آزاد کشمیر میں الیکشن کا دوسرا مرحلہ مکمل ہو پائے گا یا نہیں؟

آزاد کشمیر میں ہر گزرتے دن کے ساتھ امن و عامہ کی صورتحال مزید خراب ہوتی جا رہی ہے جبکہ کالعدم قرار دی گئی جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مظاہرین اپنے مطالبات سے ایک قدم بھی پیچھے ہٹنے پر آمادہ نہیں۔ راولاکوٹ اور میرپور میں گزشتہ دو روز سے جاری خونریز جھڑپوں، ہلاکتوں، انٹرنیٹ سروس کی بندش اور مسلسل کشیدگی نے خطے کی سیاسی فضا کو غیر معمولی حد تک متاثر کر دیا ہے۔ ایسی صورتحال میں سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہو گیا ہے کہ کیا 2 اگست کو مظفرآباد اور 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں ہونے والے قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کا دوسرا مرحلہ مقررہ شیڈول کے مطابق مکمل ہو سکے گا یا نہیں۔
گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران راولاکوٹ کے مختلف علاقوں، خصوصاً دریک میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے وابستہ مظاہرین کے درمیان شدید فائرنگ اور مسلح تصادم کا سلسلہ جاری رہا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق مظاہرین کی جانب سے شدید مزاحمت کی جا رہی ہے جبکہ بعض مقامات پر زیر تعمیر عمارتوں کو مورچہ بنا کر سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کیے جانے کے دعوے بھی سامنے آئے ہیں۔ دوسری جانب بس ٹرمینل کی سمت سے آنے والے مظاہرین کو پسپا کرنے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔
سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ دو روزہ جھڑپوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ایک اہلکار ہلاک جبکہ چار اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق دریک کے مقام پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جوابی کارروائی کے دوران بھی متعدد افراد کے مارے جانے اور زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، تاہم سرکاری سطح پر ان کی حتمی تعداد جاری نہیں کی گئی۔
اس کے برعکس جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے ہلاکتوں کے حوالے سے بالکل مختلف اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔ کمیٹی کی کور کمیٹی کے رکن عابد شاہین کے مطابق صرف راولاکوٹ کے دریک کے علاقے میں 11 کارکن جاں بحق ہوئے جبکہ میرپور میں پولیس فائرنگ سے مزید چھ افراد ہلاک ہوئے، یوں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 17 تک پہنچ گئی ہے۔ ان کے مطابق متعدد زخمیوں کی حالت بھی انتہائی تشویشناک ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
عابد شاہین نے واضح کیا ہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اپنے مطالبات سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگی اور مقصد کے حصول تک مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ جاری رکھا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ احتجاجی تحریک کو طاقت کے ذریعے دبانے کی ہر کوشش ناکام ہوگی اور کارکن اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
ادھر کشیدگی کے باعث آزاد کشمیر کے بیشتر علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ اور براڈ بینڈ سروسز شدید متاثر ہیں۔ میرپور کے علاوہ تقریباً پورے خطے میں موبائل انٹرنیٹ معطل ہے جبکہ کئی علاقوں میں لینڈ لائن انٹرنیٹ بھی غیر مستحکم بتایا جا رہا ہے۔ مواصلاتی نظام کی بندش کے باعث زمینی صورتحال کی آزادانہ تصدیق اور عوام تک معلومات کی رسائی بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔
آزاد کشمیر کے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے الزام عائد کیا ہے کہ مظاہرین نے اسمبلی انتخابات کے دوران مظفرآباد کی جانب مارچ کر کے بڑے پیمانے پر بدامنی پھیلانے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج میں شامل بعض عناصر جدید اسلحے سے لیس ہیں اور سکیورٹی فورسز کو براہ راست نشانہ بنا رہے ہیں۔
اسی مؤقف کو دہراتے ہوئے سیکریٹری اطلاعات محمد راشد حنیف اور پولیس ترجمان ڈی آئی جی عرفان مسعود کاشفی نے بھی دعویٰ کیا کہ احتجاج میں عسکریت پسند عناصر شامل ہیں جن کی سرگرمیوں پر ریاست کی گہری نظر ہے۔
وفاقی حکومت نے بھی صورتحال پر سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے دعویٰ کیا کہ بعض عناصر ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت پرتشدد کارروائیوں کے ذریعے حالات خراب کرنا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم کے سیاسی امور کے مشیر رانا ثنا اللہ نے بھی کہا کہ احتجاج کرنے والوں کے پاس اسلحہ موجود ہے اور وہ عام شہریوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں، اس لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی ناگزیر ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے طاقت کے استعمال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کشمیری عوام کے خلاف طاقت کے استعمال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے پاکستانی عوام سے ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کی اپیل کی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے صورتحال کے حل کے لیے "سچ اور مفاہمت کمیشن” کے قیام کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ مسئلے کا درمیانی راستہ نکالا جا سکتا تھا جس سے قیمتی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی مؤقف اختیار کیا کہ آزاد اور منصفانہ ماحول کے بغیر انتخابات کرانا مناسب نہیں۔
ادھر بھارت نے بھی آزاد کشمیر کی صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے پاکستان پر انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے آزاد کشمیر کے انتخابی عمل کو نمائشی قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوامی احتجاج معاشی مسائل، بنیادی حقوق سے محرومی اور انتظامی جبر کا نتیجہ ہے۔ پاکستان کی جانب سے بھارتی الزامات پر تاحال کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
انسانی حقوق کی عالمی اور ملکی تنظیموں نے بھی موجودہ بحران پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کی آزادانہ، شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انٹرنیٹ اور موبائل سروسز کی بندش زمینی حقائق تک رسائی میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے بھی زور دیا ہے کہ امن و امان برقرار رکھنے کی ذمہ داری شہریوں کے بنیادی حقوق کی قیمت پر پوری نہیں کی جا سکتی۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ بحران محض ایک احتجاجی تحریک نہیں بلکہ انتظامی اور سیاسی حکمت عملی کے بڑے امتحان میں تبدیل ہو چکا ہے۔ سینئر تجزیہ کار طلعت حسین، مشاہد حسین سید، رضا رومی اور دیگر مبصرین نے بھی مذاکرات، سیاسی مفاہمت اور بہتر حکمرانی کو ہی بحران سے نکلنے کا واحد راستہ قرار دیا ہے جبکہ بعض حلقوں نے حالات معمول پر آنے تک انتخابات مؤخر کرنے کی تجویز بھی دی ہے۔
واضح رہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی گزشتہ کئی ہفتوں سے آزاد کشمیر اسمبلی میں مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستوں کے خاتمے کے مطالبے پر احتجاج کر رہی ہے۔ حکومت اور کمیٹی کے درمیان متعدد مذاکرات ناکام ہو چکے ہیں جس کے بعد احتجاجی تحریک شدت اختیار کر گئی۔ اب جبکہ اسمبلی انتخابات کا پہلا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے اور آئندہ مرحلے چند روز بعد ہونے والے ہیں، مسلسل بدامنی، خونریز تصادم اور احتجاجی تحریک نے پورے انتخابی عمل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اگر حالات میں فوری بہتری نہ آئی تو انتخابات کے آئندہ مراحل کے انعقاد اور ان کی شفافیت دونوں بڑے چیلنج بن سکتے ہیں۔
