سندھ پولیس کی کارکردگی ایک بار پھر تنقید کی زد میں کیوں؟

کراچی میں جرائم کی تفتیش، فرانزک تحقیقات اور میڈیکو لیگل نظام کی کارکردگی ایک بار پھر شدید تنقید کی زد میں آ گئی ہے۔ میر رضا کیس نے نہ صرف پوسٹ مارٹم کے طریقۂ کار بلکہ پورے تفتیشی نظام، کرائم سین مینجمنٹ، فرانزک شواہد کے تحفظ اور اداروں کے باہمی رابطوں پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر ابتدائی تحقیقات ہی کمزور ہوں تو بعد کی قانونی کارروائی متاثر ہوتی ہے، مقدمات کمزور پڑ جاتے ہیں اور انصاف کا عمل بھی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔

ناقدین کے مطابق کراچی میں میر رضا کیس نے پولیس کے تفتیشی نظام اور میڈیکو لیگل سسٹم کی مجموعی کارکردگی پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پولیس اور میڈیکو لیگل حکام کی جانب سے ایک دوسرے پر ذمہ داری عائد کیے جانے کے بعد یہ معاملہ محض ایک پوسٹ مارٹم رپورٹ تک محدود نہیں رہا بلکہ پورے نظام کی شفافیت اور مؤثریت زیرِ سوال آ گئی ہے۔

خاتون پولیس سرجن کے مراسلے میں اٹھائے گئے اعتراضات نے اس خدشے کو مزید تقویت دی ہے کہ اگر پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بنیادی خامیاں موجود تھیں تو پھر کرائم سین سے لے کر پولیس تفتیش، میڈیکو لیگل معائنے، فرانزک تجزیے اور پراسیکیوشن تک پورا تحقیقاتی سلسلہ ازسرِنو جانچ کا متقاضی ہے۔

دوسری جانب کراچی پولیس کے سربراہ نے بھی کئی اہم سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کے مطابق اگر ابتدائی رپورٹ ناقص تھی تو اسے دو روز تک روکے رکھنے کی کیا وجہ تھی؟ رپورٹ کو فوری طور پر متعلقہ میڈیکو لیگل افسر کے پاس درستگی کے لیے کیوں نہیں بھیجا گیا؟ اور پولیس سرجن نے خود موقع پر یا بعد ازاں لاش کا معائنہ کیوں نہیں کیا؟ یہ سوالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ نظام میں نگرانی اور جوابدہی کے مؤثر طریقۂ کار پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں پوسٹ مارٹم کے دوران کئی تکنیکی خامیاں اکثر سامنے آتی رہی ہیں۔ ان میں جلد بازی میں معائنہ مکمل کرنا، جسم کے اندرونی معائنے میں کمی، زخموں کی درست پیمائش نہ کرنا، ناقص فرانزک فوٹوگرافی، ایکسرے اور ڈی این اے نمونوں کا بروقت تحفظ نہ کرنا اور شواہد کے تحفظ کے بین الاقوامی اصولوں پر مکمل عمل درآمد نہ ہونا شامل ہے۔

کرائم سین مینجمنٹ کو بھی ایک بڑی کمزوری قرار دیا جا رہا ہے۔ متعدد مواقع پر جائے وقوعہ کو فوری طور پر محفوظ نہیں بنایا جاتا، جس کے باعث خون، بال، انگلیوں کے نشانات اور دیگر اہم فرانزک شواہد ضائع ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی جیسے تھری ڈی میپنگ، لیزر اسکیننگ اور ڈیجیٹل کرائم سین ڈاکیومنٹیشن کا استعمال بھی محدود ہے، جبکہ مختلف اداروں کے درمیان مؤثر رابطے کا فقدان تحقیقات کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔

ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ کسی بھی سنگین جرم کی تفتیش میں ابتدائی ایک گھنٹہ انتہائی اہم ہوتا ہے۔ اگر اسی مرحلے پر شواہد محفوظ نہ کیے جائیں تو بعد میں جدید ترین فرانزک سہولیات بھی مکمل نتائج فراہم نہیں کر سکتیں۔ اسی طرح ڈی این اے، بیلسٹک اور ٹاکسیکالوجی رپورٹس میں تاخیر بھی انصاف کی فراہمی کے عمل کو متاثر کرتی ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق جدید دنیا میں کامیاب تفتیش کا انحصار اعترافی بیانات کے بجائے سائنسی شواہد پر ہوتا ہے۔ اگر تفتیشی ادارے جدید فرانزک طریقوں، تربیت یافتہ عملے، جدید آلات اور مؤثر نگرانی کے نظام سے لیس نہ ہوں تو نہ صرف مقدمات کمزور ہوتے ہیں بلکہ عوام کا انصاف کے نظام پر اعتماد بھی متاثر ہوتا ہے۔

میر رضا کیس نے ایک مرتبہ پھر اس حقیقت کو نمایاں کر دیا ہے کہ کراچی میں پولیس، فرانزک اور میڈیکو لیگل نظام میں جامع اصلاحات، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، شفاف احتساب اور اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی کے بغیر مؤثر اور قابلِ اعتماد نظامِ انصاف کا قیام ایک بڑا چیلنج رہے گا۔

Back to top button