اسلام آباد اور پنجاب میں نافذ لاک ڈاؤن پہلے سے مختلف کیوں؟

ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی، آبنائے ہرمز کی غیر یقینی صورتحال اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور صوبہ پنجاب میں ایک بار پھر توانائی بچت مہم کے تحت سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ اسلام آباد کے مطابق یکم جون سے نئی پابندیاں نافذ العمل ہو چکی ہیں جن کے تحت تمام دکانیں رات 8 بجے بند ہوں گی جبکہ ہوٹل، ریسٹورنٹس، شادی ہالز اور دیگر کاروباری مراکز رات 10 بجے تک اپنی سرگرمیاں محدود کرنے کے پابند ہوں گے۔ تاہم ہوم ڈیلیوری اور ٹیک اوے سروسز بدستور جاری رہیں گی۔حکام نے واضح کیا ہے کہ میڈیکل سٹورز، پیٹرول پمپس، سی این جی سٹیشنز، دودھ اور دہی کی دکانیں، جمنازیم اور کھیلوں کی سرگرمیوں کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔ یہ پابندیاں اگلے احکامات تک نافذ رہیں گی۔
پنجاب حکومت نے بھی عید الاضحیٰ سے قبل دی گئی عارضی نرمی واپس لیتے ہوئے سمارٹ لاک ڈاؤن کی سابقہ پالیسی دوبارہ بحال کر دی ہے۔ یاد رہے کہ تاجروں اور عوامی حلقوں کے مطالبات پر عید سے چند روز قبل پابندیوں میں نرمی کی گئی تھی، تاہم بین الاقوامی صورتحال میں بہتری نہ آنے کے باعث حکومت نے دوبارہ توانائی بچت اقدامات نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق یہ موجودہ سمارٹ لاک ڈاؤن مارچ میں نافذ کیے گئے لاک ڈاؤن سے قدرے مختلف ہے۔ پہلے مرحلے میں ہفتے میں تین چھٹیاں (جمعہ، ہفتہ اور اتوار) دی گئی تھیں، سرکاری ملازمین کو ورک فرام ہوم کی سہولت دی گئی تھی اور متعدد سرکاری و نجی اداروں کے اوقات کار محدود کر دیے گئے تھے۔ موجودہ مرحلے میں بنیادی توجہ کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کم کرنے اور بجلی و ایندھن کی کھپت میں کمی پر مرکوز رکھی گئی ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد پیدا ہونے والی علاقائی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی تیل منڈیوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ پاکستان اپنی توانائی ضروریات کے لیے درآمدی ایندھن پر انحصار کرتا ہے، اسی لیے حکومت نے احتیاطی طور پر توانائی بچت مہم کو دوبارہ فعال کیا ہے۔ تاہم معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان مجوزہ معاہدہ جلد طے نہ پایا اور آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت مکمل طور پر بحال نہ ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے براہ راست اثرات پاکستان سمیت درآمدی معیشتوں پر مرتب ہوں گے۔
دوسری جانب تاجر تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر پابندیاں طویل عرصے تک برقرار رہیں تو متاثرہ کاروباری طبقے کے لیے خصوصی ریلیف پیکیج متعارف کرایا جائے تاکہ معاشی سرگرمیاں شدید متاثر نہ ہوں۔حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات وقتی نوعیت کے ہیں اور ملکی توانائی وسائل کے تحفظ، ایندھن کی بچت اور ممکنہ معاشی دباؤ کو کم کرنے کے لیے ضروری ہیں۔
