پاکستان میں توہینِ مذہب کے مقدمات اچانک کم کیوں ہونے لگے؟

پاکستان میں توہینِ مذہب کے الزامات پر ہونے والے ہنگاموں اور پرتشدد واقعات میں اچانک آنے والی نمایاں کمی نے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک برطانوی خبر رساں ادارے کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ریاستی سطح پر کیے گئے سخت اقدامات، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مؤثر حکمتِ عملی اور شدت پسند عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد ایسے واقعات اور مقدمات میں واضح کمی دیکھی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس تبدیلی کو پاکستان کے داخلی امن، مذہبی ہم آہنگی اور عالمی سطح پر ملک کے تشخص سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے قانون کی عملداری کو ہر صورت یقینی بنایا جا رہا ہے۔ جس کی وجہ سے جھوٹے توہین مذہب کے مقدمات کے اندراج میں کمی واقع ہوئی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں توہینِ مذہب سے متعلق واقعات اور مقدمات میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ رپورٹ میں حکومتی اور سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی نگرانی میں شدت پسند مذہبی گروہوں کے خلاف کیے گئے اقدامات کے بعد ایسے عناصر کی سرگرمیاں محدود ہو گئی ہیں، جس کے نتیجے میں ہجوم کے ذریعے تشدد کے واقعات میں بھی کمی دیکھی گئی۔
رپورٹ کے مطابق 2021 سے 2024 کے دوران اوسطاً ہر سال سات سے زائد بڑے واقعات سامنے آتے رہے، تاہم گزشتہ بارہ ماہ کے دوران صرف ایک بڑا واقعہ رپورٹ ہوا۔ اسی طرح رواں برس توہینِ مذہب کے درج مقدمات میں بھی تقریباً دو تہائی کمی آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں کراچی کے ایک حالیہ واقعے کا حوالہ دیا گیا ہے، جہاں ایک مسیحی خاندان پر توہینِ مذہب کے الزامات کے بعد مشتعل ہجوم جمع ہو گیا تھا۔ پولیس حکام نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے متاثرہ خاندان کو محفوظ مقام پر منتقل کیا اور ہجوم کو منتشر کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ پولیس افسر سنگھار علی ملک کے مطابق انہوں نے لوگوں کو باور کرایا کہ اسلام کسی کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دیتا، جس کے بعد ہجوم پرامن انداز میں منتشر ہو گیا۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ماضی میں ایسے واقعات کے دوران شدت پسند مذہبی گروہ ہجوم کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے تھے، تاہم حالیہ واقعے میں ایسے عناصر نمایاں طور پر غیر فعال دکھائی دیے۔ تجزیہ کاروں اور ذرائع کے مطابق یہ صورتِ حال ریاستی کریک ڈاؤن کا نتیجہ ہو سکتی ہے۔
وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بھی رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا کہ ریاست نے ماضی کے تجربات سے سبق سیکھا ہے اور اب قانون کی عملداری کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کسی بھی شہری کو ہجوم کے رحم و کرم پر نہ چھوڑا جائے۔
رپورٹ میں بعض ذرائع کے حوالے سے یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی کا مقصد نہ صرف داخلی امن کو مضبوط بنانا تھا بلکہ پاکستان کی عالمی ساکھ بہتر بنانا، بیرونی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا اور مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم کرنا بھی اس حکمتِ عملی کا حصہ تھا۔
اگرچہ رپورٹ میں پیش کیے گئے دعوے اپنی جگہ اہم ہیں، تاہم اس موضوع پر مختلف حلقوں کی آراء بھی موجود ہیں۔ ماہرین کے مطابق پائیدار امن اور مذہبی ہم آہنگی کے لیے صرف سکیورٹی اقدامات ہی نہیں بلکہ قانون کی غیر جانبدارانہ عملداری، فوری انصاف، مذہبی برداشت اور عوامی شعور میں اضافے کی بھی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی شہری کو ہجوم کے تشدد کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
