ایران نے امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کو نشانہ کیوں بنایا؟

تہران نے امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنانے کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے اوپر پیش آنے والے واقعے میں ایران کا کوئی دانستہ کردار نہیں تھا۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کو جان بوجھ کر نشانہ نہیں بنایا گیا اور اس واقعے کے پیچھے ایران کا کوئی ہاتھ نہیں تھا۔

 کاظم غریب آبادی کا مزید کہنا تھا کہ خطے میں جاری کشیدگی اور عسکری تناؤ کے باعث اس نوعیت کے واقعات بعض اوقات غیر ارادی طور پر بھی رونما ہو سکتے ہیں، تاہم ایران نے کسی منصوبہ بندی کے تحت ایسی کارروائی نہیں کی۔ کاظم غریب آبادی کے مطابق موجودہ سکیورٹی صورتحال میں غلط فہمیوں اور غیر متوقع واقعات کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، جس کے باعث بعض اوقات واقعات کی مختلف تشریحات سامنے آتی ہیں۔ایرانی نائب وزیر خارجہ نے واقعے کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ حساس علاقائی حالات میں احتیاط اور تحمل کی ضرورت ہے تاکہ کشیدگی میں مزید اضافہ نہ ہو۔

خیال رہے کہ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی حکام اپاچی ہیلی کاپٹر کے واقعے کو ایران سے منسوب کر رہے ہیں، جبکہ تہران مسلسل اس الزام کی تردید کر رہا ہے۔ واقعے کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور مختلف حلقوں کی جانب سے اس معاملے کی وجوہات اور حقائق جاننے کیلئے تحقیقات پر زور دیا جا رہا ہے۔

Back to top button