کیا شاہ محمود قریشی کا وزارت عظمیٰ کا خواب پورا ہو گا؟

سینیٹ میں تقریر کرتے ہوئے سابق وزیراعظم اور ایوان بالا میں قائدِ حذب اختلاف سید یوسف رضا گیلانی کو بکاؤ مال کہنے والے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اگر اپنے گریبان میں جھانکیں تو انہیں یقینی طور پر ملکی سیاست کا سب سے بڑا لوٹا دکھائی دے گا۔
موصوف گھاٹ گھاٹ کا پانی پینے کے بعد مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی سے ہوتے ہوئے اب تحریک انصاف کا حصہ ہیں اور یہ تاثرعام ہے کہ اگر کسی وقت اسٹیبلشمنٹ انہیں اپنا گھوڑا بنانے کے بارے میں سوچے تو وہ خود کو وزیر اعظم عمران خان کے متبادل کے طور پر پیش کرنے میں بھی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کریں گے۔
ملتان سے تعلق رکھنے والے مخدوم شاہ محمود قریشی اور یوسف رضا گیلانی کی مخاصمت کی تاریخ جاننے والوں کا کہنا ہے کہ دونوں میں قدر مشترک یہ ہے کہ انہوں نے جنرل ضیا الحق کی چھتر چھایا میں اپنا سیاسی کیریئر شروع کیا۔
دونوں گدی نشین ہیں اور کئی سالوں تک پیپلزپارٹی کے پلیٹ فارم سے سیاست کرنے کے باوجود علاقائی سیاست اور نظریات کی وجہ سے ایک دوسرے کے دشمن سمجھے جاتے ہیں۔ لیکن یوسف رضا گیلانی کو شاہ محمود کے مقابلے میں بہتر اس لیے سمجھا جاتا ہے کہ انہوں نے قریشی کی طرح سیاسی وفاداریاں بدلنے کے ریکارڈ قائم نہیں کئے۔
سنیئر صحافی علی وارثی کے مطابق شاہ محمود قریشی اور یوسف رضا گیلانی کے مابین سیاسی دشمنی نئی نہیں۔ دونوں ہی نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز 1980 کی دہائی میں کیا اور دونوں ہی تب کی ضیائی مسلم لیگ کا حصہ تھے۔ البتہ شاہ محمود قریشی بعد ازاں مسلم لیگ کا ہی حصہ رہے تو یوسف رضا گیلانی نے اپنے لئے پیپلز پارٹی کا انتخاب کیا۔
لیکن شاہ محمود کو مسلم لیگ میں ملتان کے تیسرے مخدوم جاوید ہاشمی سے سخت مقابلے کا سامنا رہا اور جب انہوں نے دیکھا کہ جاوید ہاشمی نواز شریف کے زیادہ قریب ہو گئے ہیں اور میاں صاحب کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات وہ نہیں رہے جو کسی زمانے میں ہوا کرتے تھے تو انہوں نے 1993 میں مسلم لیگ چھوڑ کر پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔
لیکن یہاں وہ جاوید ہاشمی کی جگہ یوسف رضا گیلانی کے رقیبِ خاص بن گے۔ جاوید ہاشمی سے ان کی سیاسی دشمنی حلقے کے اندر براہِ راست تھی لیکن گیلانی کے ساتھ رقابت ملتان اور پھر قومی سطح کی رہی۔ 2008 میں بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پیپلز پارٹی میں وزارت عظمیٰ کی دوڑ لگی تو مخدوم امین فہیم اور چودھری احمد مختار کے ساتھ یہ دونوں بھی لائن میں تھے۔
بالآخر فال گیلانی کے نام نکلی کیونکہ قریشی کو تب بھی اسٹیبلشمنٹ کے ضرورت سے زیادہ قریب سمجھا جاتا تھا۔ شاہ محمود قریشی کو وزیرِ خارجہ بنا دیا گیا۔ وہ خود کو گیلانی صاحب کے ہم پلہ سمجھتے تھے لیکن پارٹی کے لئے گیلانی کی خدمات کا اعتراف کیا جا رہا تھا جو جنرل مشرف کے دور میں کئی سال جیل میں گزار کر آئے تھے۔
آخر 2011 میں شاہ محمود قریشی پیپلزپارٹی بھی چھوڑ گئے۔ اسامہ بن لادن کے ایشو پر جب گیلانی نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کو آڑے ہاتھوں لیا تو وہ بھی ملتان کے ایک اور جاوید ہاشمی بن گئے جو کہ مشرف دور میں اسٹیبلشمنٹ پر شدید تنقید کے باعث بغاوت کے مقدمے میں جیل رہ چکے تھے۔
معروف صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ مخدوم شاہ محمود حسین قریشی سہروردی نہ تو اپنے خاندان کے پہلے ’شاہ محمود‘ ہیں اور نہ ہی اپنے خاندان میں اعلیٰ عہدے پر متمکن ہونے والے پہلے فرد ہیں۔ شیخ بہاؤالدین زکریا قریشی ملتانی اور ان کے پوتے شاہ رکن عالم کی اولاد میں سے کئی نامی گرامی اور صاحبانِ اقتدار گزرے ہیں۔ 1857 کی جنگ آزادی کے وقت اس خاندان کے سربراہ کا نام بھی شاہ محمود قریشی تھا۔
انھوں نے سکھوں کے خلاف ایسٹ انڈیا کمپنی کی انگریز فوج کا ساتھ دیا۔ حریت پسند احمد خان کھرل کی گرفتاری اور اس علاقے میں پھیلی بغاوت کو کچلنے میں بھی انھوں نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ قریشی خاندان کو یہ امتیاز بھی حاصل ہے کہ علمائے ہندوستان کے شیخ الاسلام کا سب سے بڑا عہدہ بھی ان کے پاس رہا۔
سکھوں اور نواب مظفر خان آف ملتان کی لڑائی میں اس خاندان نے نواب مظفر خان کا ساتھ دیا اور جب نواب مظفر خان اپنے نوجوان بیٹوں کے قتل کے بعد شہید ہوئے تو ان کی وصیت کے مطابق انھیں بہاؤالدین زکریا ملتانی کے مزار کی چوکھٹ کے نیچے سپرد خاک کیا گیا۔ تب یہ روایت ڈالی گئی کہ مزار پر حاضری دینے والا ہر شخص اس قبر کے اوپر پاؤں رکھ کر مزار میں داخل ہوتا۔
سہیل وڑائچ بتاتے ہیں کہ انگریز فوج کے ساتھ لڑائی کے دوران ملتان میں مخدوم شاہ محمود قریشی کے بڑوں نے انگریز سرکار کا ساتھ دیا۔ ان خدمات کے صلے میں مخدوم شاہ محمود کو تین ہزار روپیہ نقد انعام ملا، انکے نقد وظیفہ کا تبادلہ 1780 روپے مالیت کی ایک جاگیر کے ساتھ کر دیا گیا جو 550 روپیہ مالیت کے آٹھ کنووں کے علاوہ تھی جو مخدوم کو گوروں کے لیے اپنی خدمات کے اعتراف میں ملے تھے۔ بعد ازاں 1860 میں وائسرائے کی لاہور آمد کے موقع پر مخدوم قریشی کو ایک باغ 150 روپیہ سالانہ آمدنی کا بھی عطا کیا گیا جو بھنگی والا باغ کے نام سے مشہور ہے۔
سہیل وڑائچ بتاتے ہیں کہ اس خطے کی تاریخ کا ایک اور اہم ترین موقع قیامِ پاکستان تھا جس سے ایک سال پہلے 1946 کے معرکتہ آلارا الیکشن ہوئے جن میں قریشی خاندان نے مسلم لیگ کی مخالف یونینسٹ پارٹی کا ساتھ دیا۔
اس وقت کے گدی نشین مخدوم مرید حسین قریشی تھے جبکہ ان کے بھتیجے میجر عاشق حسین قریشی یونینسٹ پارٹی کےامیدوار تھے۔ قریشی اس وقت غلط کشتی پر سوار ہو گئے۔ یونینسٹ پارٹی کو شکست ہوئی۔ مسلم لیگ جیت گئی اور قیام پاکستان کی راہ ہموار ہو گئی۔
یہ وہی مرید حسین قریشی تھے جن کے صاحبزادے مخدوم سجاد حسین قریشی نے بہت محنت اور جانفشانی سے اپنے آباؤ اجداد کے مریدین کے سلسلوں کو زندہ کیا، خود بھی سیاسی طور پر متحرک رہے، ایم پی اے رہے پھر سینیٹر منتخب ہوئے اور بالآخر ضیا دور میں گورنر پنجاب بن کر صوبے کی اہم ترین سیٹ پر بیٹھ کر اپنے خاندان اور روحانی سلسلے کی ساکھ کو بڑھایا۔
بقول سہیل وڑائچ اس طریقہ سیاست کو ’سرپرستی کی سیاست‘ کا نام دیا جاتا ہے جس میں پورا دھڑا ایک ہوتا ہے۔ یہ دھڑا کچہری سے لے کر ضلعے تک ایک دوسرے کی مدد کرتا ہے اسی لیے جب شاہ محمود قریشی پی ٹی آئی میں آئے تو ان کا پورا دھڑا اور ووٹ بنک ان کے ساتھ ہی اس پارٹی میں آ گیا۔
ضابطہ اخلاق خلاف ورزی کیس، علی امین گنڈا پور کا فیصلہ محفوظ
ایسا ہی یوسف رضا گیلانی آف ملتان کا حال ہے۔ ان کا دھڑا اور ووٹ بینک بھی جس پارٹی میں ان کا سربراہ جاتا ہے اسی کے ساتھ چلے جاتے ہیں۔ کسی بھی حلقے میں یہ جاننا مشکل ہے کہ سجادہ نشین کو کتنے ووٹ مذہب کی بنیاد پر ملتے ہیں اور کتنے سیاست کی بنیاد پر۔
سہیل وڑائچ بتاتے ہیں کہ مخدوم سجاد قریشی کے فرزندارجمند اور موجودہ سجادہ نشین شاہ محمود قریشی بیرون ملک سے تعلیم حاصل کر کے آئے، ڈسٹرکٹ کونسل کا انتخاب لڑا، کامیاب نہ ہوئے بعد ازاں اپنے والد کی پیروی میں آئی جے آئی اور مسلم لیگ ن کے سرگرم رکن بن گئے۔
ایم پی اے بنے تو نواز شریف کابینہ میں وزیر خزانہ کے عہدے پر بھی فائز ہوئے، ن لیگ سے اختلاف ہوا تو پیپلزپارٹی میں شامل ہو گئے۔ بینظیر بھٹو کے قریبی ساتھی رہے، ایک بار پنجاب پیپلزپارٹی کی صدارت کا تاج بھی انھیں پہنایا گیا۔ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد آصف زرداری اور یوسف رضا گیلانی کی حکومت بنی تو انھیں وزارت خارجہ کا قلمدان سونپا گیا۔
تاہم وزارتوں کی تقسیم کے مسئلے پر اختلاف ہوا تو نہ قریشی نے نہ صرف وزارت چھوڑ دی بلکہ امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کی آڑ میں پیپلزپارٹی کو بھی خیر باد کہہ دیا۔ دونوں بڑی جماعتوں میں رہنے کے بعد شاہ محمود قریشی نے اسٹیبلشمینٹ کی جانب سے عمران خان کی زیر قیادت کھڑی کی گئی تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرلی اور یوں وہ عمران خان کے رفیق کار بن گئے۔
حکومت بننے سے پہلے خیال یہ تھا کہ پی ٹی آئی میں پنجاب کے وزیراعلیٰ شاہ محمود قریشی ہوں گے مگر اندرونی سیاست نے کچھ ایسا کام دکھایا کہ پی ٹی آئی کے ایک آزاد امیدوار نے انھیں صوبائی نشست پر شکست دے دی اور یوں وہ وزارت اعلی کی دوڑ سے باہر ہو گئے، تاہم عمران خان نے انہیں اپنی کابینہ میں پھر سے وزیر خارجہ کا عہدہ دے دیا تاکہ وہ انکے خلاف سازش کرنے سے باز رہیں۔ قریشی پیپلزپارٹی میں تھے تو یوسف رضا گیلانی سے جنوبی پنجاب اور ملتان کی چودھراہٹ پر جھگڑا رہتا تھا۔ تحریک انصاف میں آئے تو جہانگیر ترین اور جاوید ہاشمی سے پنجہ آزمائی رہی۔
جتنا عرصہ جاوید ہاشمی تحریک انصاف میں رہے، شاہ محمود ان کی وجہ سے اپ سیٹ ہی رہے۔ جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی کی گروپنگ نے تو ساری تحریک انصاف کو تقسیم در تقسیم کر کے رکھ دیا۔ ان دنوں شاہ محمود قریشی عمران خان کی کچن کابینہ کا حصہ بھی ہیں اور وزیر اعظم کا متبادل بھی ہیں۔ بقول سہیل وڑائچ، شاہ محمود اپنے دھڑے کی سیاست دھڑلے سے کرتے ہیں،
دیکھنا یہ ہو گا کہ قریشی خاندان کا یہ چشم و چراغ، گدی نشین اور ذہین و فطین کیا اپنے آباؤ اجداد کی طرح صرف اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے گا یا کبھی بطور وزیر اعظم ملک کا اعلی ترین دنیاوی عہدہ حاصل کر کے اپنے خاندان کے بزرگوں سے بھی اونچا دنیاوی مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہو گا؟
