حکومت PIA کے 220 ارب روپے نقصان کی ریکوری کیوں نہیں کرنا چاہتی؟

معروف صحافی روؤف کلاسرا نے کہا ہے کہ شہباز شریف کی حکومت گزشتہ دور میں پاکستانی خزانے اور معیشت کو نقصان پہنچانے والے اپوزیشن رہنماؤں کا اس ڈر سے احتساب نہیں کر رہی کہ کل کو اگر وہ لوگ اقتدار میں آ جائیں تو کوئی اُن کے سکینڈلز بھی نہ پکڑے۔ انکا کہنا یے کہ آج کے حکمران اپنی فیوچر پلاننگ کر رہے ہیں کہ اگر آج ہم نے پچھلے دور کے نقصانات اور سکینڈلز پر سابقہ حکمرانوں کو جیلوں میں ڈالا تو کل کو ہمارے ساتھ بھی یہی کچھ ہو گا‘ لہٰذا ہم ایسا قدم کیوں اٹھائیں؟ تاہم سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ شہباز شریف اور انکے وفاقی وزرا یہ نہیں سمجھ پا رہے کہ جن لوگوں نے پچھلے دور میں قومی خزانے کو نقصان پہنچایا ہے وہ ان کا ذاتی پیسہ نہیں بلکہ عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ تھا اور ملک و قوم کی امانت تھا۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں روؤف کلاسرا کہتے ہیں کبھی کبھار تو آپ کو سرکاری دستاویزات دیکھ کر بھی یقین نہیں آتا کہ جو آپ پڑھ رہے ہیں واقعی وہی بات ہے یا آپ کی آنکھوں کو دھوکا ہوا ہے۔
ہر دفعہ سوچتے ہیں کہ اب کوئی بم شیل آپ کو حیران نہیں کر سکے گا اور ہر دفعہ آپ غلط ثابت ہوتے ہیں۔ اس ملک میں حکمرانوں نے جو طوفان اٹھایا اور انہیں اپنے اپنے حصے کے لوگ مل گئے جو ان کی کرپشن اور نقصان کا دفاع کرتے ہیں‘ وہ اب بڑی حد تک ڈھیٹ ہو چکے ہیں۔ انہیں علم ہے کہ کچھ بھی کر لو‘ اس قوم کو فرق نہیں پڑے گا کیونکہ پوری قوم نے اپنی مرضی کے لٹیرے چُن رکھے ہیں جن کا دل وجان سے یہ سب دفاع کرتے ہیں بلکہ ان جیسا بننا چاہتے ہیں اس لیے ان کی حمایت کرتے ہیں۔
سینیئر صحافی بتاتے ہیں کہ ابھی کچھ دن پہلے میں ایک ٹی وی پروگرام میں شریک تھا جس میں عمران خان دور میں پی آئی اے کی یورپ اور برطانیہ کے لیے پروازوں پر پابندی لگائے جانے کی دردناک کہانی بیان کی گئی۔ یہ کہانی سُن کر میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ پی ٹی آئی دورِ حکومت امورِ ہوا بازی کے وفاقی وزیر غلام سرور خان نے پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ پی آئی اے میں ایسے پائلٹ بھرتی ہوئے ہیں جن کی ڈگریاں جعلی ہیں۔ انہی دنوں کراچی میں پی آئی اے کا ایک طیارہ کریش ہوا تھا۔ وزیر موصوف کے بیان پر پورا پاکستان بلکہ پوری دنیا حیران تھی۔ چنانچہ فوری طور پر یورپی یونین اور برطانیہ نے پی آئی اے کی فلائٹس پر پابندی لگا دی۔ یوں ساڑھے چار سال تک یورپی یونین اور برطانیہ کے منافع بخش روٹس غلام سرور خان کے بیان کے نتیجے میں کینسل کر دیے گئے۔ پی آئی اے کو اس ایک غیر ذمہ دارانہ بیان سے 220 ارب روپے کا نقصان ہوا۔
رووف کلاسرا بتاتے ہیں کہ 2020ء میں طارق اسد نامی ایک شخص نے عدالت میں پٹیشن فائل کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا گیا کہ صرف قومی خزانے کو نقصان نہیں پہنچ رہا بلکہ جن پروفیشنل پائلٹس کی ڈگریاں اصلی تھیں اور انہوں نے ٹریننگ بھی حاصل کی تھی‘ وہ سب بھی نو فلائی لسٹ میں شامل کر دیے گے ہیں۔ انکا۔موقف تھا کہ اس عمل سے پاکستان کے علاوہ پی آئی اے کی شہرت کو بھی نقصان پہنچایا گیا‘ لہٰذا غلام سرور خان کو نااہل قرار دیا جائے۔ لیکن اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا کہ اگر کسی وزیر نے ملکی مفاد کے خلاف کوئی بیان دیا تو وفاقی کابینہ اس کے خلاف کارروائی کرنے کی مجاز ہے۔ اُس وقت عمران خان وزیراعظم تھے اور سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا کہ وہ اس پر کارروائی کرتے۔اب شہباز شریف حکومت کو خیال آیا کہ پی آئی اے کو بڑا نقصان ہوا‘ ملک کی ساکھ بھی متاثر ہوئی‘ لہازا ہمیں اس معاملے کو کسی انجام تک لے کر جانا چاہیے۔ یوں وزارتِ قانون نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ایک سمری پیش کی جس میں چار سفارشات کی گئیں کہ اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ غلام سرور خان نے انتہائی عجلت میں جو بیان دیا اس کی کیا وجوہات تھیں؟ اور اس بیان سے ملک اور ادارے کو کیا نقصان پہنچا؟
رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایک تحقیقاتی کمیٹی بنا کر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ پچھلے دنوں جب یہ سمری کابینہ میں پہنچی تو وہاں بڑی بحث ہوئی۔ کچھ وزیروں نے کہا کہ ہمیں ان چار میں سے دو سفارشات کو‘ جو ذمہ داروں کے تعین اور ان کے خلاف قانونی کارروائی سے متعلق تھیں‘ نہیں چھیڑنا چاہیے کیونکہ ہم نے پی آئی اے کی نجکاری بھی کرنی ہے۔ ایک وزیر نے کہا کہ پی آئی اے کی انٹرنیشنل روٹس پر فلائٹس ابھی بحال ہوئی ہیں‘ ایسے میں اگر ہم ذمہ داروں کے پیچھے گئے تو مسئلہ ہوگا۔ سینیئر صحافی کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی کابینہ کے کچھ ارکان نے اس تجویز کی مخالفت کی کہ اس بلنڈر کی ذمہ داری فکس کی جائے۔ انہون نے کہا کہ ذوالقرنین کے خلاف کوئی قانونی کارروائی بھی نہ کی جائے۔ صرف مالی نقصان کا تعین کر لیا جائے۔
رووف کلاسرا کے مطانق شہباز شریف کی کابینہ نے ان چار میں سے دو سفارشات پر عملدرآمد کیلئے وزیر دفاع خواجہ آصف کی سربراہی میں سات رکنی کمیٹی بنائی ہے جو مارچ میں اپنی رپورٹ دے گی۔لیکن 220 ارب کے نقصان نقصان کے بارے کہا گیا ہے کہ ذمہ داروں کے خلاف کوئی کارروائی نہ کریں اور نہ ہی ذمہ داری فکس کی جائے‘ بس باقی دو چیزوں کا تعین کر کے معاملہ نمٹا دیں۔
سینئر صحافی اس فیصلے پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ شہباز شریف کا کسی نے 220 روپے کا بھی نقصان کیا ہوتا تو انہوں نے ایف آئی اے کے ذریعے بندہ اٹھوا لینا تھا۔ خواجہ آصف کے کسی نے 220 روپے دینے ہوتے اور وہ نہ دیتا تو خواجہ صاحب نے اس کا جینا حرام کر دینا تھا۔ سوال یہ ہے کہ اس کابینہ اجلاس میں جو وزیر بیٹھے تھے‘ ان کے کسی نے اربوں‘ کروڑوں چھوڑیں چند لاکھ بھی دینے ہوتے تو کیا پھر بھی فیصلہ یہی ہوتا؟ شہباز شریف سے لے کر اُن کے وزیروں تک‘ سب کو لگتا ہے کہ یہ 220 ارب روپے ہماری جیب سے نہیں گئے‘ عوام اور ملک کا پیسہ تھے۔ نقصان ہو گیا تو ہو گیا‘ کون سا ہماری جیب سے گیا ہے۔ انکا کہنا یے کہ اگر آپ غور کریں تو شہباز شریف اور ان کے وزرا اس فارمولے پر چل رہے ہیں کہ کل کو اُن کی مخالف جماعتیں اگر حکومت میں آئیں تو کوئی اُن کے سکینڈلز بھی نہ پکڑے۔ یعنی پاکستان اور ہی آئی اے نے دنیا بھر میں گالیاں بھی کھا لیں اور اب حکمران کہہ رہے ہیں کہ اس معاملے میں کچھ نہ کریں اور چپ رہیں۔ دراصل بات وہی یے جو عمران خان کہتے تھے کہ کسی کے باپ کا پیسہ ہے جو بھول جائیں۔
افسوس کی یہ سیاستدان اپنا ایک روپیہ بھی کسی کو نہیں چھوڑتے لیکن پاکستان کے 220 ارب روپے جائیں بھاڑ میں۔
