پاکستان میں بڑھتی ہوئی بجلی کی قیمتوں کی اصل وجہ کیا؟

پاکستان میں مہنگی بجلی اور بھاری بلوں سے پریشان صارفین کے لیے ایک نئی رپورٹ نے چونکا دینے والے حقائق سامنے رکھ دیے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں کے دوران نجی بجلی گھروں (آئی پی پیز) کو 13 ہزار 397 ارب روپے سے زائد کی ادائیگیاں کی گئیں، جن میں بجلی پیدا نہ کرنے والے پلانٹس کو بھی کپیسٹی پیمنٹس کی مد میں اربوں روپے دیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق بجلی کے فی یونٹ وصول کی جانے والی رقم کا تقریباً 70 فیصد حصہ آئی پی پیز کو منتقل ہوتا ہے، جس کے باعث پیداواری لاگت میں کمی کے باوجود صارفین کو مہنگے بجلی بلوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ناقدین کے مطابق پاکستان میں بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخ اور عوام پر مسلسل بڑھتا مالی بوجھ ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں میں نجی بجلی گھروں (آئی پی پیز) کو مجموعی طور پر 13 ہزار 397 ارب روپے کی ادائیگیاں کی گئیں، جنہیں توانائی کے شعبے میں مہنگی بجلی کی سب سے بڑی وجوہات میں شمار کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس مجموعی رقم میں سے 7 ہزار 275 ارب روپے بجلی کی پیداوار کی مد میں ادا کیے گئے، جبکہ ایک بڑا حصہ ایسے بجلی گھروں کو بھی دیا گیا جنہوں نے متعلقہ عرصے میں بجلی پیدا ہی نہیں کی۔ یہ ادائیگیاں کپیسٹی پیمنٹس کے تحت کی گئیں، جن کے مطابق حکومت بجلی گھروں کو صرف دستیاب صلاحیت برقرار رکھنے کے عوض بھی ادائیگی کرنے کی پابند ہوتی ہے، خواہ بجلی پیدا کی جائے یا نہیں۔

ماہرین کے مطابق بجلی کے فی یونٹ صارفین سے وصول کی جانے والی رقم کا تقریباً 70 فیصد حصہ آئی پی پیز کو چلا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں بجلی کی اصل پیداواری لاگت کم ہونے کے باوجود صارفین کو ریلیف نہیں مل پاتا۔ یہی وجہ ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں کمی کے امکانات کے باوجود گھریلو، تجارتی اور صنعتی صارفین کے بل مسلسل بلند سطح پر برقرار رہتے ہیں۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ حالیہ برسوں میں بجلی کی پیداواری لاگت میں کمی ضرور آئی، لیکن اس کے برعکس کپیسٹی پیمنٹس میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس نے بجلی کے مجموعی ٹیرف کو بلند رکھا۔ اس اضافی مالی بوجھ کا براہِ راست اثر صارفین پر پڑا، جنہیں ہر ماہ زیادہ بل ادا کرنا پڑ رہے ہیں۔

توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بجلی کے شعبے میں پائیدار اصلاحات اور آئی پی پیز کے معاہدوں کا ازسرِنو جائزہ نہ لیا گیا تو گردشی قرضے، مہنگی بجلی اور صارفین پر مالی دباؤ جیسے مسائل برقرار رہ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق بجلی کے نظام کو معاشی طور پر پائیدار بنانے کے لیے کپیسٹی پیمنٹس، معاہدوں کی شرائط اور توانائی کے مجموعی ڈھانچے میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔

حکومت نے حالیہ عرصے میں بعض آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر نظرثانی اور مالی بوجھ کم کرنے کے اقدامات کا عندیہ دیا ہے، تاہم توانائی کے شعبے کے ماہرین کے مطابق حقیقی ریلیف اسی وقت ممکن ہوگا جب بجلی کی قیمتوں میں شامل غیر پیداواری اخراجات کو کم کیا جائے اور نظام کو زیادہ شفاف اور مؤثر بنایا جائے۔

Back to top button