ایران تیار ہے!

تحریر: حفیظ اللہ نیازی
بشکریہ: روزنامہ جنگ
نہ امن ، نہ جنگ ، کل ( بروز بدھ ) کے حملوں کے بعد جنگ بندی کا خاتمہ بالخیر ہونے کا قوی امکان ہے ۔ کیسی جنگ بندی بظاہر امن کے دعوے مگر بارود کی گھن گرج شدت سے جاری ہے؟ رائٹرز کےمطابق امریکہ نے ایران پر ایک مرتبہ پھر شدید فضائی حملے کیے اور 80 مقامات کو نشانہ بنا یا ۔ یقینی طور پر ایران ان حملوں کا بھرپور جواب دے گا، بالفرض محال ایرانی حملوں میں امریکی جانوں یا امریکی مفادات کو خاطر خواہ نقصان پہنچتا ہے، تو پھر طبل جنگ بج جائیگا ۔ انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر اعلان کیا ’’ میرے نزدیک ایران کے ساتھ جنگ بندی ختم ہو چکی ہے‘‘۔ ایران کیخلاف حسب معمول بدزبانی اور بازاری زبان استعمال کرنے کیساتھ مزید حملوں کا اعلان بھی کیا ۔ نئی جھڑپیں محدود نہیں رہیں گی بلکہ وسیع اور شدید فوجی تصادم میں بدل جائیں گی ۔ مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت بلکہ عالمی سلامتی ایک بار پھر بحرانی کیفیت میں ۔اگرچہ 17 جون کو امریکہ اور ایران کے درمیان ساٹھ روزہ جنگ بندی اور محدود مفاہمت طے پائی ۔ پہلے دن ہی سے اسرائیل اور بعد ازاں امریکہ کی طرف سے خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ ایران پچھلے دو ہفتوں سے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی فقید المثال تجہیز و تکفین کی تاریخ رقم کر رہا ہے ۔ 100ممالک سے وفود آئے جبکہ پونے دو کروڑ لوگوں کی جنازے میں شرکت، سارے معاملات خوش اسلوبی سے طے پائے ۔ محیرالعقول 100 ممالک کے وفود، پونے دو کروڑ لوگوں کی شرکت، اور بہترین انتظامات ، انسانی تاریخ میں جنازہ، 100وفود کی بیک وقت سیکورٹی احسن طریقہ سے نبھائی وہاں پونے دوکروڑ لوگوں میں نہ افراتفری، نہ بھگدڑ، نہ دھکم پیل، حیران کن ڈسپلن، تھوڑی بے احتیاطی یا PANIC میں بیک وقت ہزاروں جانیں چلی جاتیں۔ ایسا نظم و نسق اور سیکورٹی انتظام، مملکت تباہ کن دو ماہ پہلے جنگ میں 13000 امریکی اسرائیلی حملوں کا نشانہ بنی رہی ، ایرانی انتظامیہ اور سیکورٹی کو عالمی اعزاز سے نوازنا ہوگا، ہرمد میں عالمی ریکارڈ قائم کر گیا۔ ’’ایران کے ریاستی جوہری اور عسکری ڈھانچے کو مکمل طور پر غیر مؤثر بناکر اسرائیل کی اپنی سلامتی کو یقینی بنانا تھا‘‘، ٹرمپ تو ایک مہرہ ناچیز، اسرائیلی کے ہاتھوں استعمال ہوا ۔ لبنان، غزہ اور شام کے محاذوں پر بھی زیادہ جارحانہ حکمت عملی کے حامی ہے۔ ایران کو آج امریکی حملوں کا جواب دینا ہے۔ اگر ایرانی حملوں میں امریکی جانوں کا نقصان ہوا تو پھر نہ ختم ہونیوالی جنگ کا آغاز ہو جائیگا ، بحران پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیگا ۔ حزب اللہ ، شام یا حوثی بلکہ اب شاید ترکی ، پاکستان اور سعودی عرب بھی جنگ کا حصہ بنیں ۔ امریکہ اور اسرائیل نے جنگ اس سوچ کیساتھ شروع کی تھی کہ ڈیڑھ دن میں شاندار فتح نصیب ہوگی۔ اسکے برعکس ، ایک حیران کن شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 17 جون کو جب سوئٹرز لینڈ میں معاہدہ ہوا تو امریکی میڈیا ، ڈیموکریٹس ، لبرل ، امریکی سروے سب کا واویلا کہ ’’ امریکہ نے ایران کی شرائط پر ہتھیار ڈال دیئے ، ایرانی شرائط پر دستخط کئے‘‘۔ ایک طرف جے ڈی وینس ان مطالبات کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش میں سرگرداں ہیں ۔ صدر ٹرمپ بمشکل خود کو اس بات پر آمادہ کر پاتے ہیں کہ ہم جنگ ہار چکے ہیں، مگر وہ اس تاثر کو زائل کرنے کیلئے ذہنی کرب کا شکار ہیں۔ امریکہ کے پاس اگر کوئی فوجی آپشن ہوتا تو بہت پہلے استعمال کر چکا ہوتا۔ امریکہ دوبارہ بمباری کرتا ہے بدرجہ اتم امکان موجود کہ سعی لاحاصل رہنی ہے۔ اسرائیل کا اصرار کہ ایران دو دن کی مار ، اسرائیلی معلومات پر امریکہ کا اعتبار صدر ٹرمپ پچھلے چار مہینوں سے دباؤ ، فرسٹریشن کا شکار ہے۔ معاہدے کے بعد پہلے ہی دن سے امریکہ اور اسرائیل نے خلاف ورزیاں شروع کر رکھی ہیں۔ پہلا نکتہ لبنان میں جنگ بندی جبکہ پانچواں نکتہ فریقین کا ایک دوسرے کو دھمکی نہ دینا، معاہدے کی دھجیاں اڑائی جا چکی ہیں۔ اسرائیل کی وحشیانہ بمباری اور صدر ٹرمپ کی گالم گلوچ ، گیدڑ بھبکیوں نے معاہدےکی روح کو ہلکان کر رکھا ہے ۔ 28 فروری کو جب حملہ ہواتو ایران کی جنگی تیاری نے ایک عالم کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ۔ ایران کی فضائیہ اور بحری تیاری صفر بٹہ صفر ، البتہ دفاعی میزائلوں اور ڈرونزنے امریکی اڈوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ ایران کو نہ تو ایسی بحریہ کی ضرورت تھی جو کھلے سمندر میں امریکی بحریہ کو شکست دے اور نہ فضائیہ جو جا کر امریکہ اور اسرائیل پر بمباری کرے۔ ایران کی ضرورت آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرنا تھا ، جو ایٹم بم سے زیادہ خطرناک ثابت ہوا ۔ دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کا تیل ہر روز اس آبنائے سے گزرتا ہے۔ اِدھر ایران نے آبنائے ہرمز بند کی ، اُدھر عالمی معیشت گویا اپاہج ہو گئی۔ آبنائے ہرمز کے سامنے امریکی اور اسرائیلی فوجی سازوسامان اپنی اہمیت کھو بیٹھا جبکہ جغرافیہ اور صبر کے امتزاج نے ایران کی فضائیہ اور بحریہ کی کمی کو محسوس نہ ہونے دیا ۔ یاد رہے کہ ایران نے ابھی باب المندب کو بند نہیں کیا، اب جنگ شروع ہوئی تو بحیرہ احمر اور بحر روم دونوں کی تجارت اپاہج ہو جائیگی۔ صدر ٹرمپ نے 40روزہ جنگ کو معاشی تباہی کہا ۔ 1929ء کا گریٹ ڈپریشن آنکھوں کے سامنے گھوما توہڑبڑا گئے اور فرمایا کہ ’’وہ ہربرٹ ہوور نہیں بننا چاہتے، یعنی وہ دوسری عظیم کساد بازاری شروع کرنے کے ذمہ دار نہیں بننا چاہتے‘‘۔ یہی بات مستحکم ہوئی کہ فوجی آپریشن سرے سے موجود نہیں، تو صدر ٹرمپ کے پاس ہتھیار ڈالنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا ۔ ’’جنگ جو بیچی گئی بمقابلہ جنگ جو لڑی گئی‘‘ کا تجزیہ دو مثالوں۔ وائٹ ہائوس سچویشن روم اجلاس میں یہ کہانی بیچی گئی کہ 11 فروری 2026ء نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ کو قائل کر لیا کہ ایران کی قیادت کو ہٹانے سے اندرونی نظام منہدم ہو جائیگا ، پورا ایران ہمارے قدموں میں ہوگا ۔ اسرائیل اس جنگ کو اپنی سلامتی کی پہلی ترجیح دے چکا ہے چنانچہ امریکی صدر کو ایسے بیچی گئی کہ صدر ٹرمپ تاریخ رقم کرینگے، جو بہت کم قیمت پر حاصل ہونی ہے ۔ موساد کے سربراہ ڈیوڈ بورنیا نے نیتن یاہو کیساتھ ملکر ٹرمپ کو یہ یقین دلانے میں کلیدی کردار ادا کیا کہ منصوبہ 100فیصدکامیاب ہوگا۔ جبکہ موساد چیف بورنیا کے پیش رو کا خیال تھا کہ یہ ایک پاگل پن پر مبنی خیال ہے اور وہ جانتے تھے کہ یہ کامیاب نہیں ہوگا۔ اسرائیلی جانتے تھے کہ یہ ناکام ہوگا، اور اسرائیل دراصل امریکہ کو ایسی جنگ میں پھنسانا چاہتا تھا جہاں اسکے پاس اپنی فوجی قوت کیساتھ ایران داخل ہونے اور حکومت کا تختہ الٹنے کے سوا کوئی اور چارہ نہ رہے۔ آج امریکہ اور اسرائیل ایک ایسے دائرے کے سفر میں پھنس چکے ہیں کہ نہ امن ہے اور نہ بے مقصد جنگ کرنیکی صلاحیت ۔ کیا آنیوالے مہینوں میں دنیا ’’نہ امن اور نہ جنگ‘‘ کی بھینٹ چڑھ جائیگی، اس کیفیت نے بھی ہلکان رکھا ۔ جنگ کی صورت میں کیا اگلا معاشی بحران 8ارب انسانوں کو نڈھال کردے گا ؟ اسرائیل کے ارادے اٹل ، خودتو ڈوبے گا مگر اپنے ساتھ جہان کو بھی لے ڈوبے گا ۔ اسرائیل منصوبہ بنا چکا ہے، جبکہ ایران منہ توڑ جواب دینے کیلئے تیار ہے۔
