سہیل وڑائچ نے خود کو صحافت کا عطائی کیوں قرار دیا؟

معروف اینکرپرسن اور سینئر صحافی سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ وہ دنیائے صحافت کے عطائی ہیں اور سیاسی تجزیوں کے نام پر ٹامک ٹوئیاں مارتے رہتے ہیں، صحافت کے میدان میں ٹامک ٹوئیاں مارتے انہیں چار دہائیاں گزر چکی ہیں، شاید اسی لیے انہیں غلط طور پر سینئر تجزیہ کار، سینئر صحافی یا معروف کالم نگار کا خطاب دیا جاتا ہے۔
روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تحریر میں سہیل وڑائچ نے کہا کہ آج وہ ایک مجرمانہ اعتراف کرنا چاہتے ہیں، وہ دراصل ایک اتائی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسے منکسر المزاجی یا ملامت ہرگز نہ سمجھا جائے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ واقعی ایک اتائی ہیں۔ اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے سہیل وڑائچ نے کہا کہ وہ اس لیے عطائی ہیں کہ زندگی بھر سیاست کے موضوع پر لکھتے رہے، کبھی سیاسی تجزیہ کیا، کبھی سیاسی تاریخ کے مدوجزر پر لکھا، کبھی حکومت کے جانے کی پیش گوئی کی اور کبھی نئے سیٹ اپ آنے کی نوید سنائی، مگر نہ کبھی انہوں نے عملی سیاست کا مزہ چکھا اور نہ سیاست کے راستے میں حائل صعوبتوں کا سامنا کیا۔
ان کے مطابق وہ سیاست کی تھیوری کے طالب علم تو رہے لیکن سیاست کے عملی پہلو کو کبھی جان نہیں سکے اور نہ ہی سیاست کے عوامل کو قریب سے محسوس کر سکے۔ کہنے کو تو وہ پیشے کے اعتبار سے سیاست کے ڈاکٹر ہیں لیکن حقیقت میں سیاست کے اتائی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی شخص تھیوری کا کتنا ہی بڑا اسکالر کیوں نہ ہو، اگر وہ پریکٹیکل کو نہیں جانتا تو وہ کاغذی اور نام نہاد اسکالر ہی رہتا ہے اور وہ بھی ایسے ہی کاغذی اور نام نہاد تجزیہ کار ہیں۔
سہیل وڑائچ نے لکھا کہ انہوں نے بطور طالب علم ایف سی کالج میں ایک ڈیپارٹمنٹ کا الیکشن لڑا تھا اور وہ بھی ہار گئے، اس کے بعد سے الیکشن لڑنے ہی سے گھبرا گئے اور آج تک حیران ہوتے ہیں کہ سیاستدان حلقے کے ہزاروں اور لاکھوں لوگوں کو اپنا ہمنوا بنا کر ان کے ووٹ کیسے حاصل کر لیتے ہیں۔ ان کے بقول کئی ارکان اسمبلی آٹھ، دس بار مسلسل رکن منتخب ہوتے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مختصر یہ کہ انہیں سیاست مشکل اور پیچیدہ ترین کام لگتا ہے، اس لیے انہیں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ وہ کبھی سیاسی کنویں میں اترے ہی نہیں اور اسی وجہ سے اس کی تہوں سے بھی واقف نہیں۔ ان کے مطابق وہ تو کنویں کی منڈیر سے جھانک کر سیاسی مدوجزر کا اندازہ لگاتے رہے ہیں۔
سہیل وڑائچ نے اپنے تجزیوں کا موازنہ عطائیوں کے طریقہ علاج سے کرتے ہوئے کہا کہ ظاہر ہے ایسا اندازہ اتائیوں کا ہی ہوتا ہے، مستند ڈاکٹروں کا نہیں، جو سائنسی تشخیص کے لیے پہلے ٹیسٹ کرواتے ہیں اور پھر کوئی دوا تجویز کرتے ہیں۔ ان کے بقول ان جیسے اتائی اور نیم حکیم صرف نبض دیکھ کر مرض بتانے اور علاج کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
سینئر صحافی نے کہا کہ وہ عمر کے اس حصے میں ہیں جب ان پر ریٹائر ہونے کی پھبتی کسی جاتی ہے، جبکہ ان پر من گھڑت انٹرویو کرنے کا الزام بھی عائد کیا جاتا ہے۔ انہیں شرمندگی سے یہ اعتراف کرنا ہے کہ وہ خود کو غلط طور پر سیاسی تجزیہ کار اور کالم نگار سمجھ کر اہل سیاست کو نہ صرف مشورے دیتے رہے بلکہ ان کی غلطیوں کی نشاندہی بھی کرتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا یہ رویہ سراسر غلط تھا۔ جب انہوں نے میدان عمل میں سرے سے شہسواری ہی نہیں کی تو وہ سیاست کے گھوڑوں کی چال کا اندازہ کیسے لگا سکتے ہیں؟ کہاں سیاست اور صحافت کا اتائی اور کہاں اس خطے کے تجربہ کار سیاستدان نواز شریف، شہباز شریف، آصف زرداری اور عمران خان۔
سہیل وڑائچ نے اپنی تحریر میں اپنے بارے میں ایک اور دلچسپ انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ کچھ عرصہ پہلے وہ خطِ عظمت کا شکار ہو گئے تھے اور خود ہی اپنی عزت کرنا شروع کر دی تھی۔ ان کے مطابق اس کے بعد گھر والوں نے ان کا علاج شروع کروایا اور وہ ایک ماہ تک ماہر نفسیات کے زیر علاج رہے۔ ان کے بقول وہ ڈاکٹر سے لڑتے رہے کہ انہیں گھر جانے دیا جائے کیونکہ انہوں نے ملک میں تبدیلی لانی ہے، تاہم ڈاکٹر نے ایک ماہ تک ان کی تھراپی کی اور اس کے بعد انہیں سمجھ آنا شروع ہوئی کہ وہ کوئی افلاطون نہیں بلکہ اتائی ہیں۔
سہیل وڑائچ نے اپنی بات سمیٹتے ہوئے کہا کہ وہ دراصل خود کو افلاطون اور ارسطو سمجھ بیٹھے تھے، لیکن وہ تو اتائی تھے اور اتائی ہی رہیں گے۔ ان کے مطابق اسی لیے سیانے کہتے ہیں کہ نیم حکیم خطرہ جان اور نیم ملا خطرہ ایمان۔ انہوں نے کہا کہ اچھا ہوا کہ ان کی بیماری کی تشخیص ہو گئی اور اب وہ نارمل ہو رہے ہیں۔
