کیا ہارر فلم ’’جاوید اقبال‘‘ نیا ٹرینڈ سیٹ کر پائے گی؟

ہارر فلم جاوید اقبال ’’دی ان ٹولڈ سٹوری آف اے سیریل کلر‘‘کو حکومتِ پنجاب نے نمائش سے روک دیا گیاہے ، جس پر فلم شائقین نالاں ہیں ، اس فلم کے سکرپٹ کو ملکی فلمی صنعت میں ایک نئے رحجان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جرائم کے موضوع پر بننے والی یہ فلم روائتی موضوعات سے ہٹ کر ہے، اور فلم بین اس فلم کی ریلیز کے بے صبری سے منتظر ہیں۔
100 بچوں کے قاتل جاوید اقبال کی زندگی پر مبنی فلم کی ریلیز روکنے کے فیصلے پر غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے، فلم میں پولیس افسر کا کردار ادا کرنے والی عائشہ عمر نے اس پابندی کو فلم انڈسٹری کو پیچھے دھکیلنے کے مترادف قرار دیا۔ فلم ’’جاوید اقبال، دی ان ٹولڈ سٹوری آف اے سیریل کلر‘‘ 28 جنوری کو سنیما گھروں کی زینت بننی تھی لیکن حکومتِ پنجاب نے 26 جنوری کو فلم کی ریلیز روکنے کے احکامات جاری کر دیئے۔
پنجاب حکومت کے اس فیصلے کے بعد فلم بنانے والوں نے عدالت کا رخ کیا جہاں ان کی درخواست کو قابلِ سماعت قرار دے دیا گیا اور اب اس فلم کی ریلیز کا فیصلہ عدالت کرے گی، یہ فلم نوے کی دہائی میں ہونیوالے ایک ہولناک سانحے کے گرد بنائی گئی جس کی کہانی ایک ایسے شخص کے گرد گھومتی ہے جس نے لاہور میں 100 بچوں کو قتل کر کے ان کی لاشیں تیزاب میں ڈالنے کا دعویٰ کیا تھا۔
فلم میں نڈر خاتون پولیس افسر کا کردار ادا کرنے والی اداکارہ عائشہ عمر نے پنجاب حکومت کے فیصلے کو فلم انڈسٹری کے لیے ایک دھچکا قرار دیا، اداکارہ کے مطابق فلم میں صرف سیریل کلر کو ہی نہیں دکھایا گیا بلکہ اس مائنڈ سیٹ پر بھی بات کی گئی جس نے جاوید اقبال کو ایک سیریل کلر بنایا، ان کے بقول فلم میں معاشرتی نظام کے ان پہلوؤں کی بھی عکاسی کی گئی ہے جس کی وجہ سے جاوید اقبال 100 بچوں کو قتل کرنے میں کامیاب ہوا۔
عائشہ عمر کے مطابق فلم میں کوئی بھی ایسا منظر نہیں جس سے ناظرین کو تکلیف پہنچتی ہو، ملک میں ایسی فلمیں بننی چاہئیں اور انہیں سنیما میں بھی پیش کیا جانا چاہئے تاکہ مستقبل میں سیریل کلرز اور نفسیاتی مریضوں کی نشاندہی ہو سکے اور لوگوں کو ایسا بننے سے روکا جا سکے۔ اداکارہ سمجھتی ہیں کہ جب ملک میں ہر قسم کی فلمیں بنیں گی تب ہی پاکستان کی فلم انڈسٹری ترقی کرے گی اگر معمول سے ہٹ کر بننے والی فلم پر پابندی لگا دی جائے گی تو فلم ساز صرف رومانوی اور مزاحیہ فلموں تک ہی محدود ہو کر رہ جائیں گے۔
فلم گنگو بائی کاٹھیاواڑی کا ٹریلرریلیزکردیا گیا
فلم میں اداکار یاسر حسین نے مرکزی کردار ادا کیا ہے جبکہ ہدایات ابوعلیحہ نے دی ہیں، یاسر حسین کا کہنا ہے کہ فلم کی ریلیز روکنا ایک افسوس ناک قدم ہے، اس سے پاکستانی فلم انڈسٹری اور آزاد فلم سازوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔
اداکار یاسر حسین نے کہا کہ دنیا میں یہ کہیں نہیں ہوتا کہ ایک فلم کو سینسر بورڈ ’’بیپ‘‘ لگا کر پاس کرے اور پھر اس کی ریلیز روک دی جائے، ان کے بقول اس طرح کے حالات میں ایک فلم ساز ملک میں فلم کیسے بنا سکتا ہے؟ حکومت کو اس بارے میں سوچنا چاہئے۔
یاسر حسین کا مزید کہنا تھا کہ فلم کی ریلیز روکنے کے فیصلے سے جہاں فلم سازوں کو نقصان ہوا وہیں اس سے وزیراعظم عمران خان کی حمایت کرنے والوں کو بھی مایوسی ہوئی کیونکہ انہوں نے فلم انڈسٹری کو سپورٹ کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
ادھر فلم کے لکھاری اور ہدایت کار ابو علیحہ نے فلم کی ریلیز روکنے کے فیصلے پر سوالات اٹھائے ہیں، ابوعلیحہ کے بقول ان کی فلمیں کم بجٹ میں بنتی ہیں اور جتنی لاگت میں ‘جاوید اقبال؛ دی ان ٹولڈ اسٹوری آف اے سیریل کلر’ بنی ہے اس سے تین گنا زیادہ رقم میں اسے او ٹی ٹی پلیٹ فارم والے خریدنے کو تیار ہیں، لیکن ان کا مقصد فلم کو سنیما میں لگانا ہے تاکہ دوسرے فلم سازوں کو بھی اندازہ ہو سکے کہ اس قسم کی کہانیاں بھی سنیما کی زینت بن سکتی ہیں۔
ہدایت کار کا ماننا ہے کہ اگر جاوید اقبال پر بننے والی فلم وقت پر ریلیز ہو جاتی تو اس سے بہت سے آزاد فلم میکرز کا حوصلہ بڑھتا اور ہوسکتا تھا انہیں فلم فنانس کرنے کے لیے پروڈیوسر بھی مل جاتا، ہم نے عدالت کا دروازہ اس لیے کھٹکھٹایا تاکہ آئندہ کسی کے ساتھ ایسا سلوک نہ ہو۔
