعظم خان سواتی کا تعلق ہزارہ سے ہے۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پختون ہارٹ لینڈ سے تعلق رکھنے والے شبلی فراز کی جگہ نان پختون علاقے سے تعلق رکھنے والے سواتی کی نامزدگی بھی تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے ارکان کی بے چینی میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔ مبصرین کا استدلال ہے کہ تحریک انصاف اس وقت قحط الرجال کا شکار ہے، یہی وجہ ہے کہ اسے اپنی صفوں میں سے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے لئے کسی رکن کو امیدوار بنانا بھی نصیب نہیں ہو رہا۔ قبل ازیں قومی اسمبلی کے سابق سپیکر اسد قیصر اور موجودہ چیف وہپ عامر ڈوگر کے نام لئے جا رہے تھے کہ ان میں سے کوئی قائد حزب اختلاف بن سکتا ہے۔ عامر ڈوگر کے نام پر عمومی مفاہمت بھی ہو گئی تھی جس کے بعد اسد قیصر نے خود کو دوڑ سے الگ کر لیا تھا، لیکن پھر اچانک بانی کی جانب سے اچکزئی کو بطور اپوزیشن لیڈر نامزد کیا جانا ایک عجیب فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ اچکزئی کو پچھلے برس آصف زرداری کے مقابلے میں تحریک انصاف کی جانب سے صدارت کا امیدوار بھی بنایا گیا تھا لیکن انہیں بری طرح شکست ہوئی تھی۔
