سیاست زدہ بیوروکریسی ملکی نظام کی تباہی کی اصل ذمہ دار کیوں؟

پاکستان میں نظامِ حکومت کی ناکامی پر ایک بار پھر بحث اس وقت شدت اختیار کر گئی جب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اعتراف کیا کہ ریاستی نظام عملاً منہدم ہو چکا ہے۔ تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آیا مسئلہ صرف نظام کے انہدام کا ہے یا اس کے پیچھے چھپی وہ وجوہات ہیں جنہوں نے ریاستی مشینری کو برسوں سے مفلوج کر رکھا ہے؟ سیاسی مداخلت، میرٹ کی پامالی، بار بار کے تبادلے، کمزور احتساب اور غیر پیشہ ورانہ انتظامی ڈھانچہ وہ عوامل ہیں جنہوں نے سول بیوروکریسی کو اپنی اصل ذمہ داریاں ادا کرنے سے دور کر دیا۔ گزشتہ کئی دہائیوں میں متعدد اصلاحاتی کمیشن انہی خرابیوں کی نشاندہی کرتے رہے، مگر سیاسی مفادات کے باعث ان سفارشات پر کبھی مؤثر عمل نہ ہو سکا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر بحران کے بعد وقتی اقدامات تو کیے جاتے ہیں، لیکن ریاستی انتظامی ڈھانچے کی بنیادی اصلاحات آج بھی ادھوری ہیں۔
سینئر صحافی انصار عباسی کی ایک رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے اس بیان نے کہ پاکستان کا نظام منہدم ہو چکا ہے، حکمرانی کے بحران پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق اصل مسئلہ صرف نظام کی کمزوری نہیں بلکہ وہ بنیادی عوامل ہیں جنہوں نے ریاستی انتظامی ڈھانچے کو برسوں سے غیر مؤثر بنا رکھا ہے۔ ان میں سب سے نمایاں مسئلہ سیاست زدہ سول بیوروکریسی ہے، جو سیاسی مداخلت، غیر شفاف تقرریوں، بار بار کے تبادلوں اور کمزور احتساب کے باعث اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت کھوتی چلی گئی۔
پاکستان میں جب بھی انتظامی ناکامی سامنے آتی ہے تو اس کے حل کے لیے ہنگامی اقدامات، خصوصی ٹاسک فورسز یا متوازی ادارے تشکیل دیے جاتے ہیں، لیکن یہ تمام انتظامات دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہوتے ہیں کہ روایتی سول انتظامیہ اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا نہیں کر پا رہی۔ یہی صورتحال اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلی ٹیشن کونسل (SIFC) جیسے اداروں کے قیام میں بھی دیکھی جا سکتی ہے، جن کا مقصد فوری فیصلوں اور سرمایہ کاری کے فروغ کو یقینی بنانا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اصل بحران وفاق، صوبوں، ڈویژنوں اور اضلاع تک پھیلے اس وسیع سول انتظامی نظام کا ہے، جہاں سیاسی اثر و رسوخ نے میرٹ اور پیشہ ورانہ صلاحیت کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ تقرریاں اور تبادلے اکثر ادارہ جاتی ضرورت کے بجائے سیاسی سفارشات یا طاقتور حلقوں کے دباؤ کے تحت ہوتے ہیں، جس کے باعث اہل افسران بھی اپنی مہارت کے مطابق خدمات انجام نہیں دے پاتے۔
انتظامی ماہرین برسوں سے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور صوبائی سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹس کو دوبارہ خودمختار اور پیشہ ورانہ اداروں کی حیثیت دینے کی سفارش کرتے آ رہے ہیں تاکہ تقرریوں، ترقیوں اور کیریئر پلاننگ کو سیاسی مداخلت سے محفوظ بنایا جا سکے۔ ان کے مطابق اگر سول سروس میں بھی میرٹ، تربیت، کارکردگی اور ادارہ جاتی نظم و ضبط کو بنیادی اصول بنایا جائے تو حکمرانی کے معیار میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔
تاریخی طور پر دیکھا جائے تو گزشتہ پچہتر برسوں میں بیس سے زائد اصلاحاتی کمیشن اور متعدد مطالعاتی رپورٹس ایک ہی نتیجے پر پہنچ چکی ہیں کہ بیوروکریسی کی سیاست زدگی، میرٹ کی عدم موجودگی اور کمزور ادارہ جاتی ڈھانچہ پاکستان کے انتظامی بحران کی بنیادی وجوہات ہیں۔ لیکن ہر دور کی حکومتوں نے تقرریوں اور تبادلوں پر اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنے کو ترجیح دی، جس کے باعث اصلاحات کاغذوں تک محدود رہ گئیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر واقعی پاکستان کو مؤثر طرزِ حکمرانی کی طرف لے جانا ہے تو محض نئے صوبے بنانے یا وقتی انتظامی اقدامات کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سول بیوروکریسی کو سیاسی مداخلت سے آزاد، میرٹ پر مبنی اور پیشہ ورانہ بنیادوں پر استوار کیا جائے تاکہ ریاستی ادارے مستقل بنیادوں پر بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکیں۔
حقیقت یہی ہے کہ جب تک ریاست کے انتظامی انجن کو مضبوط، خودمختار اور جوابدہ نہیں بنایا جاتا، پاکستان ایک بحران سے نکل کر دوسرے بحران میں داخل ہوتا رہے گا، اور ہر بار بیماری کی اصل وجہ کے بجائے صرف اس کی علامات پر توجہ دی جاتی رہے گی۔
