فوجی قیادت عمران کودوبارہ گود لینے سے انکاری کیوں ہے؟

سینئر صحافی عاصمہ شیرازی کا کہنا ہے کہ عمران خان نے حال ہی میں ترپ کا ایک اور پتہ آزمایا ہے اور وجہ شاید یہ کہ وقت کی قلت کا احساس بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ عمران خان سمجھتے ہیں کہ ادارہ غیر مقبول ہونے کے باعث ان کی مدد مستعار لینے کو تیار ہے جبکہ یہ بھی اختیار کی ایک اور کوشش ہے کہ طاقت ہی طاقت سے بات کر سکتی ہے۔دوسری جانب دروازہ بند کر دیا گیا ہے یا شاید ابھی کھولنے کی جلدی نہیں ہے۔عاصمہ شیرازی کے مطابق المیہ یہ بھی ہے کہ ایک شخص کے گرد گھیرا تنگ کر لینے سے حلقہ سکڑ چکا ہے۔ اندر کی تقسیم سے فائدہ اٹھانے کا موقع بھی ہاتھ سے نکل چکا ہے۔ ایسے میں موقع شناسی یہی ہے کہ ایک قدم پیچھے ہٹا جائے مگر شاید اب دیر ہو گئی ہے۔عاصمہ شیرازی کے مطابق عمران خان کا ایک قدم پیچھے ہٹنا ریاست کے لیے خوش آئند ہے تاہم وہ بھروسہ اور اعتماد کہاں سے آئے جو ایک بار نہیں کئی بار ٹوٹ چکا ہے۔
عاصمہ شیرازی کے بقول ملک بحران میں ہے اور بحران شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔ گوادر سے پارا چنار تک اضطراب ہے، پاکستان کے شمال مغرب میں دہکتی آگ کے شعلے کرم ایجنسی کے ہمیشہ آزمائے ستم ظریفوں کے لیے آزمائش تو بلوچستان میں حقوق کی تحریک کی تپش پنجاب اور وفاق میں بیٹھے فیصلہ سازوں کو محسوس نہیں ہو رہی۔خیبر پختونخوا میں امن و امان ڈراؤنا خواب اور طالبان کی پہلے سے کہیں زیادہ زور آور واپسی بھیانک تعبیر بن چکی ہے۔باقی ملک مہنگائی اور معاشی بحران کے باعث مضطرب ہے۔ جماعت اسلامی یا تحریک لبیک جیسی چھوٹی جماعتیں کسی حد تک تو غم اور غصہ نکالنے کی راہ بن سکتی ہیں لیکن قومی سطح پر قیادت کا فقدان بہر حال عوام کے لیے مایوسی کاسبب بن رہا ہے۔
انڈیپینڈنٹ اردو کیلئے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں عاصمہ شیرازی کا مزید کہنا ہے کہ قومی منظر نامے پر نظر دوڑائیں تو حکومت معاشی بحران سے نمٹنے کی کوششوں میں بجا طور ہلکان ہے تو ’حقیقی اپوزیشن‘ اپنے راہنما کی رہائی کے لیے پریشان۔ بلاول بھٹو بیرون ملک مہمان ہیں تو مولانا کا قسطوں میں حزب اختلاف کا کردار نبھانے کا سامان تیار ہے۔غرض مملکت حالت سیاسی جنگ میں ہے اور رہنما وقت اور موقع کی تلاش میں سرگرداں دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے میں کوئی مہ رنگ راج سر مچی کے لیے نکلے اور منظور پشتین عوامی رائے کے لیے جرگے بلائے تو قصوروار کون ہو گا؟عاصمہ شیرازی کے مطابق قیادت مٹی سے نکلے تو زمین زادوں کو اپنی جانب کھینچتی ہے۔ یہاں حکومت سیاسی ہوتے ہوئے ٹیکنو کریٹس کی مانند ہے اور سیاسی خلا بڑھتا چلا جا رہا ہے اب اس خلا کو فطرتی انداز میں ہی پورا ہونا ہے جسے روکنے کی ہر کوشش بہر حال بے سوددکھائی دے رہی ہے۔
عاصمہ شیرازی کا مزید کہنا ہے کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ بحران اور استحکام کے درمیان امکان کی راہ کیسے نکالی جائے۔ ریاست کو چند فیصلے کرنا ہوں گے۔ جلد یا بدیر کشمکش سے نکلنے کے لیے بے آئین سرزمین میں دوبارہ آئین کی عمل داری قائم کرنا پڑے گی۔ عاصمہ شیرازی کے بقول ہونا تو یہ چاہیے کہ پارلیمنٹ عدلیہ اور فوج کی آئینی انکروچمنٹ پر بند باندھنے کے لیے بحث کا آغاز کرے، قوانین بنائے یا ترامیم کرے۔ کیوں نہ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور تمام قیادت سے آئین کی عمل داری کے لیے تجاویز مانگی جائیں اور عوام براہ راست ان مباحثوں کو دیکھے، میڈیا کم سے کم متفقہ ایجنڈے پر رائے عامہ بنائے۔عمران خان کو بھی موقع دیا جائے کہ وہ بھی اپنی تجاویز اپنی جماعت کے ذریعے پیش کریں۔ عاصمہ شیرازی کے بقول آئین ہی واحد حل اور راہ ہے۔قومی قیادت بحران سے امکان کی راہ تلاشے، ورنہ حالات وہاں جا سکتے ہیں جہاں خدانخواستہ متفقہ آئین تعطل کا شکار ہو۔
