عالمی ڈیمانڈ کے باوجودپاکستان میں نرسنگ کا شعبہ زوال کا شکار کیوں؟

دنیا بھر میں صحت کے شعبے کو درپیش افرادی قوت کے بحران نے نرسنگ کے پیشے کو غیر معمولی اہمیت دے دی ہے۔ امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، جرمنی اور خلیجی ممالک سمیت کئی ریاستیں ہزاروں تربیت یافتہ نرسوں کی تلاش میں ہیں، مگر پاکستان، جہاں خود نرسوں کی شدید کمی پائی جاتی ہے، اس عالمی موقع سے خاطر خواہ فائدہ اٹھانے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ عالمی طلب اور مقامی ضرورت کے باوجود نرسنگ کا شعبہ ترقی کے بجائے زوال کا شکار کیوں ہے؟

ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں آبادی میں اضافے، صحت کی سہولیات کے پھیلاؤ اور عمر رسیدہ افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث نرسنگ کے شعبے میں افرادی قوت کی مانگ مسلسل بڑھ رہی ہے۔ عالمی اداروں کی رپورٹس کے مطابق 2030 تک دنیا کو 40 لاکھ سے زائد نرسوں کی کمی کا سامنا ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی اور خلیجی ممالک ایشیا سے تربیت یافتہ نرسوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے بہتر تنخواہوں، ویزا سہولیات اور دیگر مراعات کی پیشکش کر رہے ہیں۔یہ صورتحال پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے ایک اہم معاشی موقع ثابت ہو سکتی تھی، جہاں نوجوان افرادی قوت کی بڑی تعداد موجود ہے۔ تاہم، زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کو اپنی موجودہ آبادی کی طبی ضروریات پوری کرنے کے لیے تقریباً نو لاکھ نرسوں کی ضرورت ہے، لیکن ملک میں سالانہ صرف پانچ ہزار سے ساڑھے پانچ ہزار نرسنگ گریجویٹس تیار ہو رہے ہیں۔ یہ تعداد نہ صرف ملکی ضرورت سے کہیں کم ہے بلکہ عالمی مارکیٹ میں دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے بھی ناکافی ہے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ اتنی بڑی عالمی طلب کے باوجود صرف چھ ہزار پاکستانی نرسیں بیرونِ ملک خدمات انجام دے رہی ہیں، جبکہ انڈیا اور فلپائن جیسے ممالک کی تقریباً چھ لاکھ نرسیں بین الاقوامی صحت کے نظام کا حصہ ہیں۔ اس فرق کی بنیادی وجہ صرف افرادی قوت کی کمی نہیں بلکہ نظامی خامیاں بھی ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق پاکستان میں نرسنگ کے شعبے کی نگرانی کرنے والا مرکزی ادارہ، پاکستان نرسنگ کونسل، طویل عرصے سے انتظامی بحران، مالی بے ضابطگیوں اور اندرونی اختلافات کا شکار رہا ہے۔ ریگولیٹری کمزوریوں کے باعث ملک بھر میں ایسے نرسنگ کالجز قائم ہوتے گئے جن کے پاس معیاری کلینیکل ٹریننگ کی سہولتیں، تدریسی ہسپتال یا تربیت یافتہ فیکلٹی موجود نہیں تھی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عملی مہارت رکھنے والی نرسیں تیار کرنے کے بجائے صرف ڈگریوں کے اجرا کا رجحان فروغ پاتا گیا۔ مبصرین کے بقول بین الاقوامی سطح پر ملازمت کے حصول کے لیے نرسوں کو نیشنل کونسل لائسنسنگ ایگزامینیشن (NCLEX) اور انگریزی زبان کے مختلف امتحانات سے گزرنا پڑتا ہے، لیکن پاکستان کے روایتی نرسنگ نصاب میں ان امتحانات کی تیاری کے لیے مناسب رہنمائی اور تربیت شامل نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سی نرسیں مطلوبہ بین الاقوامی معیار پر پورا نہیں اتر پاتیں اور عالمی مواقع سے محروم رہ جاتی ہیں۔

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کے مطابق پاکستان نرسنگ کونسل برسوں تک ایک منظم مافیا کے زیر اثر رہی، جہاں نرسنگ کالجز کی رجسٹریشن کے عمل میں بے ضابطگیوں اور رشوت ستانی کی شکایات سامنے آتی رہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت اس پورے نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کرنے اور نرسنگ کے شعبے میں شفافیت لانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے تاکہ نہ صرف نرسوں کی کمی کو پورا کیا جا سکے بلکہ انہیں بین الاقوامی معیار کے مطابق بھی تربیت دی جا سکے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اگر پاکستان اپنی تعلیمی استعداد میں اضافہ کرتے ہوئے سالانہ نرسنگ گریجویٹس کی تعداد 15 سے 20 ہزار تک لے جائے تو نہ صرف ملکی سطح پر نرسوں کی کمی پر قابو پایا جا سکتا ہے بلکہ ہر سال ہزاروں تربیت یافتہ نرسوں کو بیرونِ ملک بھیج کر اربوں ڈالر کا زرِ مبادلہ بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ہیلتھ کیئر مینجمنٹ کے ماہر ڈاکٹر شمائل داؤد کے مطابق محض نئے قوانین متعارف کروا دینا اس بحران کا حل نہیں۔ ان کے بقول، حکومت کو ریگولیٹری اداروں کی خامیاں دور کرتے ہوئے نجی شعبے کو بھی اعتماد میں لینا ہوگا اور ایسے معیاری نرسنگ کالجز قائم کرنا ہوں گے جو عملی تربیت اور بین الاقوامی تقاضوں کے مطابق تعلیم فراہم کر سکیں۔ڈاکٹر شمائل داؤد کا کہنا ہے کہ عالمی ادارہ صحت کے معیار کے مطابق ہر 10 ہزار افراد کے لیے 30 نرسیں دستیاب ہونی چاہییں، جبکہ پاکستان میں یہ شرح محض 5.6 نرسیں فی 10 ہزار افراد ہے۔ یہ فرق اس بات کی واضح نشاندہی کرتا ہے کہ ملک کو فوری طور پر نرسنگ کے شعبے میں سرمایہ کاری، اصلاحات اور توجہ کی ضرورت ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر نرسنگ کے پیشے کو بہتر تنخواہوں، پیشہ ورانہ تحفظ، ترقی کے واضح مواقع اور معاشرتی پذیرائی کے ذریعے زیادہ پرکشش بنایا جائے تو نوجوانوں کی بڑی تعداد اس شعبے کی طرف راغب ہو سکتی ہے۔ بصورت دیگر پاکستان نہ صرف اپنی داخلی ضروریات پوری کرنے میں ناکام رہے گا بلکہ عالمی سطح پر موجود اس بڑے معاشی موقع سے بھی محروم ہوتا رہے گا۔

Back to top button