کیا پاکستان اور قطر،ایران امریکہ جنگ روکنے میں کامیاب ہو پائیں گے؟

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر خطرناک موڑ پر کھڑا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی، خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں پر حملے، آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت میں رکاوٹ اور جنگ بندی پر بڑھتے دباؤ نے پورے خطے کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ ایسے نازک وقت میں پاکستان، قطر اور عمان نے ایک مرتبہ پھر سفارتی محاذ پر سرگرم ہوتے ہوئے دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
سفارتی ذرائع کے مطابق اسلام آباد اور دوحہ کے درمیان مسلسل رابطے جاری ہیں، جبکہ عمان بھی اپنی روایتی غیر جانبدارانہ سفارتکاری کے ذریعے اعتماد سازی میں کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان کی کوشش ہے کہ حالیہ کشیدگی مزید وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل نہ ہو اور امریکہ و ایران دوبارہ سیاسی اور سفارتی مذاکرات کا آغاز کریں۔
خیال رہے کہ یہ سفارتی سرگرمیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکہ اور ایران کے درمیان فوجی کارروائیوں کا سلسلہ تیزی اختیار کر چکا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایران میں امریکی حملوں کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا، جبکہ جواباً تہران نے بحرین، کویت، عراق، قطر اور اردن میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا۔ اگرچہ مختلف فریق اپنے اپنے دعوے کر رہے ہیں، تاہم مجموعی صورتحال خطے میں شدید کشیدگی کی عکاسی کر رہی ہے۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز، جو دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، وہاں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت بھی شدید متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔ عالمی منڈیوں میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ، عالمی سپلائی چین میں خلل اور توانائی کے نئے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کی سفارتی کوششوں کی بنیاد حالیہ "اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” پر ہے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کے لیے نئی راہیں کھلی تھیں۔ اب اسلام آباد اسی سفارتی رفتار کو برقرار رکھتے ہوئے امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ مذاکرات کی بحالی کے لیے سرگرم ہے۔ قطر، جو ماضی میں بھی کئی حساس علاقائی اور بین الاقوامی تنازعات میں ثالث کا کردار ادا کر چکا ہے، اس عمل میں پاکستان کا قریبی شراکت دار بنا ہوا ہے۔
ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سعودی عرب، عمان اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کے ساتھ الگ الگ ٹیلی فونک رابطے کیے، جن میں خطے کی تازہ صورتحال، آبنائے ہرمز کی سلامتی اور کشیدگی کم کرنے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسی دوران انہوں نے پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے امریکی حملوں کی مذمت کی اور انہیں بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی قرار دیا۔
ایران نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور سیکریٹری جنرل کو بھی باضابطہ خط ارسال کرتے ہوئے امریکی کارروائیوں پر احتجاج ریکارڈ کرایا ہے، جبکہ ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ اگر حملے جاری رہے تو دفاع کا حق استعمال کیا جائے گا۔ پاسدارانِ انقلاب نے بھی خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز یا ایرانی سرزمین پر کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت کا سخت جواب دیا جائے گا۔
ادھر ترکیہ، مصر، سعودی عرب اور دیگر علاقائی طاقتیں بھی سفارتی رابطوں میں مصروف ہیں تاکہ جنگ کے دائرہ کار کو وسیع ہونے سے روکا جا سکے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ کشیدگی پر بروقت قابو نہ پایا گیا تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں، سمندری تجارت اور علاقائی سلامتی بھی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کا کردار اس لیے بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ حالیہ مہینوں میں اسلام آباد نے متعدد علاقائی تنازعات میں فعال سفارتکاری کا مظاہرہ کیا ہے۔ اگر پاکستان، قطر اور عمان کی مشترکہ کوششیں امریکہ اور ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیاب ہو جاتی ہیں تو نہ صرف خطے میں جنگ کے خطرات کم ہو سکتے ہیں بلکہ پاکستان کا بین الاقوامی سفارتی وقار بھی مزید مضبوط ہوگا۔اس وقت پوری دنیا کی نظریں ان سفارتی کوششوں پر مرکوز ہیں، کیونکہ آنے والے چند دن یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ ایک نئی جنگ کی طرف بڑھتا ہے یا پھر سفارتکاری ایک مرتبہ پھر بندوقوں پر غالب آتی ہے۔
