کیا واقعی امریکہ ایران میں مکمل طور پر شکست کھا چکا ہے؟

ایران کے خلاف جاری امریکی حکمت عملی پر عالمی سطح پر سنجیدہ سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق واشنگٹن کے قریبی اتحادیوں کو خدشہ ہے کہ امریکا ایران میں اپنے اسٹریٹجک اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہو رہا ہے، جبکہ تہران نہ صرف اپنے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہا بلکہ آبنائے ہرمز پر بھی اس کا اثرورسوخ قائم ہے۔ ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران جنگ سے متعلق متعدد دعوؤں کو بھی فیکٹ چیک رپورٹ میں گمراہ کن قرار دیا گیا ہے، جس سے امریکا کی عسکری حکمت عملی، سفارتی ساکھ اور عالمی قیادت پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے چھ ماہ بعد بھی امریکا اپنے بنیادی اسٹریٹجک مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب دکھائی نہیں دیتا۔ ایک بین الاقوامی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن کے اتحادیوں میں یہ تشویش بڑھ رہی ہے کہ امریکا ایران میں ایک طویل المدتی اسٹریٹجک شکست کی جانب بڑھ رہا ہے، جس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ ہی نہیں بلکہ عالمی طاقت کے توازن پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایران کا جوہری پروگرام اور بیلسٹک میزائل صلاحیت بدستور برقرار ہے، جبکہ آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری راستے پر تہران کا اثرورسوخ بھی ختم نہیں کیا جا سکا۔ اس صورتحال نے امریکا کی اس حکمت عملی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں جس کا مقصد ایران کی عسکری اور دفاعی صلاحیت کو محدود کرنا تھا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایران اپنی دفاعی صلاحیت اور خطے میں اثرورسوخ برقرار رکھنے میں کامیاب رہتا ہے تو اس کا براہِ راست فائدہ روس اور چین کو پہنچ سکتا ہے، کیونکہ دونوں ممالک خطے میں امریکی اثر کمزور ہونے کو اپنے اسٹریٹجک مفادات کے لیے اہم سمجھتے ہیں۔ اسی تناظر میں امریکا کی عالمی عسکری اور سفارتی ساکھ بھی دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب نیویارک ٹائمز کی فیکٹ چیک رپورٹ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متعدد دعوؤں کو چیلنج کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کا یہ مؤقف درست نہیں کہ امریکی اسلحہ کے ذخائر میں کمی کی بنیادی وجہ سابق صدر جو بائیڈن کی جانب سے یوکرین کو بڑے پیمانے پر ہتھیار فراہم کرنا ہے۔ فیکٹ چیک کے مطابق اس معاملے میں کئی دیگر عوامل بھی شامل ہیں، اس لیے اس تمام صورتحال کی ذمہ داری صرف ایک فیصلے پر عائد نہیں کی جا سکتی۔

رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ نے صرف خطے میں کشیدگی نہیں بڑھائی بلکہ امریکا اور اسرائیل دونوں کو عسکری، سیاسی اور سفارتی دباؤ کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔ مسلسل جنگی اخراجات، اسلحہ کے استعمال اور غیر یقینی صورتحال نے واشنگٹن کے اتحادیوں میں بھی خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ امریکا اپنی حکمت عملی کا ازسرِنو جائزہ لے، کیونکہ صرف فوجی دباؤ کے ذریعے ایران کو اس کے اسٹریٹجک اہداف سے روکنا اب پہلے سے زیادہ مشکل دکھائی دیتا ہے۔ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو خطے میں طاقت کا توازن مزید تبدیل ہو سکتا ہے، جس کے عالمی سیاست، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سلامتی پر بھی دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔

دوسری جانب وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران کا درمیانے فاصلے تک مار کرنے والا خیبر شکن بیلسٹک میزائل امریکی افواج کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ایران اب میزائل حملوں میں پہلے سے زیادہ جدید، پیچیدہ اور مربوط حکمت عملی اختیار کر رہا ہے، جس سے امریکی دفاعی نظام کو نئی آزمائش کا سامنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خیبر شکن میزائل کی رفتار، درستگی اور جدید ٹیکنالوجی اسے ایران کے مؤثر ترین ہتھیاروں میں شامل کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ میزائل ایران کے دفاعی ذخیرے میں مرکزی حیثیت اختیار کرتا جا رہا ہے اور خطے میں امریکی فوجی تنصیبات کے لیے ایک مسلسل خطرہ تصور کیا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے خلاف جاری جنگ نہ صرف امریکا بلکہ اسرائیل کے لیے بھی سیاسی، عسکری اور سفارتی دباؤ میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔ اگر ایران اپنی دفاعی صلاحیت اور خطے میں اسٹریٹجک برتری برقرار رکھتا ہے تو اس سے روس اور چین جیسے ممالک کو بھی سفارتی اور جغرافیائی سیاسی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن مزید تبدیل ہونے کا امکان پیدا ہو جائے گا۔ ماہرین کے نزدیک موجودہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ صرف عسکری طاقت کے ذریعے ایران کو محدود کرنا آسان نہیں رہا۔ بدلتے ہوئے جنگی حالات، جدید میزائل ٹیکنالوجی اور خطے میں ایران کے مسلسل اثرورسوخ نے امریکا کے لیے نئے اسٹریٹجک چیلنجز پیدا کر دیے ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے واشنگٹن کو اپنی پالیسی اور حکمت عملی پر ازسرنو غور کرنا پڑ سکتا ہے۔

Back to top button