محسن نقوی کے بستر میں اب ایک کی بجائے دو بھارتی ٹرافیاں

ایشین کرکٹ کونسل کے سربراہ محسن نقوی نے سال 2025 میں نخرے دکھانے والی بھارتی مینز کرکٹ ٹیم کی ٹرافی ضبط کرنے کے بعد اب انڈین ویمنز ٹیم کی ٹرافی بھی ضبط کر لی ہے۔ ایسے میں سوشل میڈیا پر ایک تصویر وائرل ہے جس میں محسن نقوی کو اپنے بستر میں لیٹے ہوئے دکھایا گیا ہے اور ان کے دائیں اور بائیں پہلو میں دونوں ضبط شدہ ٹرافیاں موجود ہیں۔ یہ تصویر سوشل میڈیا پرمسلسل شیئر کی جا رہی ہے۔ پچھلے برس بھی سوشل میڈیا پر ایسی ہی ایک تصویر وائرل ہوئی تھی جس میں نقوی کے بستر میں ایک ٹرافی موجود تھی۔

یاد ریے کہ اگلے روز دبئی کرکٹ سٹیڈیم میں سری لنکا کو شکست دے کر ایشیا کپ جیتنے والی بھارتی ویمنز کرکٹ ٹیم نے سپورٹس مین سپرٹ مخالف طرز عمل اپناتے ہوئے محسن نقوی سے ٹرافی ٹرافی وصول کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ٹرافی ضبط ہو گئی اور یوں چیمپیئن بننے کے باوجود بھارتی ٹیم ٹرافی اپنے ساتھ لے جانے میں کامیاب نہ ہو سکی۔ اے سی سی ذرائع کے مطابق ویمنز ایشیا کپ کی فاتح ٹیم کو ٹرافی پیش کرنے کا پروٹوکول پہلے ہی طے شدہ تھا اور اختتامی تقریب کے تمام انتظامات مکمل تھے۔ محسن نقوی بطور اے سی سی چیئرمین ٹرافی پیش کرنے کے لیے موجود تھے، تاہم بھارتی ٹیم نے ٹرافی وصول نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

بھارتی ٹیم کے اس فیصلے کے بعد محسن نقوی نے اپنے پہلے سے اختیار کردہ اصولی مؤقف کے مطابق ٹرافی اپنے پاس رکھنے کا فیصلہ کیا۔
یہ صورت حال گزشتہ برس کے ایشیا کپ فائنل کی یاد بھی تازہ کر گئی جب بھارتی مینز ٹیم نے پاکستان کو شکست دے کر ٹائٹل جیتنے کے باوجود محسن نقوی سے ٹرافی وصول نہیں کی تھی۔ اس وقت بھی ٹرافی بھارتی ٹیم کو دینے کے لیے موجود تھی لیکن بھارتی کپتان سوریا کمار یادیو نے اسے اے سی سی کے سربراہ نقوی سے وصول نہیں کیا تھا، چنانچہ ٹرافی بھارتی ٹیم کے حوالے نہیں کی گئی اور اب تک اس کی وصولی باقی ہے۔

اس مرتبہ بھی اختتامی تقریب میں غیر معمولی صورت حال پیدا ہوئی۔ تقریب تقریباً 50 منٹ کی تاخیر سے شروع ہوئی، اس دوران رنر اپ سری لنکن ٹیم کی کھلاڑیوں نے محسن نقوی سے اپنے میڈلز اور انعامی رقم کا چیک وصول کیا، تاہم بھارتی ویمنز ٹیم کا کوئی رکن ٹرافی وصول کرنے کے لیے تقریب میں موجود نہیں تھا۔ بعد ازاں تقریب عجلت میں ختم کردی گئی اور محسن نقوی دیگر حکام کے ہمراہ وہاں سے روانہ ہو گئے۔ فائنل میچ کے بعد بھارتی ویمنز ٹیم کے کوچ امول سے ٹرافی وصول نہ کرنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو اس نے کہا کہ بھارتی کرکٹ بورڈ نے ایک مؤقف اختیار کیا ہے اور ٹیم اس پر قائم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے لیے ٹورنامنٹ ختم ہو چکا ہے، اور یہ بات واضح ہے کہ بھارت ایشیا کپ جیت چکا ہے۔

جب بھارتی کوچ سے پوچھا گیا کہ کیا انہیں بتایا گیا ہے کہ ٹرافی کب اور کس طرح ملے گی اور کیا مینز ایشیا کپ کی طرح یہ بھی اے سی سی چیئرمین کے دفتر میں رہے گی تو انہوں نے کہا کہ انہیں اس بارے میں کوئی اطلاع نہیں، اس لیے وہ تبصرہ نہیں کرسکتے۔
دوسری جانب بھارتی کرکٹ بورڈ کے سیکریٹری دیوا جیت سائیکیا نے کہا ہے کہ بھارتی ٹیم نے محسن نقوی سے ٹرافی اس لیے وصول نہیں کی کیونکہ وہ پاکستان حکومت کے مرکزی رہنما ہیں اور بھارت کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انڈیا نے گزشتہ برس پاکستان کے ساتھ دوطرفہ سیریز نہ کھیلنے کا فیصلہ کیا تھا، تاہم کثیر ملکی ٹورنامنٹس میں تمام ٹیموں کے خلاف کھیلنے کی پالیسی برقرار ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ انڈیا تمام شرائط قبول کرے گا۔

اے سی سی ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی ٹیم کے اس فیصلے کے باوجود کونسل کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور اسے سیاسی تنازعات سے الگ رکھتے ہوئے کھیل کی روایات کو مقدم رکھنے کی پالیسی برقرار ہے۔ ذرائع کے مطابق اگر بھارتی ٹیم ٹرافی وصول کرنا چاہتی ہے تو اسے اے سی سی چیئرمین محسن نقوی ہی سے وصول کرنا ہوگی، جبکہ گزشتہ سال کی مینز ایشیا کپ ٹرافی بھی اسی طرح بھارتی ٹیم کی وصولی کی منتظر ہے۔
بھارتی ویمنز ٹیم کا یہ طرز عمل ایک سال کے دوران دوسری مرتبہ کسی بڑے ایشیائی کرکٹ ایونٹ میں سامنے آیا ہے اور اس نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ بین الاقوامی کھیلوں میں سیاسی اختلافات کو کس حد تک شامل کیا جانا چاہیے۔ گزشتہ برس ایشیا کپ کے دوران بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف میچ کے بعد روایتی مصافحے سے گریز اور سیاسی نوعیت کے بیان نے بھی کرکٹ میں سیاست کے حوالے سے شدید بحث کو جنم دیا تھا۔

بھارتی ویمنز ٹیم کی جانب سے ٹرافی وصول نہ کرنے کے واقعے پر پاکستان کے سابق کرکٹرز اور تجزیہ کاروں کی جانب سے بھی تنقید سامنے آئی ہے۔ معروف کرکٹ تجزیہ کار ڈاکٹر نعمان نیاز نے ایکس پر کہا کہ بھارتی ٹیم کا رویہ مسلسل کرکٹ کے کھیل کو نقصان پہنچا رہا ہے اور افسوس ناک امر یہ ہے کہ کھیل کو سیاست سے بالاتر قرار دینے کے پرانے دعوے کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق سئد محسن نقوی کو نظرانداز کرنا محض ایک فرد کو نظرانداز کرنا نہیں بلکہ ایشین کرکٹ کونسل کے چیئرمین کے منصب کو نظرانداز کرنا ہے، جبکہ محسن نقوی نے اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے تقریب میں موجود رہ کر وقار کا مظاہرہ کیا۔

Back to top button