آزاد کشمیر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کے بعد حالات ابتر کیوں ہو گئے؟

آزاد کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کے ردعمل میں حکومت کی جانب سے جوابی کارروائیوں کے بعد حالات ابتر ہونے لگے ہیں۔ کشمیر کی حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات کے بعد کئی اہم مطالبات تسلیم کر لینے کے باوجود احتجاج جاری ہے۔ عوامی ایکشن کمیٹی نت نئے مطالبات پیش کر رہی ہے جن کی کل تعداد اب 38 ہو چکی ہے۔
آزاد کشمیر حکومت نے مظاہرین کے رابطے توڑنے کے لیے انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی ہے تاہم ریاست گیر شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات پر بات چیت کی حامی بھرتے ہوئے ان سے احتجاج ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔ مسلم لیگ ن کے کشمیر کے سینیئر عہدے دار اور سابق وزیر اطلاعات مشتاق احمد منہاس کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے عوامی ایکشن کمیٹی کو اپنی ہڑتال منسوخ کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر حکومت نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے تقریباً 98 فیصد مطالبات مان لیے تھے، صرف دو مطالبات پر ڈیڈ لاک چل رہا ہے لیکن وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ وہ جیسے ہی پاکستان پہنچیں گے ایکشن کمیٹی سے خود ملاقات کریں گے۔
مشتاق منہاس کے مطابق وزیر اعظم نے اپیل کی کہ عوامی ایکشن کمیٹی پاکستان اور کشمیر کے وسیع تر مفاد میں شٹر ڈاؤن ہڑتال اور احتجاج منسوخ کر دیں کیونکہ اس سے بھارت کو پاکستان کے خلاف پروپگنڈا کرنے کا موقع مل رہا ہے۔ تاہم ایکشن کمیٹی نے ابھی تک وزیر اعظم کی اپیل پر کان نہیں دھرا۔ دوسری طرف کشمیر کے مختلف اضلاع میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کو کامیاب بنانے کے لیے عوامی ایکشن کمیٹی کے ارکان اور کارکن سرگرمی سے مہم چلا رہے ہیں۔ آزاد کشمیر حکومت نے ریاست بھر میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز بند کر رکھی ہے۔ ماضی کے برعکس اس مرتبہ فائبر انٹرنیٹ سروسز بھی بند کر دی گئی ہے، جس کے بعد سے شہریوں کے ریاست سے باہر رابطے منقطع ہو کر رہ گئے۔
جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے سرکردہ رکن شوکت نواز میر نے مظفرآباد سے ایک ویڈیو بیان میں کہا یے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ میں خود آ کر مسائل دیکھنا چاہتا ہوں لہذا احتجاج کال آف کریں، لیکن میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ انٹرنیٹ سروس بند کر کے آپ نے ہمیں جس طرح بند گلی میں دھکیلنے کی کوشش کی ہے اسکا ذمہ دار کون ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’اگر وزیراعظم نے واقعی یہ بیان دیا ہے تو انہیں انٹرنیٹ سروس بحال کرنا پڑے گی تاکہ ہم اپنے اگلے لائحہ عمل کا اعلان کر سکیں۔
یاد رہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے حکومت کے سامنے 38 مطالبات پر مبنی ایک چارٹر آف ڈیمانڈز رکھا ہے جس میں اشرافیہ کی مراعات کا خاتمہ اور پاکستان میں مقیم مہاجرین کے لیے کشمیری قانون ساز اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے کے مطالبات شامل ہیں۔ ان مطالبات پر مذاکرات کے لیے 25 ستمبر کو وزیر امور کشمیر امیر مقام اور وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری مظفرآباد پہنچے تھے۔ لیکن عوامی ایکشن کمیٹی سے طویل مذاکرات بے نتیجہ ختم ہوئے۔ تاہم حکومتی کمیٹی کا کہنا تھا کہ ایکشن کمیٹی کے قابل عمل مطالبات کو فوری طور پر تسلیم کر لیا گیا تھا، کچھ مطالبات ایسے تھے جن پر عمل آئینی ترامیم کے بغیر ممکن نہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ وہ دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی قائل کریں۔
واضح رہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں گزشتہ دو برس سے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے وقفوں وقفوں سے بڑے احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ یہ مظاہرے آٹے کی سبسڈی، مہنگی بجلی، اشرافیہ کی مراعات کے خاتمے سمیت کچھ اہم نکات پر مرکوز تھے۔ ان احتجاجوں کے دوران ایک سے زائد مرتبہ پولیس اور مظاہرین میں تصادم بھی ہوئے۔ مئی 2024 میں احتجاج کے دوران مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان تصادم کے نتیجے میں تین شہری اور ایک پولیس اہلکار کی شہادت بھی ہوئی تھی۔گزشتہ دو برس کے دوران کشمیر کی مقامی حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہوئے اور مظاہرین کے کئی اہم مطالبات تسلیم بھی کر لیے گئے اور کچھ مطالبات کی منظوری کے بعد حکومت نے ان کے نوٹیفکیشنز بھی جاری کیے۔ تاہم عوامی ایکشن کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ ماضی قریب کے معاہدوں اور کچھ نوٹیفکیشنز پر حکومت نے عمل نہیں کیا ہے۔
