دور حاضر میں کوہ پیمائی پہلے سے آسان کیوں ہوگئی؟

دور حاضر میں بھاری بھرکم سامان اُٹھانے والے ہائی آلٹیچیوڈ پورٹرز، مشکل چڑھائیوں پر رسیوں کی سپورٹ، اور متبادل آکسیجن ٹینکس نے کوہ پیمائی کو ماضی کی نسبت بہت آسان بنا دیا ہے، اور اسی لیے کے ٹو سمیت دیگر بلند چوٹیوں کو ہر سال سینکڑوں کوہ پیما سر کر رہے ہیں، گلگلت بلتستان میں قراقرم کے پہاڑی سلسلے میں واقع دنیا کی دوسری بڑی چوٹی کے ٹو پر مہمات کا سلسلہ جاری ہے اور رواں سال اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 150 کے قریب ملکی و غیر ملکی کوہ پیما اسے سر کر چکے ہیں، جن میں خواتین کوہ پیما بھی شامل ہیں۔
ہر سال سردیوں اور گرمیوں میں ’قاتل پہاڑ‘ کہلانے والے کے ٹو کو سر کرنے کے لیے غیر ملکی کوہ پیما پاکستان آکر دو تین مہینے مہمات میں حصہ لیتے ہیں، پاکستان کی بلندو بالا چوٹیوں پر دس سے تحقیق کرنے میں مصروف عمران حیدر نے بتایا کہ کے ٹو سر کرنے کی مہمات کو ہم دو ادوار میں تقسیم کرتے ہیں، جس میں ایک دور 1954 کا ہے جب پہلی مرتبہ کے ٹو سر ہوئی۔ یہ دور 2009 تک جاری رہا جسکے بعد دوسرا دور 2010 میں شروع ہوا اور آج تک جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 1954 سے 2009 تک 337 کوہ پیماوں نے کو ٹو سر کیا جبکہ دوسرے دور میں یعنی آج تک کے ٹو کو گذشتہ دس سالوں میں 700 سے زائد کوہ پیماوٴں نے سر کیا ہے، سال 2009 تک 60 فیصد کوہ پیما بغیر آکسیجن کے مہمات پر جایا کرتے تھے، آکسیجن کیساتھ کوہ پیمائی کی مہم آسان ہو جاتی ہے۔
عمران حیدر کے مطابق فکسڈ لائن کوہ پیمائی کو آسان بنانے والی ایک اور بڑی وجہ ہے جس میں ہائی آلٹیچیوڈ پورٹرز مہم سے پہلے وہاں جا کر رسیاں بچھاتے ہیں اور انہی رسیوں کو استعمال کر کے کوہ پیما مہم جوئی کرتے ہیں۔ آجکل کوہ پیما جب بلند چوٹی کو سر کرنے جاتا ہے تو وہ باقاعدہ اپنے لیے ہائی آلٹیچیوڈ پورٹر بھرتی کرتا ہے، جو مہم کے دوران اسکا سامان اٹھاتا ہے جس کا وزن تقریباً 30 کلو ہوتا ہے، تیسری وجہ یہ ہے کہ اب پورٹر کا کلچر عام ہوگیا ہے، اس سال کی مہمات کو دیکھیں تو رواں سیزن میں 150 کے قریب کوہ پیماوٴں نے کے ٹو سر کی ہے لیکن اس میں 90 کے قریب ہائی آلٹیچیوڈ پورٹر ہیں جبکہ باقی کوہ پیما ہیں۔

ہماری جمہوریت سیاستدانوں کی اگلی نسلوں کی وجہ سے زندہ ہے

پورٹر بطور مزدور کام کرتا ہے یعنی وہ کوہ پیماوٴں کا سامنا اٹھاتا ہے جسکا ان کو معاوضہ ملتا ہے اور یہی ان کی روزی روٹی بھی ہے، ایسا بھی ہوتا ہے کہ مہم پر پہنچنے کے بعد یہی پورٹر کوہ پیما کو کندھوں پر اٹھا کر واپس لاتے ہیں، پاکستان میں تین ہزار میٹر سے زائد کی بلندی ٹری لائن ہے یعنی اتنے بلند پہاڑ پر ہر وقت سبزہ اور درخت وغیرہ ہوتے ہیں جبکہ چار ہزار سے زائد میٹر آئس لائن ہے یعنی اس بلندی پر ہر وقت برف پڑی رہتی ہے لیکن اب یوں ہوا ہے کہ ٹری لائن اور آئس لائن میں کمی آئی ہے اور اب آئس لائن تقریباً پانچ ہزار میٹر تک چلی گئی ہے یعنی برف پگھل رہی ہے۔
پہلے مہمات کے دوران کے ٹو کی خطرناک باٹل نیک کو کراس کرنے میں 6 سے 8 گھنٹے لگتے تھے لیکن اب کوہ پیما اس حصے کو جلد سے جلد پار کرنے کی کوشش کرتے ہیں، یاد رہے پاکستانی کوہ پیما علی سدپارہ بھی پچھلے برس کے ٹو مہم سر کرنے کے دوران بوتل نیک میں ہی موت کا شکار ہوئے تھے۔
اب ذیادہ تر کوہ پیما رات کو مہم پر جاتے ہیں اور صبح تک واپس آ جاتے ہیں کیونکہ اوپر سلوپ پر برف ہوتی ہی نہیں۔ اس برس تو ایک غیر ملکی خاتون نے صرف چھ گھنٹوں میں کے ٹو کی مہم سر کی، عمران حیدر کے مطابق آج کل کوہ پیمائی صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جن کے پاس پیسے ہوں کیونکہ ایک بوتل آکسیجن خریدنے کے ہزاروں ڈالر درکار ہوتے ہیں جبکہ پورٹر ہائر کرنے کے لیے بھی پیسے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ کوہ پیمائی کمرشلائز ہوگئی ہے۔
2016 میں پہلی مرتبہ دنیا کی پہلی بلند ترین چوٹی کو بغیر آکسیجن کے سر کرنے والے کوہ پیماوں کے مطابق جب 1978 میں پہلی مرتبہ ماونٹ ایورسٹ کو بغیر آکسیجن کے سر کیا گیا تب سائنس دان بغیر آکسیجن کے اتنی بلند چوٹی سر کرنا نا ممکن سمجھا جاتا تھا۔
2016 تک ماونٹ ایورسٹ کو چار ہزار کوہ پیماوں نے سر کیا لیکن ان میں صرف 200 ایسے تھے جنہوں نے اس چوٹی کو بغیر آکسیجن کے سر کیا، 1960 میں ڈاکٹروں کی رائے تھی کہ بلند چوٹیوں کی مہمات خاص کر ماونٹ ایورسٹ پر آب و ہوا اتنی مشکل ہوتی ہے کہ وہاں بغیر آکسیجن کے جانا برین ڈیمج کرنے اور موت کو گلے لگانے کے مترادف ہے۔

Back to top button