عمران خان ریلیز فورس بنانے کا منصوبہ چوپٹ کیوں ہو گیا؟

تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے ‘عمران خان ریلیز فورس’ بنانے کا منصوبہ پارٹی کے اندر شدید اختلافات کے باعث چوپٹ ہو گیا ہے۔ پارٹی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اس منصوبے کے سب سے بڑے حامی اور روحِ رواں تھے، تاہم پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے اسے غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے منظوری دینے سے انکار کر دیا، جس کے بعد پی ٹی آئی نے باقاعدہ فورس کے قیام کے بجائے ایک وسیع سیاسی اور عوامی تحریک چلانے کی حکمت عملی اختیار کر لی۔
ذرائع کے مطابق "عمران خان ریلیز فورس” کا بنیادی مقصد بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے ملک بھر میں رضاکاروں کو ایک منظم پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا، ان کی رجسٹریشن کرنا اور انہیں ایک مربوط سیاسی مہم کے لیے تیار کرنا تھا۔ اس منصوبے کے تحت مختلف اضلاع اور شہروں میں تنظیمی ڈھانچہ قائم کرنے کی تجاویز بھی زیر غور تھیں تاکہ احتجاجی سرگرمیوں کو زیادہ منظم انداز میں چلایا جا سکے۔
پارٹی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اس منصوبے کے لیے بھرپور سرگرم تھے اور ان کی خواہش تھی کہ رضاکاروں سے باقاعدہ حلف لیا جائے اور انہیں ایک منظم نیٹ ورک کا حصہ بنایا جائے، تاکہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی مہم کو زیادہ مؤثر اور مربوط انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔
تاہم ذرائع کے مطابق پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے اس تجویز پر سخت تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ کسی بھی نام سے الگ "فورس” کی تشکیل آئینی اور قانونی پیچیدگیوں کو جنم دے سکتی ہے اور اس سے پارٹی کو غیر ضروری قانونی کارروائیوں، سیاسی تنازعات اور سنگین الزامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ پارٹی قیادت کے مختلف اجلاسوں میں اس معاملے پر تفصیلی مشاورت کی گئی، جہاں متعدد رہنماؤں نے بھی اس خدشے کا اظہار کیا کہ اگر کسی منظم فورس کا اعلان کیا گیا تو مخالفین اسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے خلاف مزید مقدمات یا قانونی اقدامات کی بنیاد بنا سکتے ہیں۔ انہی خدشات کے باعث اس منصوبے پر پیش رفت روک دی گئی۔
ذرائع کے مطابق اختلافات اس حد تک بڑھ گئے کہ مجوزہ "عمران خان ریلیز فورس” تجویز کی حد سے آگے نہ بڑھ سکی۔ نہ اس کے قیام کا کوئی باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا اور نہ ہی اس کے لیے کوئی تنظیمی ڈھانچہ تشکیل دیا جا سکا، جس کے نتیجے میں یہ منصوبہ عملاً ختم ہو گیا۔
یہ معاملہ اس وقت دوبارہ توجہ کا مرکز بنا جب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے آئینی عدالت میں اپنے مؤقف کے دوران کہا کہ "آئی کے ریلیز فورس” کبھی تشکیل ہی نہیں دی گئی۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ بیان اسی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ منصوبہ اندرونی اختلافات اور قانونی اعتراضات کے باعث کبھی عملی صورت اختیار نہیں کر سکا۔
ذرائع کے مطابق بعد ازاں پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے اس معاملے پر نئی حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے کسی الگ فورس کے بجائے ایک وسیع سیاسی اور عوامی تحریک چلائی جائے گی، جس میں تمام کارکن اور حامی بغیر کسی رجسٹریشن، حلف یا خصوصی تنظیمی ڈھانچے کے شریک ہو سکیں گے۔
پارٹی قیادت کا مؤقف ہے کہ اس حکمت عملی کا مقصد تمام سیاسی سرگرمیوں کو آئینی، قانونی اور جمہوری دائرے کے اندر رکھنا ہے تاکہ کسی متوازی تنظیم یا غیر روایتی ڈھانچے کا تاثر پیدا نہ ہو اور پارٹی کو غیر ضروری قانونی مسائل کا سامنا بھی نہ کرنا پڑے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ احتجاجی تحریک کے حوالے سے بھی اہم فیصلہ کیا گیا ہے۔ آئندہ کسی بھی عوامی احتجاج یا تحریک کے آغاز اور اس کی ٹائمنگ کا فیصلہ صرف خیبرپختونخوا حکومت نہیں کرے گی بلکہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی سربراہی میں قائم اپوزیشن اتحاد سے مشاورت کے بعد آئندہ کا لائحۂ عمل ترتیب دیا جائے گا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ پیشرفت پی ٹی آئی کے اندر نسبتاً محتاط اور معتدل مؤقف رکھنے والی قیادت کی کامیابی تصور کی جا رہی ہے۔ ان کے نزدیک پارٹی نے ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کیا ہے جو اسے قانونی یا آئینی تنازعات میں الجھا سکتا تھا، جبکہ اب تمام تر توجہ سیاسی، عوامی اور جمہوری جدوجہد پر مرکوز رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
پارٹی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے احتجاجی مہم جاری رکھنے کے عزم میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، تاہم قیادت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ منظم "ریلیز فورس” کے بجائے وسیع عوامی رابطہ مہم، سیاسی اتحادوں کے ساتھ مشاورت اور آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے احتجاجی سرگرمیوں کو آگے بڑھانا ہی پارٹی کے لیے زیادہ محفوظ، مؤثر اور قابلِ عمل حکمت عملی ہوگی۔
