27 ستمبر کو PTI احتجاج کرے گی یا پھر ڈیل ہو جائے گی؟

تحریک انصاف کی قیادت نے عمران خان کی رہائی کے لیے 27 ستمبر کو احتجاجی لانگ مارچ کی کال تو دے رکھی ہے، تاہم دوسری جانب پارٹی کے بعض اہم رہنما حکومتی عہدیداروں سے پسِ پردہ مذاکرات بھی کر رہے ہیں تاکہ احتجاج کی نوبت آنے سے پہلے ہی ڈیل کے ذریعے کوئی درمیانی راستہ نکالا جا سکے۔
باخبر حکومتی ذرائع کے مطابق اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے عدالت تحریک انصاف کو اسلام آباد پر چڑھائی سے روک دے، تاہم اصل سوال یہ ہوگا کہ اگر ایسا فیصلہ آتا ہے تو پی ٹی آئی قیادت اسے تسلیم کرتی ہے یا نہیں۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسی معاملے پر تحریک انصاف اور حکومتی عہدیداروں کے درمیان بات چیت جاری ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ کوئی قابل قبول درمیانی راستہ نکال لیا جائے، تاہم ناقدین ان رابطوں کو تحریک انصاف کا دوہرا معیار قرار دے رہے ہیں۔
پاکستان میں سیاسی درجہ حرارت بڑھنے کے ساتھ ایک طرف تحریک انصاف سمیت اپوزیشن جماعتیں 27 ستمبر کے احتجاج کی تیاری کر رہی ہیں، جبکہ دوسری طرف وزیر اعظم شہباز شریف اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے درمیان آئندہ چند روز میں اہم ملاقات کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان جلد ایک ملاقات متوقع ہے۔ اس حوالے سے شیڈول طے کرنے کے لیے مشاورت مکمل کرلی گئی ہے۔ سیاسی حلقوں میں اس ملاقات کو حکومت اور اپوزیشن کے درمیان براہ راست رابطے کی ایک اہم کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق محمود خان اچکزئی نے وزیراعظم آفس کی جانب سے ہونے والے رابطے سے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس کو بھی آگاہ کردیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ محمود اچکزئی کے چیمبر کی جانب سے وزیراعظم آفس کو پیغام دیا گیا تھا کہ اپوزیشن وزیراعظم سے ملاقات کے لیے تیار ہے اور اب اس کا باقاعدہ شیڈول طے کیا جائے۔
دوسری جانب تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مختلف سطحوں پر رابطوں کی تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مختلف معاملات پر رابطے جاری ہیں، تاہم الیکشن کمیشن میں تقرریوں کے معاملے پر کوئی باقاعدہ مذاکرات نہیں ہوئے بلکہ خط کے ذریعے رابطہ کیا گیا تھا جس کا مثبت جواب موصول ہوا ہے۔ بیرسٹر گوہر کے مطابق تحریک انصاف بھی ملک میں سیاسی درجہ حرارت کم کرنا چاہتی ہے، لیکن حکومت کی بعض کارروائیاں اس کے برعکس ماحول پیدا کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک طرف مذاکرات اور رابطوں کی بات کی جاتی ہے جبکہ دوسری جانب سڑکوں پر کنٹینرز لگا دیے جاتے ہیں، جس سے سیاسی کشیدگی مزید بڑھتی ہے۔
عمران خان کے دائیں بازو بیرسٹر گوہر نے تسلیم کیا کہ حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان بیک ڈور رابطے بھی موجود ہیں اور وزیر داخلہ محسن نقوی سے بھی رابطہ رہتا ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ رابطوں کی تفصیلات منظر عام پر نہیں لائی جا سکتیں۔
یوں ایک طرف احتجاج کی تیاری کرنے اور دوسری جانب مذاکرات کا جاری رکھنے کی وجہ سے تحریک انصاف کی قیادت پر دوغلے ہونے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔ تاہم 27 ستمبر کے احتجاج کے حوالے سے تحریک انصاف نے واضح کیا ہے کہ اسے مؤخر کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں۔ بیرسٹر گوہر کے مطابق احتجاج کی قیادت خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کریں گے اور یہ صرف تحریک انصاف کا احتجاج نہیں ہوگا بلکہ دیگر سیاسی جماعتوں کی شرکت بھی متوقع ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج انصاف کے لیے ہوگا اور لانگ مارچ پرامن رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس بیان سے بظاہر یہ واضح ہوتا ہے کہ پارٹی نے احتجاج کی کال واپس لینے کا فیصلہ نہیں کیا، اگرچہ دوسری جانب حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان رابطوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
