پاکستان میں ایڈز کے بڑھتے کیسز نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

پاکستان میں ایچ آئی وی ایڈز وائرس کے پھیلاؤ میں تشویشناک اضافے نے صحت کے شعبے کے لیے نئے خطرات پیدا کر دئیے ہیں۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کے اجلاس میں وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال نے انکشاف کیا کہ اسلام آباد سمیت ملک کے بڑے شہروں میں ہر ماہ اوسطاً 35 سے 40 نئے ایچ آئی وی کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ صرف وہ افراد ہیں جو علامات ظاہر ہونے کے بعد ٹیسٹ کرواتے ہیں، جبکہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ معاشرتی بدنامی، خوف اور آگاہی کی کمی کے باعث بہت سے لوگ اپنا ٹیسٹ ہی نہیں کرواتے۔

وفاقی وزیر نے ایچ آئی وی کی موجودہ صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ بڑے شہروں میں نوجوانوں میں بڑھتا ہوا نائٹ پارٹی کلچر، آئس سمیت دیگر منشیات کا استعمال اور اس کے نتیجے میں غیر محفوظ جنسی رویے اس وائرس کے پھیلاؤ کی ایک نئی اور خطرناک وجہ بن کر سامنے آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ اب صرف وزارتِ صحت کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے والدین، تعلیمی اداروں اور سماجی تنظیموں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

وزیرِ صحت نے واضح کیا کہ پاکستان میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی روایتی وجوہات اب بھی برقرار ہیں، جن میں جنسی کارکنوں کے ذریعے وائرس کی منتقلی، منشیات کے عادی افراد کی جانب سے ایک ہی سرنج کا بار بار استعمال، غیر جراثیم کش طبی آلات اور غیر محفوظ خون کی منتقلی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دیہی علاقوں میں اتائی ڈاکٹروں کی بڑی تعداد اور استعمال شدہ سرنجوں کا دوبارہ استعمال بھی وائرس کے پھیلاؤ کی اہم وجوہات میں شامل ہے۔

حکومت نے اس صورتحال کے پیش نظر ہنگامی بنیادوں پر متعدد اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے حال ہی میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کر کے متعلقہ اداروں سے تفصیلی رپورٹ طلب کی، جبکہ وزارتِ صحت نے ملک بھر کے سرکاری و نجی ہسپتالوں اور کلینکس میں عام سرنجوں کی جگہ صرف ایک بار استعمال ہونے والی "آٹو ڈس ایبل” سرنجوں کے لازمی استعمال کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد استعمال شدہ سرنجوں کے دوبارہ استعمال کے رجحان کا خاتمہ اور انفیکشن کی منتقلی کو روکنا ہے۔

وفاقی حکومت نے صوبائی ہیلتھ کیئر کمیشنز کے ساتھ مل کر اتائی ڈاکٹروں کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کرنے، خون کی منتقلی کے مراکز کی نگرانی سخت بنانے اور طبی آلات کی جراثیم کشی کے نظام کو بہتر بنانے کی بھی ہدایات دی ہیں۔

نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کے مطابق پاکستان میں ایچ آئی وی کے رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد ہزاروں میں ہے، جن میں سے بڑی تعداد اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی (اے آر ٹی) کے ذریعے علاج حاصل کر رہی ہے۔ تاہم طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل مریضوں کی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ بہت سے متاثرہ افراد تشخیص ہی نہیں کرواتے۔

ماہرین صحت کے مطابق ایچ آئی وی سے بچاؤ کے لیے محفوظ طبی طریقہ کار، ایک بار استعمال ہونے والی سرنجوں کا استعمال، محفوظ خون کی منتقلی، منشیات سے اجتناب، بروقت ٹیسٹنگ، عوامی آگاہی اور متاثرہ افراد کے ساتھ امتیازی رویوں کے خاتمے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق بروقت تشخیص اور جدید ادویات کی مدد سے ایچ آئی وی کے مریض معمول کی زندگی گزار سکتے ہیں، تاہم وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے احتیاطی تدابیر اور مؤثر حکومتی اقدامات ناگزیر ہیں۔

Back to top button