اسٹیبلشمنٹ کا کھلونا عمران اچانک اینٹی اسٹیبلشمنٹ کیوں بن گیا؟

عمران خان اس وقت خود کو عوام کے سامنے اینٹی اسٹیبلشمنٹ ثابت کرنے کیلئے سر دھڑ کی بازی لگا رہے ہیں تاہم تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ عوام اس وقت اینٹی اسٹیبلشمنٹ ضرور ہیں لیکن عمران خان اینٹی اسٹیبلشمنٹ نہیں ہیں بلکہ۔ وہ صرف اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ناراض ہیں کہ مجھے جیل میں کیوں رکھا ہوا ہے۔پی ٹی آئی کا تمام تر انحصار عدالتوں پر ہے، وہ سیاسی بات چیت کی طرف نہیں جا رہے۔ تاہم سیاسی گٹھ جوڑ کے بغیر عمران خان جیل سے باہر نہیں آ سکتے لیکن عمران خان اس وقت بھی حصول اقتدار کیلئے صرف فوج کے ساتھ ہی بات چیت کے خواہشمند ہیں۔ اسی لئے انھوں نے دباؤ بڑھانے کیلئے مسلسل فوجی اسٹیبلشمنٹ کو نشانے پر لے رکھا ہے۔پاکستان کی سیاست جس طرف بڑھ رہی ہے اس سے کوئی اچھا نتیجہ نکلنے کی امید نہیں ہے۔
مبصرین کے مطابق عمران خان سمجھتے ہیں اسٹیبلشمنٹ پر جتنی تنقید کریں گے اتنے ہی مقبول ہوں گے، اس صورتحال میں حکومت کو نہ چاہتے ہوئے بھی پی ٹی آئی پر پابندی لگانا پڑے گی۔تاہم بعض تجزیہ کاروں کے بقول ن لیگ پی ٹی آئی پر پابندی کے معاملہ میں زیادہ سنجیدہ نہیں ہے، حکومت پی ٹی آئی کو صرف ڈرارہی ہے ایسی بیوقوفی نہیں کرے گی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس وقت تمام فریق بند گلی میں پھنس گئے ہیں ہر فریق سمجھتا ہے پیچھے ہٹنے پر اسے نقصان ہوگا،
سینئر صحافی مظہر عباس کے مطابق موجودہ حالات میں حکومت کی حکمت عملی سیاسی کم اور انتظامی زیادہ لگ رہی ہے، حکومت پی ٹی آئی پر پابندی اور گرفتاریوں جیسے اقدامات کررہی ہے دوسری جانب تحریک انصاف کنفیوژن کا شکار ہے کہ تحریک کس طرح چلائیں، چھ جماعتی اپوزیشن اتحاد اب تک تحریک چلانے کا کوئی واضح لائحہ عمل سامنے لانے میں یکسر ناکام ہے تاہم پی ٹی آئی سمجھتی ہے نئے انتخابا ت ہوئے تو وہ دوتہائی اکثریت حاصل کرلے گی
دوسری جانب سینئر تجزیہ کار محمل سرفراز کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں حکومت اور پی ٹی آئی کسی کی سیاسی حکمت عملی نظر نہیں آرہی ہے، ایک طرف عوام میں مقبولیت ہے تو دوسری طرف اقتدار اور طاقت ہے، پی ٹی آئی نئے الیکشن کی بات کررہی ہے لیکن ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا، حکومت کا فوکس کسی پارٹی پر پابندی کے بجائے معیشت اور دہشتگردی پر ہونا چاہئے تھا، حکومت کے عدلیہ کیخلاف محاذ آرائی سے بہت مسائل پیدا ہورہے ہیں۔ تاہم سینئر صحافی ارشاد بھٹی کے مطابق موجودہ حالات میں تحریک انصاف کے پاس سیاست،بیانیہ اور مقبولیت ہے، پی ٹی آئی کو عدالتوں سے ریلیف اور بیرونی دنیا سے حمایتیں مل رہی ہیں، پچھلے ڈھائی تین سالہ کریک ڈاؤن کے باوجود عمران خان اور پارٹی برقرار ہے، تاہم ملک میں سیاسی افراتفری ختم ہونے کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا ہے، تحریک انصاف کیلئے نو مئی سے نکلنا سب سے بڑا چیلنج ہے، اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے لڑائیوں کا رخ موڑ کر سیاست کی طرف کرنا اس کا بڑا چیلنج ہے۔
تاہم سینئر صحافی عمر چیمہ کا کہنا ہے کہ ملک میں سیاسی طور پر ڈیڈ لاک ہے کسی کے پاس حل نہیں ہے، حکومت کی حکمت عملی صرف رد عمل دینے کی ہے، چار دن پہلے پی ٹی آئی پر پابندی کی بات کی مگر ابھی تک معاملہ کابینہ میں بھی پیش نہیں کرسکی ہے، اس وقت لڑائی میں دو فریق عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ ہیں، حکومت اسٹیبلشمنٹ کی بی پارٹی ہے جبکہ اپوزیشن کے نام پر صرف عمران خان ہیں۔ تاہم دونوں فریق پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں اس لئے عدالتوں کی طرف سے ریلیف کی فراہمی کے باوجود عمران خان اور پی ٹی آئی کی مشکلات کم ہوتی دکھائی نہیں دیتیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اداروں کے مابین جاری چپقلش دراصل اشرافیہ کی لڑائی ہے جس میں عوام سمجھتے ہیں کہ فوج کو پیچھے دھکیلا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو نظرانداز کرنا دانشمندی نہیں ہے۔ اس وقت عدلیہ بھی منقسم ہے۔ ہم سٹرکچرل تبدیلی کی طرف نہیں بڑھ رہے اور نہ ہی پاکستان میں اداروں کی سطح پر کوئی بڑی تبدیلی آتی دکھائی دے رہی ہے ۔مبصرین کے مطابق اپنے دور حکومت میں عمران خان بہت غیر مقبول تھا، اس کی گورننس زیرو تھی۔ سیاست دانوں کو سمجھنا ہو گا کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کا رول تب تک نہیں ختم کر سکتے جب تک اچھی کارکردگی نہیں دکھاتے۔ عمران خان دوبارہ اقتدار میں آتے ہیں تو بھی وہ بہت جلد دوبارہ غیر مقبول ہو جائیں گے۔
