پنجاب کی وزارت اعلیٰ چوہدری برادران کو آفر کر دی گئی؟

اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے اعلان کے بعد شہباز شریف اور چوہدری برادران کے مابین 15 برس کے طویل وقفے کے بعد 13 فروری کو لاہور میں ہونے والی ملاقات نے حکومتی صفوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔ باخبر اپوزیشن ذرائع کے مطابق یہ ملاقات کبھی نہ ہو پاتی اگر شریف برادران عثمان بزدار کو نکال کر پنجاب کی وزارت اعلی چوہدری برادران کو دینے پر آمادگی کا اظہار نہ کرتے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بنیادی طور پر یہ فارمولا آصف علی زرداری نے دیا تھا تاکہ عمران خان کو نکالنے کے کیے قومی اسمبلی میں قاف لیگ کے پانچ اراکین کی حمایت حاصل کی جا سکے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ملاقات مثبت رہی ہے اور چوہدری برادران نے شہباز شریف کو اپنی جماعت سے مشورے کا وقت مانگا ہے۔ لیکن سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ طے ہے کہ اگر چوہدری برادران نے عمران خان کا ساتھ چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا تو پنجاب اور مرکز میں ان کی حکومتیں نہیں بچیں گی۔

شہباز شریف اور گجرات کے چوہدریوں کی ملاقات کو سیاسی حلقے اس لیے بھی اہم قرار دیتے ہیں کہ ایک زمانے میں نواز شریف کی جانب سے پنجاب کی وزارت اعلی پرویز الٰہی کی بجائے اپنے شہباز بھائی شہباز شریف کو دیے جانے پر مسلم لیگ میں اختلاف پیدا ہو گیا تھا جس کا نتیجہ قاف لیگ کی صورت میں سامنے آیا اور پھر دونوں خاندان کبھی اکٹھے نہ ہو پائے۔

پرویز مشرف دور میں چوہدریوں نے وزارت عظمی اور وزارت اعلی پائی جبکہ شریف خاندان کو جیلیں اور جلا وطنی برداشت کرنا پڑیں جس سے ان دوریوں میں اور بھی اضافہ ہو گیا۔ لہذا کہا جا رہا ہے کہ اس تلخ تاریخ کے باوجود اب اگر شہباز شریف چوہدریوں کے در پر پہنچے ہیں تو اسکا نتیجہ بھی ضرور نکلے گا۔

تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ گجرات کے چوہدری برادران کے بزرگ زمیندار ہوتے ہوئے بھی میدان سیاست کے شاہ سوار تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ایوب خان کی دست برد سے آزاد ہونے کے بعد مسلم لیگ کا اگر کوئی والی وارث تھا تو وہ چوہدری ظہور الٰہی ہی تھے۔ اس کے مقابلے میں جاتی امرا والے شریف خاندان کے بزرگ صنعت و تجارت کی دنیا کے تاجدار تھے لیکن ان کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔

پس منظر کے اس اختلاف کے باوجود یہ بھی کیا دلچسپ اتفاق ہے کہ دونوں خاندانوں کی اگلی نسل سیاست میں آئی۔ صرف اتنا نہیں ہے، اس نسل میں اپنے سیاسی سفر کی ابتدا بھی ایک ساتھ کی۔ پھر ان کے مابین فاصلے آگے، لیکن اب عین ممکن ہے کہ ان کی راہیں ایک بار پھر ایک ہو جائیں۔ سیاسی مبصرین کو توقع ہے کہ بچھڑے ہوؤں کا حکومت کی تبدیلی کا پیش خیمہ بھی بن سکتا ہے جس کا امکان چند روز قبل تک شاید نہیں تھا۔

یاد رہے کہ نواز شریف اور شہباز شریف کی طرح چوہدری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی کی بھی پاکستانی سیاست میں آمد 1985 کے غیر جماعتی الیکشن کے نتیجے میں ہوئی تھی۔ یہ اس الیکشن کے نتیجے میں پرانے تجربہ کار سیاست دانوں کے جُھرمٹ میں کچھ نئے ستارے بھی طلوع ہوئے تھے۔ ان میں سے دو کا تعلق گجرات سے تھا۔ یعنی چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی۔

میدان سیاست میں یہ دونوں نووارد تھے۔ چوہدری شجاعت نے والد کے قتل کے بعد ان کی جگہ سنھبالی تھی یعنی قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے جبکہ ان کے کزن چوہدری پرویز الٰہی پنجاب اسمبلی میں پہنچے۔ ان دو نوواردوں کی طرح لاہور ہی سے ایک اور نوجوان اس اسمبلی کا رکن بنا جس کا سیاسی پس منظر صرف اتنا ہی تھا کہ چند ہفتے پہلے تک وہ گورنر غلام جیلانی کی کابینہ کا رکن تھا۔ ان نوواردوں کے اسمبلی میں پہنچنے کے بعد صوبے کی سیاست میں جو کچھ بھی ہوا غیر متوقع طور پر ہوا۔

مخدوم زادہ حسن محمود اور ملک اللہ یار تو پہلے ہی وزارت اعلیٰ کی دوڑ میں موجود تھے۔ ان کے بعد بہاول نگر کے چوہدری عبدالغفور بھی میدان میں کُود گئے۔ کچھ اور لوگوں کے دل میں بھی پنجاب کی قیادت کی خواہش جاگی ہوگی۔ ان میں ایک چوہدری پرویز الہٰی بھی تھے۔ پرویز الہٰی ان دنوں اگرچہ گجرات کی ضلع کونسل کے چیئرمین تھے۔

اس کے باوجود ان کا نام بھی وزارت اعلیٰ کے امیدواروں کی فہرست میں آگیا۔ یہ سب ہوا لیکن ایک شام جب چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر جنرل ضیا الحق پنجاب کے متوقع وزیر اعلیٰ کے بارے میں زبان کھولے بغیر اسلام آباد پرواز کر گئے تو گورنر غلام جیلانی نے نواز شریف نامی رکن پنجاب اسمبلی کو وزیر اعلیٰ نامزد کر دیا۔

اس واقعے نے سیاست کے پرانے اور تجربہ کار مبصرین کو حیرت میں مبتلا کر دیا۔یہ نامزدگی اس لیے اہم تھی کہ اس وقت آئین کے تحت مرکز میں وزارت عظمیٰ کے اختیارات صدر اور صوبوں میں کسی بھی شخص کو وزارت اعلیٰ کے لیے نامزد کرنے کا اختیار گورنر رکھتا تھا۔

نامزد ہونے والے قائد ایوان کے لیے ضروری تھا کہ وہ ایک خاص مدت کے دوران ایوان سے اعتماد کا ووٹ حاصل کر لے۔ اس انتظام کا ایک مطلب یہ واضح کرنا بھی تھا کہ طاقت کا سایہ کس کے سر پر ہے۔ یوں از خود اسے اکثریت حاصل ہو جاتی تھی۔ یہی کچھ پنجاب میں بھی ہوا۔ چوہدری شجاعت حسین نے اپنی خود نوشت ‘سچ تو یہ ہے’ میں لکھا ہے کہ گورنر جیلانی نے نواز شریف کو نامزد کرنے سے پہلے انھیں اعتماد میں لیا تھا۔

انھوں نے نواز شریف کی نامزدگی پر شہری اور دیہی کی بحث کے چھڑنے کا ذکر بھی کیا ہے۔ سبب یہ تھا کہ اس سے قبل منتخب ہونے والے وزرائے اعلیٰ کا تعلق ہمیشہ دیہی علاقوں سے ہی ہوا کرتا تھا۔ چوہدری شجاعت کہتے ہیں کہ یہ بحث میرے ایک بیان سے ختم ہوئی: ‘قائد اعظم دیہاتی تھے یا شہری؟’اس بیان نے نواز شریف کی راہ میں حائل ایک بڑی رکاوٹ دُور کر دی۔

نواز شریف کے وزیر اعلیٰ منتخب ہونے کے بعد ان کے اور چوہدری خاندان کے اتحاد میں پہلا رخنہ اس وقت آیا جب چوہدریوں نے محسوس کیا کہ اسمبلی میں ان کی طاقت کو کمزور کرنے کے لیے نواز شریف ان کے ساتھیوں کو توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چوہدری شجاعت نے لکھا ہے کہ یہ صورت حال دیکھ کر جنرل ضیا الحق نے نواز شریف کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے پر آمادگی ظاہر کردی لیکن کچھ عرصے کے بعد ان کی حمایت بھی کردی۔ اس موقع پر ان کا ایک بیان بھی بہت مشہور ہوا تھا

پنجاب کی وزارت اعلیٰ چوہدری برادران کو آفر کر دی گئی؟

‘نواز شریف کا کلہ مضبوط ہے’۔ یوں مفاہمت کے حالات پیدا ہو گئے اور نواز شریف کی درخواست پر چوہدریوں نے ان کے ساتھ صلح کر لی۔چوہدری شجاعت حسین نے لکھا ہے کہ جنرل ضیامکی۔موت کے بعد 1988 کے الیکشن کے موقع پر نواز شریف اور چوہدریوں میں ایک بار پھر دوریاں پیدا ہوئیں۔ یہاں تک کہ بقول شجاعت کے ان کے خاندان کو شکست سے دوچار کرنے کی کوششیں انتظامی سطح پر ہوئیں لیکن وہ کامیاب رہے۔

انتخابات کے بعد بے نظیر بھٹو نے چوہدری پرویز الہٰی کو وزارت اعلیٰ کی پیش کش کی۔ اس موقع پر نواز شریف نے ایک بار پھر ان سے رابطہ کیا اور کہا کہ اس طرح تو پیپلز پارٹی اقتدار میں آ جائے گی۔ یوں اس خاندان نے ایک بار پھر نواز شریف کا ساتھ دیا۔

بعد میں جب نواز شریف وزیر اعظم بنے تو اس موقعے پر وعدہ یہی تھا کہ پرویز الٰہی کو وزیر اعلیٰ بنایا جائے گا لیکن چوہدری شجاعت کے بقول وعدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شہباز شریف کو وزیر اعلیٰ بنا دیا گیا۔ اسی طرح چوہدری شجاعت جو مرکز میں وزیر داخلہ تھے، ان کے اختیارات احتساب بیورو والے سیف الرحمٰن استعمال کیا کرتے تھے۔

اقتدار کی دھوپ چھاؤں میں ان دونوں سیاسی خاندانوں کے درمیان گرمی سردی کے آثار دیکھے جاتے رہے لیکن 1999 میں جب جنرل پرویز مشرف نے اقتدار پر قبضہ کر لیا تو وقت نے ایک بات پھر پلٹا کھایا۔ یہ خطرہ پیدا ہو گیا کہ فوجی حکمران شریف خاندان کی خواتین کو گرفتار کر لیں گے۔ اس موقع پر ‘نوائے وقت’ کے مدیر اعلیٰ مجید نظامی سے رابطہ کیا گیا۔ شجاعت کو خبر ملی تو وہ وہیں پہنچے اور کہا کہ شریف خاندان کی خواتین ہمارے خاندان کی خواتین ہیں، کسی میں جرات نہیں کہ انھیں گرفتار کر سکے۔

اس زمانے میں جب بیگم کلثوم نواز نے پارٹی کی قیادت شروع کی تو اس دوران میں وہ جب بھی اسلام آباد آتیں، چوہدری شجاعت حسین اپنا گھر خالی کر کے ان کی تحویل میں دے دیتے۔ اس عرصے کے دوران چوہدری خاندان بیگم کلثوم کی پرائیویسی کے احترام میں اس گھر سے اپنا تعلق بالکل ہی ختم کر لیتا۔ اس تعلق کے باوجود بھی دونوں خاندانوں میں دوریاں پیدا ہوئیں۔ اس کا سبب شریف خاندان کا یہ شکوہ تھا کہ وہ مشرف سے رابطے میں ہیں۔

لیکن شجاعت کا موقف تھا کہ ‘جنرل مشرف سے رابطوں کا مطلب شریف خاندان سے قطع تعلق کرنا تو نہیں ہے۔
چوہدری شجاعت ان رابطوں کے سلسلے میں جو دلیل بھی رکھتے ہوں، دونوں خاندانوں کے درمیان دوریاں یقینی تھیں جو پیدا ہو کر رہیں اور ق لیگ وجود میں آ گئی۔

یہی زمانہ تھا کہ جب مسلم لیگ ہاؤس سے مسلم لیگ ن کو نکال کر اسے ق لیگ کی قیادت کے سپرد کیا گیا۔ تعاون کی طرح یہ تلخیاں بھی دو طرفہ تھیں۔ اس کے باوجود دونوں خاندانوں کے درمیان کسی نہ کسی سطح پر رابطہ برقرار رہا۔ شریف خاندان کی وطن واپسی کے بعد ان دونوں پرانے سیاسی رفقا کے اتحاد کی بحالی کی ایک سنجیدہ کوشش رب ہوئی جب نواز شریف والدہ کی تعزیت کے لیے شجاعت کے گھر گئے۔

سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ تمام تر سیاسی اختلافات کے باوجود شریف اور چوہدری خاندانوں میں انسانی اور اخلاقی سطح پر تعلقات کا ایک خوش گوار پہلو ہمیشہ موجود رہا ہے۔ہر مشکل وقت میں چوہدری خاندان جس طرح شریف خاندان کے کاندھے سے کاندھا ملا کر کھڑا ہوا اور ان کے کام آیا، بالکل اسی طرح شریف خاندان بھی کبھی پیچھے نہیں ہٹا۔ ماضی قریب میں چوہدری خاندان بھی کئی قسم کی آزمائشوں سے دوچار ہوا خصوصا جب پیپلز پارٹی کے دور میں چوہدری مونس الہٰی عدالت کے حکم پر گرفتار کر لیے گئے تھے۔

یہ گرفتاری چوہدری خاندان کے لیے کسی آزمائش سے کم نہ تھی۔ اس موقع پر شریف خاندان نے دونوں خاندانوں کی دیرینہ روایت کا پاس کرتے ہوئے اپنا دست تعاون دراز کیا۔ یہی وجہ تھی کہ مونس جیل کی صعوبتیں برداشت کرنے سے بچ گئے۔ انھوں نے نظر بندی کے یہ ایام ایک آرام دہ ریسٹ ہاؤس میں گزارے۔ اسی طرح حمزہ شہباز جیل میں تھے تو پرویز الہٰی نے عمران کی خواہش کے خلاف ان کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے۔

تعلقات کی اس طویل دھوپ چھاؤں کے بعد یہ دونوں خاندان ایک بار پھر سیاسی طور پر اکٹھے ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ آصف زرداری اور فضل الرحمان پہلے ہی چوہدری برادران سے ملاقات کر چکے تھے۔ ان ملاقاتوں کے بعد شہباز شریف کی ان سے ملاقات فطری طور پر غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ شریف ہوں یا چوہدری، دونوں خاندانوں کے یہ بڑے باہمی تعلقات کی نوعیت اور سیاست کی حرکیات کو جتنا سمجھتے ہیں، شاید ہی کوئی اور سمجھتا ہو۔ دونوں خاندانوں کی اہم شخصیات اور ان کے مزاج کو سمجھنے والے مبصرین کا خیال ہے کہ شہباز شریف اور چوہدری برادران کی یہ ملاقات آنے والے چند ہفتوں میں کسی دھماکا خیز اعلان کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔

Back to top button