شارجہ سے کراچی آنے والا جہاز بحیرہ عرب میں کیسے گرا؟

کراچی پہنچنے میں صرف چند منٹ باقی تھے، مگر شارجہ سے اڑان بھرنے والا کے ٹو ایئرویز کا کارگو طیارہ بحیرہ عرب میں ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا۔ ملبہ مل چکا ہے، مگر عملے کے پانچوں ارکان اور حادثے کے سب سے اہم گواہ یعنی بلیک باکس کی تلاش اب بھی جاری ہے۔ اس المناک حادثے نے کئی سنگین سوالات کو جنم دیا ہے۔ کیا شارجہ میں سامنے آنے والی فنی خرابی مکمل طور پر دور کر دی گئی تھی؟ کیا نیویگیشن سسٹم میں پیدا ہونے والا مسئلہ حادثے کی بنیاد بنا یا کوئی اور تکنیکی خرابی طیارے کو تباہی کی طرف لے گئی؟ ماہرین کے مطابق ان سوالات کا حتمی جواب صرف بلیک باکس ہی دے سکتا ہے، جبکہ ابتدائی معلومات، فلائٹ ڈیٹا اور اہلِ خانہ کے بیانات اس سانحے کو مزید پراسرار بنا رہے ہیں۔

شارجہ سے کراچی آنے والے بوئنگ 737 کارگو طیارے کا پاکستانی فضائی حدود کے قریب ریڈار سے اچانک غائب ہونا اور پھر بحیرہ عرب میں اس کا ملبہ ملنا ملکی ہوابازی کے حالیہ برسوں کے اہم ترین حادثات میں شمار کیا جا رہا ہے۔ پاکستان نیوی، ایئرپورٹ اتھارٹی اور بیورو آف ایئر سیفٹی انویسٹی گیشن مشترکہ طور پر سرچ اور تحقیقات میں مصروف ہیں، جبکہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے بلیک باکس کی بازیابی کو سب سے اہم مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔

تحقیقات کے دوران سامنے آنے والی معلومات کے مطابق یہ طیارہ کئی روز تک شارجہ میں فنی خرابی کے باعث کھڑا رہا۔ اہلِ خانہ، کمپنی حکام اور ذرائع کا کہنا ہے کہ جہاز کے ایک اہم پرزے میں خرابی پیدا ہوئی تھی، جسے امریکہ سے منگوا کر تبدیل کیا گیا۔ بعد ازاں انجینیئرز نے معائنہ مکمل کیا اور مقامی ایوی ایشن حکام سے کلیئرنس ملنے کے بعد ہی پرواز روانہ ہوئی۔

حادثے سے قبل طیارے نے نیویگیشن سسٹم میں مسئلے کی اطلاع دی تھی، تاہم ایوی ایشن ماہرین کے مطابق صرف نیویگیشن کی خرابی عام طور پر اس نوعیت کے تباہ کن حادثے کی وجہ نہیں بنتی۔ فلائٹ ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ طیارہ انتہائی غیر معمولی انداز میں چند لمحوں کے اندر ہزاروں فٹ نیچے آیا، پھر اچانک بلندی حاصل کی اور اس کے بعد تیزی سے زمین کی جانب گرنے لگا۔ ماہرین اسے ایک غیر معمولی اور تشویشناک فلائٹ پروفائل قرار دے رہے ہیں۔

بعض ماہرین کا خیال ہے کہ اگر اینرشل ریفرنس سسٹم یا اس سے منسلک آلات میں دوبارہ خرابی پیدا ہوئی ہو تو رات کے اندھیرے میں سمندر کے اوپر پرواز کے دوران پائلٹ کو سمت اور جہاز کی کیفیت کا درست اندازہ لگانے میں دشواری پیش آ سکتی ہے۔ دوسری جانب بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ طیارے کی آخری حرکات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ممکنہ طور پر عملہ جہاز پر مکمل کنٹرول برقرار نہیں رکھ سکا۔

اس حادثے میں پائلٹ، فرسٹ آفیسر، لوڈ ماسٹر اور دو انجینیئرز سوار تھے، جن کے اہلِ خانہ اب بھی کسی معجزے کی امید اور تحقیقات کے نتائج کے منتظر ہیں۔ حادثے سے قبل اہلِ خانہ کو بھیجے گئے وائس نوٹس اور گفتگو سے معلوم ہوتا ہے کہ عملہ خود کو محفوظ سمجھ رہا تھا اور معمول کے مطابق کراچی پہنچنے کی توقع کر رہا تھا۔

اب تمام نظریں سرچ آپریشن اور بلیک باکس کی بازیابی پر مرکوز ہیں، کیونکہ ماہرین کے مطابق اسی میں محفوظ فلائٹ ڈیٹا اور کاک پٹ وائس ریکارڈنگ اس سانحے کے اصل اسباب سامنے لا سکتی ہے۔ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ ایک ماہ کے اندر متوقع ہے، تاہم حتمی نتائج ہی یہ طے کریں گے کہ یہ حادثہ فنی خرابی، انسانی عوامل یا کسی اور سبب کا نتیجہ تھا۔

Back to top button