عمران اور مراد سعید بارے ذومعنی گفتگو کا الزام کتنا سچا ہے؟

وزیراعظم عمران خان اور وفاقی وزیر مراد سعید کے بارے میں مبینہ ذومعنی گفتگو کے بعد نیوز ون ٹی وی آف ایئر کرنے اور غریدہ فاروقی کے شو پر پابندی عائد کرنے کا حکومتی فیصلہ اس وقت سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے اور اسکی مخالفت اور حمایت میں دلائل دیے جارہے ہیں۔ یاد رہے کہ نجی ٹی وی چینل نیوز ون کے ایک ٹاک شو میں وفاقی وزیر مراد سعید کے حوالے سے ’ہتک آمیز‘ گفتگو پر الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی یعنی پیمرا نے نوٹس جاری کر کے چار دن میں چینل انتظامیہ کو وضاحت کے لیے کہا تھا لیکن اس سے پہلے ہی چینل کو کیبل آپریٹرز کے ذریعے آف ائیر کردیا گیا اور غریدہ کے شو پر پابندی لگا دی گئی۔

دوسری جانب غریدہ فاروقی کا اصرار ہے کہ ان کے پروگرام میں وزیراعظم عمران خان یا وفاقی وزیر مراد سعید کے حوالے سے کوئی نازیبا گفتگو نہیں کی گئی اور حکومتی ایکشن بلاجواز اور نا انصافی پر مبنی ہے۔ انکا اصرار یے کہ ’جی فار غریدہ‘ پروگرام میں کوئی ذومعنی اور اخلاق سے گری یا گھٹیا بات نہیں کی گئی اور الزام لگانے والے ثابت کریں کے ایسا ہوا یے۔ دوسری جانب پیمرا نے چینل نیوز ون کی میزبان غریدہ فاروقی کے 10 فروری کو نشر ہونے والے شو میں ہونے والی گفتگو کے ایک حصے کو ’تضحیک آمیز اور توہین آمیز‘ قرار دیا تھا۔

چینل کو بھیجے گئے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ غریدہ فاروقی کے پروگرام میں ان توہین آمیز ریمارکس کا بغیر کسی ادارتی کنٹرول کے آن ایئر ہونا پیمرا کے سیکشن 20 کی سراسر خلاف ورزی ہے اور توہین آمیز گفتگو چینل کی ادارتی پالیسی اور گیٹ کیپنگ ٹولز کی کارکردگی کے حوالے سے باعثِ تشویش ہے۔پیمرا نے نیوز ون کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کو ہدایت کی کہ وہ بتائیں کہ پیمرا کے قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں پیمرا آرڈیننس 2002 کے تحت ان پر جرمانہ، معطلی اور لائسنس کی منسوخی سمیت دیگر انضباطی کارروائی عمل میں کیوں نہ لائی جائے۔

تاہم ٹوئٹر پر ٹی وی چینل کے نیوز ڈائریکٹر طارق محمود اور پروگرام کی میزبان غریدہ فاروقی نے پیمرا پر الزام عائد کیا کہ وہ ملک بھر میں نیوز ون ٹی وی کی نشریات بند کروانے کے لیے کیبل آپریٹرز کو فون کر رہے ہیں حالانکہ ابھی پیمرا نوٹس کا تحریری جواب بھی داخل نہیں کیا گیا۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر ’جی فار غریدہ‘ کے پروگرام کا ایک کلپ وائرل ہے اور پی ٹی آئی کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل @PTIofficial سے بھی غریدہ فاروقی کے خلاف ہیش ٹیگ چلایا جا رہا ہے۔ سرکاری سیاستدانوں، حکومتی وزرا اور دیگر افراد کا الزام ہے کہ غریدہ فاروقی کے پروگرام میں مراد سعید کے حوالے سے انتہائی لغو اور ذومعنی گفتگو کی گئی۔

یاد رہے رواں ہفتے وزیرِ عمران خان نے دس بہترین وفاقی وزار میں کارکردگی کی بنیاد پر اسناد تقسیم کی تھیں جن میں وفاقی وزیر برائے مواصلات مراد سعید کی وزارت کو بہترین کی سند سے نوازا گیا تھا جس کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی بڑی تعداد نے مراد سعید کی کارکردگی کو موضوعِ بحث بنایا تھا۔

غریدہ فاروقی کا 10 فروری کو نشر ہونے والا پروگرام بھی عمران خان کی جانب سے 10 وفاقی وزرا میں ایوراڈز کی تقسیم اور وزیرِ اعظم کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کے حوالے سے تھا۔شو میں تجزیہ کار اور نیوز ون کے ڈائریکٹر طارق محمود کے علاوہ تجزیہ کار محسن بیگ، جنرل امجد شعیب اور تجزیہ کار افتخار احمد بھی پینلسٹس میں شامل تھے۔

سوشل میڈیا پر ایک طرف کئی افراد پیمرا پر تنقید کرتے یہ پوچھتے نظر آتے ہیں کہ کسی وزیر کی کارکردگی پر سوال اٹھانا اس کی تضحیک کیسے ہے اور نیوز ون کی نشریات روکنے کی مذمت کرتے ہوئے اسے آزادی صحافت پر حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔تاہم کچھ صحافی اور تجزیہ کار غریدہ فاروقی پر تنقید کرتے یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ اس طرح کی گفتگو کو کبھی بھی صحافت کا نام نہیں دیا جا سکتا۔

اس کے علادہ حسب سابق حکومتی ٹرول بریگیڈ سے تعلق رکھنے والے کچھ صارفین غریدہ فاروقی کی ذاتی زندگی کے حوالے سے بکواس کرتے نظر آتے ہیں۔ سرکاری ناقدین کا کہنا ہے پینل میں موجود افراد خصوصا محسن بیگ نے جب موضوع سے ہٹ کر گفتگو کرنا شروع کی تو غریدہ نے انھیں روک کر موضوع کی جانب لانے کی کوشش کیوں نہیں کی؟

اس کے جواب میں غریدہ کہتی ہیں کہ ’ان چاروں مہمانوں یا میری طرف سے کوئی ایک بھی ’غیر اخلاقی‘ جملہ یا لفظ آن آئیر نہیں ہوا۔ کوئی ذومعنی، اخلاق سے گری ہوئی، گھٹیا بات نہیں کی گئی جسے قانونی طور پر کہیں پر چیلینج کیا جا سکے۔غریدہ مانتی ہیں کہ پروگرام میں مراد سعید کی وزارت کی کارکردگی پر آٹھ منٹ تک بات ضرور ہوئی مگر وہ اسے توہین آمیز یا غیر اخلاقی ماننے سے انکار کرتی ہیں۔

پیمرا کے نوٹس میں ’تضحیک آمیز/ توہین آمیز‘ کے الفاظ کے متعلق غریدہ کہتی ہیں کہ ’جب آپ تجزیہ کاروں کو بلاتے ہیں تو وہ کیا کہتے ہیں، یہ پینل میں شامل افراد کی صوابدید ہے اور ہماری پالیسی ہے کہ ہم اسے ایڈیٹ یا کاٹتے نہیں۔ کسی کا مائیک میوٹ نہیں کرتے جب تک کہ کوئی ایسی بات نہ کی جائے جو واقعی توہین آمیز یا اخلاق سے گری ہوئی اور قانون کی پکڑ میں آتی ہو۔ وہ کہتی ہیں کہ اسی لیے پروگرام سے پہلے ایک تنبیہ چلائی جاتی ہے کہ اس میں شامل مہمانوں کی رائے ادارتی پالیسی کا حصہ نہیں۔

غریدہ فاروقی کا کہنا ہے کہ ’ہم آزادیِ رائے اور آزادیِ اظہار ضرور دیتے ہیں مگر میرے پروگرام میں کسی بھی مہمان نے یا میں نے کوئی غیر اخلاقی یا فحش لفظ استعمال نہیں کیا نہ کوئی گالی دی اور نہ ہی کوئی غیر اخلاقی بات دہرائی اور نہ کسی تضحیک آمیز یا توہین آمیز رائے کا اظہار کیا۔‘

وہ کہتی ہیں کہ پروگرام میں 43 منٹ تک بحث کی گئی مگر ٹوئٹر پر محدود دورانیے کا کلپ ہی شئیر کیا جا سکتا تھا جو وائرل ہے اور دو منٹ کے کلپ کو دیکھ کر یہ فیصلہ نہیں کر لینا چاہیے کہ اس میں غلط بات کی گئی ہے۔ وہ تحریکِ انصاف کی قیادت سے سوال کرتی ہیں کہ ’اگر آپ کو اس کلپ سے تکلیف پہنچی ہے تو کوئی ایک لفظ بتا دیں جو قانون کی تشریح کے مطابق غیر اخلاقی یا توہین آمیز الفاظ کے دائرے میں آتا ہو۔‘

غریدہ کا کہنا ہے کہ تجزیہ کار کسی بھی کتاب کا بھی حوالہ دے سکتے ہیں جس پر ہم انھیں روک نہیں سکتے اور پینل میں شامل افراد نے ریحام خان کی جس کتاب کا حوالہ دیا اس پر پاکستان سمیت دنیا بھر میں کہیں پابندی نہیں۔ ’کتاب کے مندرجہ جات پر کہیں کوئی قانونی کارروائی نہیں ہوئی اور جن لوگوں کو تکلیف پہنچ رہی ہے انھوں نے آج تک اس کتاب کے حوالے سے کوئی قانونی کارروائی نہیں کی۔

شدت پسندوں کے ہجوم نے ایک اور انسان مار ڈالا

اگر اس پر پابندی نہیں تو اس کا حوالہ دینے سے کسی کو کیسے روکا جا سکتا ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پیمرا اور پاکستان تحریکِ انصاف ہمیں بتا دے کہ فلاں کتاب پر پابندی ہے اور اس پر بحث نہیں کی جا سکتی۔

یاد رہے کہ جب وفاقی وزیر مراد سعید کی کارکردگی کے بارے میں سوال کیا گیا تو محسن بیگ نے کہا تھا کہ ان کی کارکردگی کا ذکر رحام خان نے اپنی کتاب میں بڑی تفصیل سے کیا ہے۔ غریدہ کا کہنا ہے کہ ’حکومت کو زیادہ تکلیف اس بات سے ہے کہ میں سخت سوالات کیوں کرتی ہوں چونکہ میں اس پر تنقید کرنے والوں میں شامل ہوں اس لیے مجھے کام کرنے سے روکنے کے لیے مجھ پر بلواسطہ یا بلاواسطہ دباؤ ڈالا جاتا ہے.

بہت عرصے سے وہ کسی بہانے کی تلاش میں تھے اور ابھی انھیں ایک بہانہ مل گیا ہے جس کی آڑ میں واہ ایک بار پھر سے مجھ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ وہ مجھے چپ کروانا چاہتے ہیں حالانکہ اس کلپ میں ایسی کوئی بات نہیں تھی۔

غریدہ فاروقی کہتی ہیں کہ ان کے خلاف پچھلے آٹھ نو سال سے کیمپینز، ٹرینڈز، آن لائن ہراسانی جاری ہے مگر ’میں ایک پروفیشنل صحافی ہوں اور اپنے خلاف الزامات، کیمپینز یا ٹرینڈز کو پروفیشنل کپیسٹی میں نہیں لاؤں گی اور اس کا جواب اسی فورم پر دیتی ہوں جہاں سے اس کا آغاز ہوا ہو۔

وہ بتاتی ہیں کہ 2014 میں عمران خان کا دھرنا کور کرنے پر مجھ پر پی ٹی آئی کی دلدادہ اینکر ہونے کا ٹیگ لگایا جاتا تھا مگر اس ٹیگ کے باوجود بھی تحریکِ انصاف کے حامیوں اور سپورٹرز کی جانب سے مجھ پر حملے جاری رہتے تھے۔ غریدہ کے مطابق سوشل میڈیا پر ٹرولنگ کے حوالے سے ایف آئی اے کے پاس ان کی چھ سات درخواستیں زیر التوا ہیں۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ جب حکمران جماعت کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے کسی خاتون صحافی کو ان کے پروگرام یا کالم کی بنیاد پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہو اور ان کی ذات پر حملے کیے گئے ہوں۔ گذشتہ برس اکتوبر میں صحافی عاصمہ شیرازی کے بی بی سی میں شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر تحریک انصاف کی حکومت میں شامل وفاقی کابینہ کے چند ارکان اور وزیراعظم عمران خان کے مشیروں اور معاونین کی جانب سے ان کے کالم کا ایک مخصوص حصہ اٹھا کر اس پر سخت تنقید کی گئی تھی اور انھیں ٹرولنگ کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

غریدہ کا کہنا ہے کہ خواتین صحافیوں کی جانب سے تنقید کے جواب میں ان کی ذات پر حملے کرنے کا ٹرینڈ تحریکِ انصاف نے ہی متعارف کروایا تھا اور وہ اسے ’انتہائی نیچ حرکت‘ قرار دیتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’کم از کم پہلے پاکستان تحریکِ انصاف کو کچھ حد تک ’جھاکا‘ یا ججھک ہوتی تھی اور وہ یہ بات ماننے سے انکار کرتے تھے کہ خواتین صحافیوں پر چلنے والے نازیبا ٹرینڈز کے پیچھے حکومت یا پی ٹی آئی کا ہاتھ ہے۔

ہم اس کے خلاف سینیٹ میں قرارداد بھی لے کر گئے اور حکومت نے ہمیں یہیں جواب دیا کہ ’خواتین صحافیوں کے خلاف ان ٹرینڈز یا کیمپینز کے پیچھے حکومت یا تحریکِ انصاف نہیں، لوگ ہمارا نام استعمال کرتے ہیں تو ہم اس کا کیا کر سکتے ہیں‘ مگر اب وہ ججھک، وہ جھاکا، وہ شرم وہ لحاظ سب ختم ہو چکا ہے اور اب تحریکِ انصاف کے ویریفائڈ اکاؤنٹس، وزرا، معاونینِ خصوصی، وزیرِاعظم ہاؤس میں بیٹھے لوگوں کیجانب سے کھلے عام یہ ٹرینڈز چلائے جاتے ہیں۔

یاد رہے اگست 2020 میں پاکستان کی کچھ معروف خواتین صحافیوں نے سوشل میڈیا پر ٹرولنگ اور ہراسانی کے بارے میں ایک مشترکہ بیان جاری کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ معاملہ انتہائی سنگین شکل اختیار کر چکا ہے اور اس کی وجہ سے آزادی اظہار شدید خطرے میں ہے اور ان کے لیے پیشہ ورانہ فرائض انجام دینا ناقابل یقین حد تک مشکل ہو گیا ہے۔

غریدہ کہتی ہیں کہ ’یہ انتہائی شرمناک اور افسوس کا مقام ہے اب وہ کھل کر سامنے آ گئے ہیں اور اب یہ نہیں کہہ سکتے کہ خواتین صحافیوں کے خلاف نازیبا ٹرینڈز کے پیچھے ان کا ہاتھ نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم کئی برسوں سے برداشت کرتے آئے ہیں، آگے بھی کریں گے مگر اب یہ سلسلہ رکنا چاہیے۔ انکا۔کہنا تھا کہ اگر آپ کو کسی بھی چیز پر اعتراض ہے تو پیمرا جیسے قانونی فورمز کا سہارا لیں ’مگر آپ نے تو اس سے پہلے ہی میرے خلاف ٹرینڈز چلوانے اور چینل کو بند کروانا شروع کر دیا۔‘

Back to top button