ایران کے ساتھ جنگ، امریکہ کے جدید میزائل ذخائرکم پڑ گئے

ایران کے ساتھ حالیہ جنگی کشیدگی نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی دفاعی توازن پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اور دفاعی تھنک ٹینکس کی رپورٹس کے مطابق اس جنگ کے دوران امریکہ کو اپنے جدید فضائی دفاعی اور حملہ آور میزائلوں کا غیر معمولی استعمال کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں اس کے اسٹریٹجک ذخائر میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر مستقبل میں چین یا کسی دوسرے بڑے حریف کے ساتھ تصادم کی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو امریکہ کو اسلحے کی فراہمی اور دفاعی تیاریوں کے حوالے سے سنگین چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ایران کے ساتھ حالیہ جنگی کشیدگی نے امریکی دفاعی حکمت عملی، عسکری تیاریوں اور اسلحہ سازی کی صلاحیت پر کئی اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ، دفاعی اداروں اور تھنک ٹینکس کی رپورٹس کے مطابق چند ہفتوں پر محیط اس جنگ میں امریکہ کو اپنے جدید فضائی دفاعی اور حملہ آور میزائلوں کا اتنا زیادہ استعمال کرنا پڑا کہ برسوں میں تیار ہونے والے اسٹریٹجک ذخائر نمایاں حد تک کم ہو گئے۔
رپورٹس کے مطابق 21 جولائی کو سامنے آنے والی ابتدائی معلومات کے بعد 25 جولائی کو امریکی حملوں میں اچانک کمی دیکھی گئی، جبکہ بعد ازاں شائع ہونے والی رپورٹس میں اس کی ایک اہم وجہ جدید اسلحہ کے تیزی سے کم ہوتے ذخائر کو قرار دیا گیا۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ صورتحال امریکی عسکری منصوبہ بندی کے لیے غیر معمولی تشویش کا باعث بن چکی ہے۔
جنگ سے قبل امریکہ کے پاس جدید پیٹریاٹ، تھاڈ، ایس ایم-3، ایس ایم-6، ٹام ہاک کروز اور جاسم میزائلوں کے بڑے ذخائر موجود تھے، جنہیں دنیا کی مضبوط ترین دفاعی صلاحیتوں میں شمار کیا جاتا تھا۔ تاہم ایران کے خلاف فضائی اور میزائل کارروائیوں کے دوران ان میزائلوں کا وسیع پیمانے پر استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں کئی اہم نظاموں کے ذخائر میں نمایاں کمی آ گئی۔
دفاعی تجزیوں کے مطابق پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام سب سے زیادہ دباؤ کا شکار رہا، کیونکہ ایران کی جانب سے کیے گئے ڈرون اور بیلسٹک میزائل حملوں کو روکنے کے لیے بڑی تعداد میں انٹرسیپٹر میزائل داغے گئے۔ متعدد رپورٹس کے مطابق ایک ایک ہدف کو یقینی طور پر تباہ کرنے کے لیے اکثر دو انٹرسیپٹرز استعمال کیے گئے، جس سے ذخائر معمول سے کہیں زیادہ تیزی سے ختم ہوئے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید میزائلوں کی تیاری ایک طویل، مہنگا اور پیچیدہ عمل ہے، جس میں کئی برس لگ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چند ہفتوں کی شدید جنگ میں استعمال ہونے والا اسلحہ فوری طور پر دوبارہ تیار کرنا ممکن نہیں۔ اس صورتحال نے امریکی دفاعی صنعت کی پیداواری صلاحیت اور مستقبل کی جنگی تیاریوں پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔
دوسری جانب بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس جنگ نے امریکہ کے لیے ایک واضح انتباہ کا کام کیا ہے۔ اگر مستقبل میں بحرالکاہل کے خطے میں چین کے ساتھ کسی بڑے عسکری تصادم کی نوبت آتی ہے تو امریکہ کو نہ صرف فوجی حکمت عملی بلکہ اسلحہ کی مسلسل فراہمی کے حوالے سے بھی نئے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
امریکی دفاعی اداروں کے لیے اب سب سے بڑا امتحان اپنے اسٹریٹجک ذخائر کی بحالی، میزائل سازی کی رفتار میں اضافہ اور دفاعی صنعت کو نئی ضروریات کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔ ماہرین کے مطابق جدید جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں جیتی جاتیں بلکہ ان کا انحصار صنعتی صلاحیت، سپلائی چین اور اسلحہ کی مسلسل دستیابی پر بھی ہوتا ہے۔
ایران تنازع: امریکی فوجی حکمت عملی پر اعلیٰ قیادت میں اختلافات
اگرچہ امریکی حکام اپنی مجموعی عسکری برتری برقرار رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں، تاہم حالیہ رپورٹس نے اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ طویل اور شدید جنگیں دنیا کی بڑی فوجی طاقتوں کے لیے بھی اسلحہ کے ذخائر اور دفاعی تیاریوں کے حوالے سے غیر معمولی دباؤ پیدا کر سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ تنازع کو کئی دفاعی ماہرین مستقبل کی جنگوں کے لیے ایک اہم سبق اور عالمی عسکری منصوبہ بندی میں نئے دور کے آغاز کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
