شدت پسندوں کے ہجوم نے ایک اور انسان مار ڈالا

بیشک دین اسلام میں ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا گیا ہے تاہم پاکستان ایک ایسا ملک بن چکا یے جہاں سارا معاشرہ مل کر ایک انسان کو نہ صرف نہایت سفاکی سے قتل کرنے میں بھی خود کو حق بجانب سمجھتا یے۔ ایسے میں اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ پاکستانی معاشرہ تمام تر انسانیت اور دینی تعلیمات بھلا کر شدت پسند درندوں کا ایک ہجوم بن چکا ہے۔

شدت پسندوں نے پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور وہ ریاست اور اس کے نظام کو چیلنج کر رہے ہیں۔ لیکن ایسا چند برسوں میں نہیں ہوا، یہ کئی دہائیوں کی غلط ریاستی پالیسیوں کا نتیجہ ہے جسکے منفی اثرات اب سامنے آرہے ہیں۔

جب چند ماہ پہلے سیالکوٹ میں شدت پسندوں کے ہجوم نے ایک سری لنکن شہری کو گستاخ رسول قرار دے کر پہلے قتل کیا اور پھر اس کی لاش کو سڑک پر رکھ کر آگ لگائی تو وزیراعظم عمران خان نے اعلان کیا تھا کہ اب دوبارہ ایسا کوئی واقعہ رونما نہیں ہونے دیں گے۔

تاہم اب خانیوال میں ایک ذہنی معذور شخص کو گستاخ رسول قرار دے کر قتل کیے جانے اور اسکی لاش درخت سے لٹکانے پر بھی وزیراعظم نے دوبارہ سے وہی پرانا بیان داغ دیا ہے کہ قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور شدت پسندوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔

تاہم درحقیقت یہ ایک گھسا پٹا روایتی بیان ہے جس کا مقصد صرف کھاتا پورا کرنا ہے ورنہ نظریاتی طور پر عمران خان بھی تحریک لبیک اور ان جیسے دیگر شدت پسندوں سے مختلف نہیں اور اسی لیے عملی طور پر ایسے عناصر کے خلاف کوئی عملی قدم نہیں اٹھاتے بلکہ ہمیشہ انکے ساتھ سمجھوتے کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ پنجاب کے ضلع خانیوال میں مشتعل ہجوم نے مبینہ طور پر قرآن پاک جلانے کے الزام میں تشدد کر کے جس شخص کو قتل کیا ہے وہ 15 سال پہلے ہی ذہنی توازن کھو چکا تھا۔ بتایا گیا یے کہ مشتعل مسلمانوں کے ہاتھوں مارا جانے والا مشتاق گھر چھوڑ چکا تھا اور بھیک مانگ کر گزر بسر کرتا تھا۔

پنجاب کی وزارت اعلیٰ چوہدری برادران کو آفر کر دی گئی؟

مشتاق مسجد کے ایک کمرے میں خود کو سردی سے بچانے کے لیے آگ لگا کر تاپ رہا تھا جب کچھ شرپسندوں نے اس پر یہ الزام عائد کر دیا کہ اس نے مسجد میں گھس کر قرآن پاک کو آگ لگائی ہے۔ ہجوم اکٹھا ہونے کی اطلاع ملنے پر پولیس جائے وقوعہ پر پہنچ گئی تھی لیکن شدت پسندوں نے اسے قانونی کارروائی سے روک دیا اور اپنی عدالت لگا دی۔ مشتاق کو گستاخ رسول قرار دے کر اینٹوں، ڈنڈوں، اور لاتوں سے مار کر قتل کر دیا گیا اور لاش کو درخت سے لٹکا دیا گیا۔ ہجوم لاش کو آگ لگانے کے در پے تھا کہ پولیس نے لاش قبضے میں لیکر ہسپتال منتقل کر دی۔

خانیوال سے صحافی قلزم بشیر احمد کے مطابق واقعے میں ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت مشتاق احمد ولد بشیر احمد کے نام سے ہوئی ہے۔ وہ قریبی گاؤں بارہ چک کا رہائشی تھا اور اسکی میت سوتیلے بھائی نے وصول کرلی ہے۔ مقتول کے بھائی کیمطابق ذہنی توازن کھو جانے کی بنا پر اسکی اہلیہ نے بھی چار سال قبل اس سے علیحدگی اختیار کرلی تھی اور بچے بھی اپنے ہمراہ لے گئی تھی۔

تحریک لبیک پر شدت پسندی اور دہشت گردی میں ملوث ہونے کا الزام لگا کر اس پر پابندی عائد کرنے کے بعد یو ٹرن لینے والے وزیرِ اعظم عمران خان نے حسب روایت اس واقعے کی بھی مذمت کی ہے کہا ہے کہ کسی فرد یا گروہ کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور پُرتشدد ہجوم کو نہایت سختی سے کچلیں گے۔

تاہم وزیراعظم کو کوئی بتائے کہ شدت پسندوں کا ہجوم کبھی کسی سے اجازت نہیں لیتا۔ دوسرا وہ شدت پسندوں کو کچلنے کی بات تو کرتے ہیں لیکن عملی طور پر ایسے عناصر سے معاہدے بھی ان ہی کی حکومت کرتی ہے۔ خانیوال واقعے کی سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شدت پسندوں کا ہجوم ایک شخص کو مسجد سے گھسیٹتے ہوئے باہر لاتا ہے اور پھر اسے ڈنڈوں اور اینٹوں سے مارنا شروع کر دیتا ہے۔ اسکے بعد اسکی لاش کو ایک درخت سے لٹکایا دیا جاتا ہے اور اللہ اکبر کے نعرے بلند کیے جاتے ہیں۔

Back to top button