کیا تحریک انصاف پرپابندی سے عمرانڈومافیا کنٹرول ہو پائے گا؟

سینئر صحافی انصار عباسی کا کہنا ہے کہ عمران خان، تحریک انصاف اور اس پارٹی کے سوشل میڈیا نے ایسا ایسا کام کیا جس کی مثال نہیں ملتی۔ فوج پر9 مئی کے دن حملے کیے، سوشل میڈیا کے ذریعے افواج پاکستان کو بار بار نشانہ بنایا، پاکستان کو معاشی طور پر نقصان پہنچانے کیلئے آئی ایم ایف پروگرام کو سبوتاژ کرنے کی ایک سے زیادہ بار کوشش کی، امریکا اور یورپ میں فوج مخالف مہمیں چلائیں، پاکستان پر پابندیاں لگوانے کیلئے کوششیں کیں۔لیکن حکومت کی جانب سے جب جب اور جس جس کے خلاف ایکشن لینے کا وقت تھا اُس وقت تو ایکشن نہیں لیا گیا لیکن اب سپریم کورٹ کے مخصوص نشستوں کے حوالے سے تحریک انصاف کے حق میں بڑے فیصلے کے بعد غصے میں یہ فیصلہ کرنا کہ تحریک انصاف پر ہی پابندی لگا دی جائے تو سب ٹھیک ہو جائے گا، ایسا کرنے سے کچھ نہیں ملنے والا۔ انصار عباسی کے مطابق سپریم کورٹ کا فیصلہ بالکل متنازع ہے جس پر اُس کے خلاف ریویو میں ضرور جائیں لیکن اس فیصلے پر حکومت اور ن لیگ نے جس طرح کا ردعمل دیا اُس سے ایسا لگا جیسے حکومت ہی جانے والی ہے ۔ اس سے سیاسی عدم استحکام زیادہ بڑھا۔ ورنہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد سے نہ حکومت کو کوئی خطرہ تھا نہ تحریک انصاف کو کچھ بڑا ملنے والا تھا اور نہ ہی عمران خان نے جیل سے باہر آ جانا تھا۔تاہم حکومت نے جذباتی ردعمل دے کر ایک سیاسی ہیجان پیدا کر دیا۔
سینئر صحافی انصار عباسی کا مزید کہنا ہے کہ اب پاکستان تحریک انصاف پر پابندی کی باتیں ہو رہی ہیں۔ نہیں معلوم اس سے کیا حاصل ہو گا تاہم لگتا ہے اس فیصلے پر عملدرآمد سے عمران خان اور تحریک انصاف کو مزید عوامی مقبولیت مل جائے گی۔ تحریک انصاف پر پابندی لگ جائے گی تو نئے نام سے یہ سیاسی جماعت سیاست شروع کر دے گی۔ جس کا حکومت کا سیاسی فائدے کی بجائے نقصان ہو گا۔
انصار عباسی کے بقول ڈنڈا ہر چیز کا علاج نہیں ہوتا۔ بجائے اس کے کہ نئے نئے الزام لگا کر نئے نئے کیس بنا کر تحریک انصاف اور اس کے رہنماوں پر سختیاں بڑھائی جائیں جس کا اب تک اُنہی کو فائدہ ہوا ہے۔ تحریک انصاف قیادت کیخلاف جو مقدمے پہلے سے درج کروائے گئے ہیں اُنہیں تو منطقی انجام تک پہنچالیں۔ انصار عباسی کے مطابق 9 مئی کے واقعات بہت سنگین تھے لیکن آج تک کسی ایک فرد کو سزا تو دلوانہیں سکے، بلکہ کئی مقدمات میں اب تک پولیس چالان ہی مکمل نہیں کر سکی۔ عدالتوں سے گلہ ضرور کریں لیکن کسی بھی قانون دان سے بات کرلیں کہ کیا جس جلدی میں اور جس طرح ملزمان کو دفاع کا حق دئیے بغیر عمران خان، شاہ محمود قریشی اور بشریٰ بی بی کوانتخابات سے قبل ایک ہفتہ کے اندر تین کیسوں میں سزائیں دی گئیں ایسی سزائیں کیا اعلیٰ عدلیہ کے سامنے ٹھہر سکتی ہیں؟ اس انداز میں مقدمات چلانے اور عدالتی فیصلوں نے تو سائفر اور توشہ خانہ جیسے بظاہر مضبوط مقدمات کو بھی تباہ کر دیا۔ اب کہتے ہیں کہ تحریک انصاف پر پابندی لگائیں گے۔چلیں حکومت تو یہ فیصلے کر لے گی لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا سپریم کورٹ ایسے فیصلے کی تصدیق کرے گی؟؟جس کا جواب ہے ہرگز نہیں۔
انصار عباسی کا مزید کہنا ہے کہ اب حکومت کے بڑے بڑے وزیر خود ہی یہ کہنا شروع ہو گئے ہیں کہ ملک میں آئینی بحران کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ جب حکومت ایسی باتیں کرے گی تو پھر سیاسی عدم استحکام ہی بڑھے گا اور معیشت کی بہتری کیلئے جو کوششیں کی جا رہی ہیں وہ ضائع ہو جائیں گی اور ایسا ہی ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ حکومت خود نئے بحران پیدا کرنا چاہ رہی ہیں جبکہ اس کی سار ی کی ساری توجہ معاشی حالات کو بہتر بنانے اور مہنگائی پر قابو پانے پر ہونی چاہیے۔
