کپتان جہانگیر ترین کو بیٹے سمیت اندر کیوں کرنا چاہتے ہیں؟

معروف اینکرپرسن اور سینئر صحافی سلیم صافی نے انکشاف کیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے علاوہ اپنے سابقہ دست راست جہانگیر خان ترین کو بھی انکے بیٹے سمیت جیل بھیجنا چاہتے ہیں تاکہ وہ اپنے خلاف مجوزہ تحریک عدم اعتماد میں اپوزیشن کا ساتھ نہ دے سکیں۔
انکا کہنا تھا کہ اگر وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد آتی ہے تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ حکومتی بینچز سے بھی بڑی تعداد میں ممبران قومی اسمبلی کپتان کے خلاف چلے جائیں گے لہذا ان کے لیے اپنا اقتدار بچانا محال ہوجائے گا۔
جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے صافی کا کہنا تھا کہ (ن) لیگ میں اس وقت ایک اطمینان کی سی کیفیت نظر آرہی ہے اور میاں نواز شریف بھی کافی حد تک مطمئن نظر آرہے ہیں کہ تحریک عدم اعتماد میں ایمپائر نیوٹرل رہے گا، آصف زرداری کا حال یہ ہے کہ وہ اطمینان کا سمندر بنے ہوئے ہیں جب کہ مولانا فضل الرحمٰن بھی بڑی حد تک مطمئن نظر آرہے ہیں۔
لہذا اگر کسی شخص کے لئے پریشانی کا ماحول ہے تو وہ عمران خان ہیں۔ سلیم صافی کا کہنا تھا کہ عمران خان شہباز شریف کی طرح جہانگیر ترین کو بھی اندر کروانا چاہتے ہیں تاہم وہ اب تک باہر پھررہے ہیں اور ان کا جہاز بھی ادھر ادھر گھوم رہا ہے.
انکے مطابق اس مرتبہ جو کچھ ہورہا ہے وہ انتہائی رازداری کے ساتھ ہورہا ہے، حد تو یہ ہے کہ جو بھی معاملات ہیں وہ پارٹی قائدین اپنے قریب ترین ساتھیوں سے بھی شیئر نہیں کر رہے کیونکہ قزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانا مذاق نہیں ہوتا اور تھوڑی سی بھی بھول چوک ہو جائے تو ایسی تحریک ناکامی کا شکار ہو سکتی ہے۔
اپوزیشن کو 172 کا نمبر حاصل کرنے کے لیے اشارے کا انتظار
صافی نے کہا کہ حکومت کی صفوں میں اس وقت جو کھلبلی اور بے چینی ہے، وہ بھی اس بات کی غماز ہے۔ شاید اس لیے عمران نے اپنے وزراء میں بہترین کارکردگی کے ایوارڈ بھی تقسیم کردیے ہیں، لیکن مولانا فضل الرحمان نے بالکل درست فرمایا ہے کہ ایوارڈز تو ہمیشہ میچ کے اختتام پر ہی دیے جاتے ہیں اس لیے ان کو بھی لگ رہا ہے کہ شاید دی گیم فار عمران خان از اوور۔
سلیم صافی کا کہنا تھا کہ کچھ چیزیں ایسی ہیں جو اسٹیبلشمنٹ کے غیر جانبدار ہونے کا ثبوت ہیں۔ ان میں سے ایک وزیراعظم کے قریبی ساتھی فیصل واؤڈا کے خلاف الیکشن کمیشن کا نااہلی کا فیصلہ ہے۔ انکا۔کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں جہانگیر ترین ایک بڑے سیاسی کھلاڑی کے طور پر نظر آرہے ہیں کیونکہ تحریک انصاف میں زیادہ تر الیکٹیبلز کو جہانگیر ترین ہی لالچ دے کر لائے تھے لیکن وزیراعظم بننے کے بعد عمران خان اپنے محسنوں کے ساتھ ہی سیدھا ہوگئے۔
اب جب کہ عمران جانتے ہیں کہ جہانگیر ترین اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد میں ان کے خلاف فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں تو ان کی خواہش ہے کہ ترین کو ان کے بیٹے سمیت جیل میں ڈال دیا جائے۔ سلیم صافی نے کہا کہ و لوگ جنہیں کہ جہانگیر ترین اپنے طیارے میں بٹھا کر لائے تھے وہ اب انہیں اسی جہاز میں واپس کہیں اور بھی لے جا سکتے ہیں۔
