اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرانے کے بعد امریکا کا ایران پر حملہ اور ایران کا جوابی وار

امریکی فوجی اپاچی ہیلی کاپٹر گرائے جانے کے واقعے کے بعد امریکا نے ایران کے خلاف عسکری کارروائیاں کرتے ہوئے ایران پر جوابی حملے شروع کر دئیے ہیں۔ جس کے نتیجے میں جنوبی ایران کے مختلف علاقوں میں دھماکوں اور میزائل حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے تصدیق کی ہے کہ یہ کارروائی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایات پر کی گئی۔ امریکی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کے قریب ایران کے ریڈار سسٹمز اور فضائی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ سینٹ کام کے بیان کے مطابق امریکی افواج نے جزیرہ قشم اور سیریک کے علاقوں میں مخصوص فوجی اہداف پر حملے کیے۔ امریکی مؤقف ہے کہ یہ کارروائی گزشتہ روز امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنائے جانے کے ردعمل میں کی گئی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق صوبہ ہرمزگان کے مشرقی علاقوں، سیریک، جزیرہ قشم، بندرعباس، جاسک اور کوہ مبارک کے اطراف زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس سے مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ایرانی خبر رساں ایجنسی "مہر” کے مطابق بندرگاہی شہر جاسک کے قریب بھی متعدد دھماکے ہوئے، جن کی تصدیق مقامی ذرائع اور رہائشیوں نے کی۔ تاہم فوری طور پر ان حملوں کی مکمل نوعیت اور نقصانات کی تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔رپورٹس کے مطابق بعض حساس تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، جبکہ ایرانی سرکاری میڈیا نے کہا ہے کہ جزیرہ قشم کی کسی تجارتی بندرگاہ یا تجارتی تنصیب کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ایرانی حکام کے مطابق سیریک کے علاقے بامانی میں واقع پانی ذخیرہ کرنے والے دو ٹینک حملوں کی زد میں آ گئے، جس کے نتیجے میں مقامی آبادی کو پینے کے پانی کی فراہمی متاثر ہوئی۔ متعلقہ اداروں نے متاثرہ علاقوں میں بحالی کے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ امریکی حملوں کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ ایرانی سرکاری میڈیا کا دعویٰ ہے کہ ایران نے بھی خطے میں امریکی اہداف کے خلاف میزائل اور ڈرون کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔
اس حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکا اپنے فوجی اثاثوں پر حملے کو نظرانداز نہیں کر سکتا۔ ان کے مطابق اپاچی ہیلی کاپٹر گرائے جانے کے بعد جوابی کارروائی ناگزیر تھی اور ایران کو سخت جواب دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ ایک روز قبل صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ آبنائے ہرمز کے قریب گشت کرنے والے امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کو مار گرایا گیا، تاہم ایران نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس واقعے سے تہران کا کوئی تعلق نہیں۔
