مریم نواز کیخلاف پیکا ایکٹ کے تحت کارروائی کا مطالبہ کیوں ہونے لگا؟

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا شمار ان سیاستدانوں میں ہوتا ہے جو کسی نہ کسی حوالے سے خبروں کی زینت بنی رہتی ہیں پھر چاہے وہ مریم نواز کی سیاسی سرگرمیاں ہوں یا ان کی ڈریسنگ، مخالفین انہیں تنقید کا نشانہ بناتے نظرآتے ہیں۔

حال ہی مریم نواز ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوع بحث اس وقت بنیں جب پنجاب حکومت کا ایک سال مکمل ہونے پر پاکستان کے مختلف اخبارات کے فرنٹ پیج پر ایک اشتہار شائع ہوا جس میں خبریں نہیں تھیں بلکہ صرف مریم نواز کے بیانات اور منصوبوں کے اعلانات کو خبر نما اشتہارات کا حصہ بنایا گیا تھا۔اخبارات کا فرنٹ پیج دیکھنے میں تو ایسا لگتا ہے کہ یہ خبریں ہیں مگر اصل میں یہ ایک اشتہار تھا جس میں ہر طرف مریم نواز ہی نظر آئیں۔ پنجاب حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے اشتہار میں لکھا گیا ہے کہ ’جذبہ خدمت ہو تو کچھ بھی ناممکن نہیں‘۔ اخبارات کے پورے صفحے پر مریم نواز کی جانب سے کیے جانے والے اعلانات لگائے گئے تھے۔

پنجاب حکومت کے 25 فروری کو متعدد اخبارات کے پورے صفحے اول پر وزیر اعلیٰ مریم نواز کے منصوبوں سے متعلق خبر نما اشتہار سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں ہے۔اہم بات یہ ہے کہ کسی بھی ’خبر‘ سے یہ واضع نہیں کہ یہ تمام تر پنجاب حکومت کے اشتہار ہیں۔ سرکاری اشتہار کو خبر کی طرز پر پیش کرنے پر صحافیوں اور سوشل میڈیا صارفین تنقید کر رہے ہیں جبکہ متعدد ناقدین کی جانب سے ڈس انفارمیشن پھیلانے پر وزیر اعلی مریم نواز کیخلاف پیکا ایکٹ کے تحت کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے

یہ اشتہار سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تو پنجاب حکومت اور مریم نواز کو خوب تنقید کا نشانہ بنایا گیا، معروف پاکستانی اداکار، کامیڈین و میزبان شفاعت علی نے لکھا کہ کیا اشتہار کو خبروں کی طرح چھاپنا جعلی خبریں پھیلانے کے مترادف نہیں؟ آج جن اخبارات نے فرنٹ پیج پر اس اشتہار کو چھاپا ہے ان پہ پیکا نہیں لگتا ؟

ایک صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ یہ اخبار نہیں، پورا اشتہار ہے صحافت پہ کیسا یہ زوال ہے۔

صحافی نجم ولی خان نے لکھا کہ اگر آپ کو یہ لگے کہ کراچی، پشاور، کوئٹہ اور اسلام آباد کے قارئین کو صرف یہ ’خبریں‘ پڑھانا صحافت نہیں تو آپ کو بتانا ہے کہ یہ حکومت پنجاب کا وزیراعلی مریم نواز کی ایک برس کی کارکردگی پر خبروں کی صورت اشتہار ہے۔ نیچے جاری کرنے والوں کا نام، لوگو، نعرہ اور ریلیز آرڈر نمبر بھی موجود ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ویسے یہ دلچسپ آئیڈیا ہے کہ آج پی ٹی آئی اور پیپلزپارٹی کے حامی بھی ملک بھر میں جو بھی اخبار اٹھائیں گے، وزیراعلی پنجاب مریم نواز کے ہی کارنامے پڑھیں گے۔

ارم زعیم لکھتی ہیں کہ ان عقل سے عاری لوگوں کو بتاؤ جب ترقی ہوتی ہے تو دکھتی ہے، اس کے لیے اشتہار اور میڈیا مینجمنٹ نہیں کرنی پڑتی۔

پاکستان تحریک انصاف کی سینئر رہنما مسرت چیمہ نے کہا ہے کہ چند پیسے اضافی کمانے کے لیے اشتہارات کو خبروں کی طرح چھاپ دیا جاتا ہے اور پھر حیران ہو کے پوچھتے ہیں کہ اب عوام اخبار کیوں نہیں پڑھتے۔

رضوان غلزئی نے لکھا کہ عوام مزید ٹیکس دیں تاکہ ان کے پیسے سے میڈیا مالکان کو اربوں روپے کے اشتہارات دے کر سب اچھا دکھایا جائے۔

شاکر محمود اعوان لکھتے ہیں کہ صحافت برائے فروخت، صحافت کا جنازہ۔

پاکستان کی نجی نیوز چینل ’ہم نیوز‘ سے وابستہ تحقیقاتی صحافی زاہد گشکوری نے ایکس پر لکھا ’ یہ معاملہ بظاہر پیکا 2025 کے تحت آتا ہے۔’یہ مجرمانہ غفلت، نااہلی، عوام کو گمراہ کرنے، حقائق کے برعکس اور گمراہ کن اشتہارات دینے کا سنگین معاملہ ہے جو میڈیا اخلاقیات کی خلاف ورزی ہے۔‘انہوں نے مزید لکھا کہ ’جب قانون ساز اور اس کے داعی خود قانون توڑیں گے تو باقی کون اس کی پیروی کرے گا؟‘

صحافی اور اینکر پرسن مطیع اللہ جان نے لکھا ’ یہ میڈیا مالکان اور ایڈیٹر صاحبان کی غیرت کا بھی جنازہ ہے۔‘

پبلک نیوز سے وابسطہ صحافی عتیق چوہدری نے لکھا کہ ’اردو اخبارات کے فرنٹ پیج پر خبروں پر مشتمل پنجاب حکومت کا اشتہار کیا یہ صحافتی اخلاقیات کی دھجیاں بکھیرنے کے مترادف نہیں ہے؟‘

میچ معجزے اور دعا سے نہیں بلکہ پرفارمنس کی بنیاد پر جیتے جاتے ہیں

اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سینیئر صحافی مظہر عباس کا کہنا تھا کہ ’یہ چیز اصل میں ڈس انفارمیشن ہے، یہ فیک نیوز کی قسم ہے کیوں کہ آپ اپنے قارئین کو کنفیوژ کر رہے ہیں۔‘’آپ اپنے قارئین کو یہ بتا رہے ہیں کہ اخبار کا پہلا صفحہ خبروں سے بھرا پڑا ہے اور یہ ساری خبریں ایک ہی جماعت کی ہیں جن میں مریم نواز صاحبہ کا ذکر ہے۔’اس میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ ملک کے بڑے اخباروں کے پہلے صفحے پر ان کے کارنامے دکھائے جا رہے ہیں۔‘مظہر عباس کی رائے کے مطابق یہ اشتہار کی شکل میں ہوتا تو اور بھی بات تھی مگر ایسے طریقہ کار کو روکنے کی ضرورت ہے۔ ’شاید ماضی میں بھی ایسا ہوتا رہا ہو گا مگر مسلم لیگ ن اور اشتہاری کمپنیوں کو خود ایسے طریقہ کار کو روکنا ہو گا۔

Back to top button