اپوزیشن کو 172 کا نمبر حاصل کرنے کے لیے اشارے کا انتظار

معروف صحافی اور تجزیہ کار فہد حسین نے کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کو عمران خان کی حکومت ختم کرنے کے لیے قومی اسمبلی میں 172 ووٹوں کی ضرورت ہے لیکن اس جادوئی ہندسے تک پہنچنے کے لیے المشہور اشارہ چاہیے ہوگا جو ابھی واضح انداز میں کہیں نظر نہیں آیا۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں فہد کہتے ہیں کہ اپوزیشن کو 172 اراکین کی حمایت حاصل کرنے کے لیے یا تو حکومتی اتحادیوں کو اس سے علیحدہ کرنا ہوگا یا پھر حکومتی جماعت کے کچھ اراکین قومی اسمبلی کو توڑنا ہوگا۔

انکا کہنا یے کہ اتحادیوں کا دوسری جانب چلے جانا حالات کی پیچیدگی کو سہل کر دے گا لیکن اس کے لئے انہیں المشہور ‘اشارہ’ چاہیے جسکا ہنوز انتظار ہے۔ یقیناً اتحادی جماعتیں اپوزیشن کے ساتھ تال میل بڑھا رہی ہیں جس سے یہ تاثر قوی ہو رہا ہے کہ شاید کہیں کوئی خفیہ اشارہ موجود ہے جو کھل کر نہیں کیا جا رہا۔

فہد حسین کہتے ہیں کہ اراکین قومی اسمبلی کو توڑنے کے لئے PMLN کو ان سے اگلے انتخابات کے لئے ٹکٹوں کے وعدے کرنا ہوں گے۔ اگرچہ PMLN کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال کہہ چکے ہیں کہ پارٹی ایسے حلقوں میں ان درخواستوں پر غور کر رہی ہے جہاں اس کے اپنے امیدوار مضبوط نہیں لیکن اس کے لئے بھی ٹھوس گارنٹیاں چاہیے ہوں گی خصوصاً ایک ایسے وقت میں کہ جب حکومت بھی ان ناراض اراکین کو حکومتی بنچز سے باندھے رکھنے کے لئے اپنے ترکش میں موجود ہر حربہ استعمال کرنے کو تیار ہے۔ فہد کے مطابق اہم ترین سوال یہ ہے کہ عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کامیاب ہونے کی صورت میں کیا ہوگا.

اسکا جواب بظاہر ابھی اپوزیشن جماعتیں بھی نہیں جانتیں۔ پی ڈی ایم کی مشاورت شاید خیالات میں کچھ یکسوئی لا سکے لیکن PPP اس کا حصہ نہیں اور یہ کسی بھی کارروائی کو نتیجہ خیز بنانے میں کلیدی کردار رکھتی ہے۔ وہ جماعتیں جو سمجھتی ہیں کہ تحریک کی کامیابی کی صورت میں اگلی حکومت کو اکتوبر 2023 کے انتخابات تک چلتے رہنا چاہیے، PMLN کو قائل نہیں کر سکی ہیں کہ یہ اس کے لئے بھی فائدہ مند ہوگا۔

فہد حسین کے بقول دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان بھی فارغ نہیں بیٹھے۔ انہوں نے ان منظرناموں پر پورا غور کیا ہے۔ بطور وزیر اعظم وہ بھلے کامیاب نہ ہوئے ہوں لیکن اپوزیشن میں وہ بہت خطرناک تھے۔ اور اب اور بھی خطرناک ہوں گے جب کہ وہ ایک بار طاقت کا مزہ چکھ چکے ہیں اور انہوں نے سسٹم کو اندر سے جان لیا ہے۔ وہ باآسانی راستے سے ہٹائے نہیں جا سکتے۔ انکا کہنا یے کہ شاہد خاقان عباسی ایک ایسے شخص ہیں جو سیدھی سیدھی بات کرنے کے عادی ہیں۔

پنجاب کی وزارت اعلیٰ چوہدری برادران کو آفر کر دی گئی؟

حالیہ ہفتوں میں انہوں نے بارہا کہا ہے کہ ایک وزیر اعظم کی موجودگی میں اس کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کامیاب کروانا آسان کام نہیں۔ اس ضمن میں ان کا ماننا ہے کہ جب تک اسٹیبلشمنٹ غیر جانبدار نہیں ہوتی، تحریکِ عدم اعتماد کامیاب ہونے کے امکانات روشن نہیں۔ لہٰذا اس داؤ میں وقت کی بہت اہمیت ہے۔ وقت کا تعین غیر جانبداری کے تجزیے پر مبنی ہوگا۔

حال ہی میں سینیٹ میں ہمیں اپوزیشن کی بازی الٹنے کا ایک نظارہ دیکھنے کو ملا۔ کچھ لوگوں سے بات چیت کے بعد سامنے آنے والی تازہ اطلاعات کے مطابق سٹیٹ بینک بل پر سینیٹ ووٹنگ کے دوران کچھ عجیب ہوا تھا۔ اپوزیشن نے تعداد کا کھیل مکمل کر رکھا تھا۔ انہوں نے دلاور خان گروپ کو دوسری طرف کا حصہ ہی تصور کیا تھا گو کہ وہ اپوزیشن بنچز پر بیٹھتا ہے۔

ان سینیٹرز کے ناموں پر بھی کانٹا لگا دیا گیا تھا جو سفر کر رہے تھے یا علاج کی غرض سے سینیٹ میں حاضر ہونے سے قاصر تھے۔ آخر میں ان کے پاس ایک نمبر آیا۔ اور اس نے ان کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیر دیں۔ بقول فہد، یہ مسکراہٹ اس لئے تھی کہ انہیں لگتا تھا کہ اس بل کو ناکام بنانے کے لئے ان کے پاس مطلوبہ تعداد موجود ہے۔

ایسا آسان نہیں تھا۔ ابتدا میں دو درجن سینیٹرز سے رابطہ ممکن نہیں ہو پایا تھا۔ پھر پارٹی لیڈران سے رابطہ کر کے کہا گیا کہ وہ ان سینیٹرز سے بات کر کے ایوانِ بالا میں ووٹنگ کے دن ان کی حاضری یقینی بنائیں۔ ان لیڈران نے اپنے سینیٹرز سے دوٹوک انداز میں بات کی۔ ووٹنگ کا دن بھی کوئی اچانک نہیں طے ہوا تھا جیسا کہ بعد ازاں اپوزیشن میں بہت سے لوگوں نے دعویٰ کیا۔ IMF کی ڈیڈ لائن قریب آ رہی تھی اور یہ صاف تھا کہ حکومت کسی بھی دن ووٹنگ کروا سکتی ہے۔ اپوزیشن کو تیار ہونا چاہیے تھا۔ اس کے پاس کچھ اندر کی اطلاعات بھی تھیں۔

فہد حسین بتاتے ہیں کہ ووٹ سے ایک دن قبل سینیٹ سیکرٹریٹ نے PTI اراکینِ سینیٹ کو ہوائی جہاز کی ٹکٹیں جاری کرنا شروع کر دی تھیں۔ اس سے منصوبے کا پتہ چل گیا تھا۔ اپوزیشن کے متحرک اراکین نے اس کی سن گن پا لی اور اپنے ساتھیوں کو اطلاع دے دی۔ ووٹنگ ہونے والی تھی۔ جب اپوزیشن نے اپنے تمام اراکین سے رابطہ کر کے ان کی حاضری یقینی بنا لی تو اس کی تعداد 45 تک پہنچ چکی تھی۔

امید تھی کہ یہ تعداد حکومت کا راستہ روکنے کے لئے کافی ہوگی۔ پھر اچانک ایک عجیب چیز ہوئی۔ اپوزیشن کے ایک MNA نے اسلام آباد سے کراچی جاتے ہوئے دیکھا کہ ایک اپوزیشن سینیٹر بھی ان کے ساتھ اس جہاز میں موجود تھے۔ وہ حیران رہ گئے۔ ایک سینیٹر اسلام آباد سے کیسے جا سکتا تھا جب کہ اتنی اہم ووٹنگ ہونے والی تھی؟ جہاز سے اتر کر اس MNA نے اپنے ساتھیوں کو فون کر کے سینیٹر صاحب کی کراچی آمد بارے اطلاع دی۔ یہ سینیٹر صاحب 45 میں سے ہی ایک تھے۔

بقول فہد، ووٹنگ کے دن اپوزیشن کی طرف سے 43 ووٹ ڈالے گئے اور حکومت کی جانب سے بھی اتنے ہی ووٹ پڑے۔ پھر سینیٹ چیئرمین نے اپنا ووٹ حکومتی بل کے حق میں ڈال دیا اور یوں بل پاس ہو گیا۔ اپوزیشن کے 45 ووٹوں سے اس روز فتح ہو سکتی تھی۔ دو سینیٹرز لیکن ایوانِ بالا میں نہ پہنچے۔

ان میں سے ایک اپوزیشن لیڈر یوسف رضا گیلانی تھے۔ دوسرے وہ سینیٹر جو اسلام آباد سے جہاز میں کراچی جا رہے تھے۔ ان کا تعلق JUI-F سے تھا۔ یوں 45 کا جادوئی ہندسہ ایک چٹکی بجنے پر غائب ہو گیا۔ لہذا اپوزیشن کو 172اراکین اسمبلی کی حمایت تب ہی مل سکے گی جب اس کے لیے واضح اشارہ ہو جائے گا۔

Back to top button