ٹرمپ کے قتل کی ایرانی سازش بے نقاب، اسرائیلی انٹیلی جنس کے بڑے دعوے

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایک نئی اور حساس پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی انٹیلی جنس نے امریکا کو ایسی نئی خفیہ معلومات فراہم کی ہیں جن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ایک مبینہ اور مخصوص ایرانی منصوبے کا ذکر کیا گیا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی تاحال امریکی حکومت نے باضابطہ تصدیق نہیں کی، جبکہ ایران کی جانب سے بھی فوری طور پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ امریکی سکیورٹی اداروں کو ماضی میں بھی صدر ٹرمپ کے خلاف ممکنہ خطرات سے متعلق مختلف نوعیت کی اطلاعات موصول ہوتی رہی ہیں، لیکن اسرائیل کی جانب سے حالیہ فراہم کی جانے والی معلومات ایک نئے اور مخصوص مبینہ منصوبے سے متعلق ہیں، جس نے امریکی حکام کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔

اسی نوعیت کی رپورٹ وال اسٹریٹ جرنل نے بھی شائع کی، جس میں نام ظاہر نہ کرنے والے ذرائع کے حوالے سے کہا گیا کہ اسرائیلی انٹیلی جنس نے واشنگٹن کو صدر ٹرمپ کے خلاف ایک مبینہ ایرانی منصوبے سے آگاہ کیا ہے۔ دونوں امریکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں یہ دعویٰ ضرور کیا گیا، تاہم ان میں مبینہ منصوبے کی نوعیت، شواہد یا ممکنہ کارروائی کی تفصیلات سامنے نہیں لائی گئیں۔

خیال رہے کہ یہ رپورٹس ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان فوجی کشیدگی ایک مرتبہ پھر شدت اختیار کر چکی ہے۔ حالیہ دنوں دونوں ممالک کے درمیان عسکری کارروائیوں، جوابی حملوں اور سخت بیانات نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سکیورٹی بھی غیر معمولی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ نیٹو سربراہی اجلاس کے بعد صدر ٹرمپ نے ترکیہ سے واپسی کے لیے معمول کے بجائے مختلف طیارہ استعمال کیا، جس کے بعد سکیورٹی خدشات سے متعلق مختلف قیاس آرائیاں بھی سامنے آئیں۔ تاہم امریکی حکام نے اس تبدیلی کو مبینہ ایرانی منصوبے سے جوڑنے کی کوئی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ایران نے ان میڈیا رپورٹس پر فوری طور پر کوئی سرکاری مؤقف جاری نہیں کیا۔ دوسری جانب امریکی حکومت نے بھی اسرائیلی انٹیلی جنس سے متعلق ان اطلاعات کی نہ تو تصدیق کی ہے اور نہ ہی ان کی تردید کی ہے، جس کے باعث صورتحال غیر یقینی کا شکار ہے۔

واضح رہے کہ ایران کئی برسوں سے جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا ذمہ دار سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قرار دیتا رہا ہے۔ جنوری 2020 میں بغداد ایئرپورٹ کے قریب امریکی ڈرون حملے میں پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی مارے گئے تھے، جس کے بعد ایران نے متعدد مواقع پر انتقام لینے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ اس واقعے نے دونوں ممالک کے تعلقات کو شدید کشیدگی کی طرف دھکیل دیا تھا۔

ادھر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی حالیہ دنوں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں معلوم ہے وہ مختلف عناصر کی ہدفی فہرست میں شامل ہیں۔ ان کے بقول، "وہ امریکا کے رہنما، یعنی مجھے، نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔ میں نے آج صبح دیکھا کہ میں ان کی ہر فہرست میں موجود ہوں۔”بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے حساس دعووں کو اس وقت تک حتمی حقیقت نہیں سمجھا جا سکتا جب تک متعلقہ حکومتیں یا آزاد تحقیقاتی ادارے ان کی تصدیق نہ کریں۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں اطلاعاتی جنگ، نفسیاتی دباؤ اور انٹیلی جنس دعوے بھی سفارتی اور عسکری کشیدگی کا حصہ بن چکے ہیں، اس لیے ہر دعوے کا تنقیدی جائزہ لینا ضروری ہے۔اگرچہ اس مبینہ منصوبے کی آزادانہ تصدیق ابھی تک سامنے نہیں آئی، تاہم یہ رپورٹس اس حقیقت کی عکاسی ضرور کرتی ہیں کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے اور کسی بھی نئی پیش رفت کے خطے اور عالمی سلامتی پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

Back to top button