مریم نواز کے ہوائی سفر پر 12 کروڑ کے اخراجات کس نے دیے؟

وزیرِ اعلیٰ مریم نواز کی انگلینڈ میں اپنی بیٹی کی گریجویشن تقریب کے لیے پنجاب حکومت کے طیارے کے استعمال پر تنقید اور حکومتی وضاحتوں کے باوجود عوامی اور سیاسی حلقوں میں یہ معاملہ پوری شدت سے زیرِ بحث ہے۔ اس دوران بی بی سی اردو نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ مریم نواز کے اس دورے پر تقریباً 11 سے 12 کروڑ روپے کے اخراجات آئے ہیں، تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں کہ یہ خرچہ سرکاری خزانے سے ادا ہونا ہے یا مریم نواز اپنی جیب سے اس کی ادائیگی کریں گی۔

اپوزیشن رہنماؤں اور ناقدین کی جانب سے تنقید کی جا رہی ہے کہ ایک نجی دورے کے لیے پنجاب حکومت کے طیارے کا استعمال غریب عوام پر مزید بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے۔ تاہم پنجاب کی وزیرِ اطلاعات عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب اپنے لندن وزٹ کے لیے جہاز کے تمام اخراجات اپنی جیب سے ادا کریں گی۔ لیکن اس سے ایک روز قبل انہوں نے یہ بیان دیا تھا کہ مریم نواز نے لندن دورے کے اخراجات ادا کر دیے ہیں، تاہم دوسری جانب وزیرِ اعلیٰ پنجاب کی ترجمان کوثر کاظمی نے اینکرپرسن منصور علی خان کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ وزیرِ اعظم یا وزیرِ اعلیٰ کا کوئی بھی دورہ پرائیویٹ نہیں ہوتا۔

کوثر کاظمی کے مطابق مریم نواز نے لندن میں قیام کے دوران بزنس کمیونٹی اور برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی سے ملاقاتیں بھی کیں، اس لیے ان کے بقول یہ محض نجی دورہ نہیں بلکہ ایک سرکاری نوعیت کا دورہ بن گیا۔ اس موقف کے بعد یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر دورہ سرکاری نوعیت کا تھا تو اس کے اخراجات کی ادائیگی کا طریقہ کار کیا ہوگا اور اگر اسے نجی دورہ قرار دیا گیا ہے تو سرکاری طیارے کے استعمال کی کیا وجہ تھی۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور پنجاب حکومت کو طیارے کے معاملے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ اس سے قبل رواں برس فروری میں بھی پنجاب حکومت کی جانب سے لگ بھگ 11 ارب روپے مالیت کا ’گلف اسٹریم جی فائیو ہنڈرڈ‘ طیارہ خریدنے پر شدید تنقید سامنے آئی تھی۔

تب عظمیٰ بخاری نے طیارے کی خریداری پر سوال کے جواب میں کہا تھا کہ یہ طیارہ پنجاب کی ایئر لائن ’ایئر پنجاب‘ کے لیے خریدا گیا ہے۔ وزیرِ اطلاعات کے مطابق ایئر پنجاب کے لیے مختلف طیاروں پر مشتمل فلیٹ تیار کیا جا رہا ہے اور گلف اسٹریم طیارہ بھی اسی منصوبے کا حصہ ہے۔ تاہم اس دعوے پر بھی سوالات اٹھے اور تاحال ایئر پنجاب کے حوالے سے ایسی کوئی عملی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی جس سے اس طیارے کو باقاعدہ کسی ایئر لائن کے فلیٹ کا حصہ بنائے جانے کی تصدیق ہو۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ جہاز اتنا چھوٹا ہے کہ کمرشل پروازوں کے لیے استعمال نہیں ہو سکتا۔

مریم نواز کے حالیہ لندن دورے کے حوالے سے اصل تنازع طیارے کے استعمال اور اس پر آنے والے اخراجات کا ہے۔ بی بی سی اردو نے اپنی ایک تفصیلی رپورٹ میں ایوی ایشن کے ماہرین سے گفتگو کرتے ہوئے اس سفر کے ممکنہ فضائی اخراجات کا تخمینہ لگایا ہے، جبکہ بی بی سی کے مطابق اس کے سوالات کے باوجود پنجاب حکومت نے تاحال یہ واضح نہیں کیا کہ وزیرِ اعلیٰ کے لندن دورے پر مجموعی طور پر کتنی رقم خرچ ہوئی۔
لاہور کی ایک ایوی پراپرٹی کمپنی کے عہدے دار نے بی بی سی کو بتایا کہ نجی کمپنیاں گلف اسٹریم طیارے کے لیے تقریباً 12 سے 15 ہزار امریکی ڈالر فی گھنٹہ وصول کرتی ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان میں بڑے ادارے اور بعض پراپرٹی ٹائیکون بھی اس نوعیت کے طیارے کرائے پر فراہم کرتے ہیں۔ ایوی ایشن کمپنی کے عہدے دار کے مطابق گلف سٹریم طیارے پر لاہور سے لندن کا سفر تقریباً سات گھنٹے پر محیط ہوتا ہے۔ اگر کم از کم 12 ہزار ڈالر فی گھنٹہ کا کرایہ بھی شمار کیا جائے تو صرف یک طرفہ سفر کی لاگت تقریباً 84 ہزار ڈالر بنتی ہے، جبکہ آنے اور جانے کا مجموعی کرایہ ایک لاکھ 60 ہزار ڈالر سے زیادہ ہو سکتا ہے۔

ان کے مطابق پائلٹ سمیت طیارے کے عملے کے دو سے تین ارکان کی رہائش، کھانے اور دیگر اخراجات اس کے علاوہ ہوتے ہیں۔ بی بی سی کے تخمینے کے مطابق تمام اخراجات کو ملا کر یک طرفہ سفر کی لاگت تقریباً دو لاکھ امریکی ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً پانچ کروڑ 55 لاکھ روپے تک پہنچ سکتی ہے۔ لیکن رپورٹ کے مطابق لندن کے ہیتھرو اور لیوٹن ایئرپورٹس پر اس نوعیت کے طیارے کی پارکنگ اور ہینڈلنگ کی یومیہ فیس بھی ہزاروں ڈالر میں ہوتی ہے۔ ایوی ایشن ماہر کے مطابق طیارہ خالی جائے یا اس میں مسافر موجود ہوں، اس کے فی گھنٹہ کرائے میں بنیادی طور پر کوئی فرق نہیں پڑتا جبکہ فیول کی لاگت بھی اس حساب میں شامل ہوتی ہے۔
اسی تخمینے کی بنیاد پر اگر مریم نواز کے لاہور سے لندن جانے اور پھر واپس آنے کے فضائی سفر کا حساب لگایا جائے تو مجموعی اخراجات تقریباً 11 سے 12 کروڑ روپے کے درمیان بنتے ہیں۔ تاہم یہ رقم ایک تخمینہ ہے اور حتمی سرکاری یا نجی اخراجات کی تفصیلات پنجاب حکومت کی جانب سے جاری نہیں کی گئیں۔

دوسری جانب حکومت کی جانب سے مسلسل یہ موقف اختیار کیا جا رہا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ نے لندن کے دورے کے لیے طیارے کے اخراجات خود ادا کرنے ہیں۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر رقم ذاتی طور پر ادا کرنی بھی یے تو اس کی واضح تفصیلات سامنے لائی جانی چاہئیں تاکہ یہ بحث ختم ہو سکے کہ سرکاری وسائل استعمال ہوئے یا نہیں۔ یاد ریے کہ مریم نواز گزشتہ ہفتے اپنی بیٹی ماہ نور کی گریجویشن تقریب میں شرکت کے لیے لندن پہنچی تھیں۔ ماہ نور نے لندن کی ایس او اے ایس یونیورسٹی سے اپنی تعلیم مکمل کی ہے۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے اپنے تین روزہ دورے کو نجی دورہ قرار دیا تھا اور لندن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اپنی چھوٹی بیٹی کی گریجویشن مکمل ہونے پر خوشی کا اظہار بھی کیا تھا۔

تاہم دورے کے دوران بزنس کمیونٹی اور برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں سے ملاقاتوں کے حوالے سے سامنے آنے والے حکومتی بیانات نے اس دورے کی نوعیت پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک جانب اسے نجی دورہ قرار دیا جا رہا ہے اور دوسری جانب حکومتی ترجمان کی جانب سے اسے سرکاری نوعیت کا دورہ قرار دینے کی دلیل دی جا رہی ہے۔
یوں مریم نواز کے لندن دورے کے حوالے سے بنیادی سوال صرف یہ نہیں رہا کہ طیارے کے سفر پر کتنی رقم خرچ ہوئی بلکہ یہ بھی اہم سوال بن گیا ہے کہ دورے کی اصل حیثیت کیا تھی، جہاز کے استعمال کی اجازت کس بنیاد پر دی گئی اور اس کے اخراجات کس مد میں ادا کیے گئے۔ جب تک پنجاب حکومت کی جانب سے ان سوالات کے واضح اور دستاویزی جوابات سامنے نہیں آتے، سیاسی اور عوامی حلقوں میں اس معاملے پر بحث جاری رہنے کا امکان ہے۔

Back to top button