کیا مولانا کی JUIاور پی ٹی آئی کا سیاسی اتحاد ممکن ہے؟

ملک میں سیاسی درجہ حرارت ایک بار پھر بڑھنے لگا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف اور جمعیت علماء اسلام (ف) کے درمیان ہونے والی حالیہ پیش رفت نے حکومت کے لیے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر ایک نئی سیاسی آزمائش کی بنیاد رکھ دی ہے۔ ذرائع کے مطابق دونوں جماعتوں نے پارلیمنٹ میں مشترکہ حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے حکومتی اقدامات کے خلاف بھرپور احتجاج اور ایوان سے باہر سیاسی تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کر لیا ہے۔ سیاسی مبصرین کے نزدیک اگر یہ اشتراک عملی شکل اختیار کرتا ہے تو آنے والے دنوں میں قومی سیاست میں اپوزیشن کا کردار مزید مؤثر اور حکومت پر سیاسی دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم یہاں پر اصل سوال یہ ہے کہ جے یو آئی اور تحریک انساف کا نیا سیاسی تحاد کتنا عرصہ قائم رہ پائے گا؟ کیونکہ ماضی میں عمران خان مولانا فضل الرحمٰن کو بھرے جلسوں میں مولانا ڈیزل جبکہ مولانا بانی پی ٹی آئی کو یہودی ایجنٹ کے لقب سے نوازتے رہے ہیں۔
مبصرین کے مطابق ملکی سیاست ایک بار پھر اہم موڑ پر پہنچتی دکھائی دے رہی ہے، جہاں اپوزیشن جماعتیں حکومت کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے کی جانب بڑھ رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور جمعیت علماء اسلام (ف) نے پارلیمنٹ میں حکومت کو سخت سیاسی چیلنج دینے اور اہم حکومتی اقدامات کے خلاف مشترکہ احتجاج کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں دونوں جماعتیں قانون سازی، حکومتی پالیسیوں اور دیگر اہم معاملات پر مشترکہ مؤقف اختیار کریں گی۔ اس پیش رفت کو اپوزیشن کی جانب سے حکومت کے خلاف منظم پارلیمانی حکمت عملی قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد حکومتی فیصلوں پر دباؤ بڑھانا اور ایوان کے اندر زیادہ مؤثر کردار ادا کرنا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کے اندر تعاون کے ساتھ ساتھ ایوان سے باہر بھی سیاسی رابطوں کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا ہے، تاکہ مستقبل میں اپوزیشن جماعتوں کے درمیان وسیع تر اتحاد کی راہ ہموار ہو سکے۔ اگر یہ سلسلہ آگے بڑھتا ہے تو ملکی سیاست میں نئی صف بندی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔
اس سلسلے میں سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی قیادت میں پی ٹی آئی کے وفد کی مولانا فضل الرحمن سے ہونے والی ملاقات کو اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس ملاقات میں دونوں جماعتوں کے درمیان موجود اختلافات کے باوجود حکومت مخالف امور پر مل کر چلنے کی خواہش کا اظہار کیا گیا، جسے سیاسی حلقے اپوزیشن کے درمیان اعتماد سازی کی ایک کوشش کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پی ٹی آئی اور جے یو آئی (ف) کی سیاسی سوچ اور ماضی کے تعلقات میں نمایاں اختلافات رہے ہیں، تاہم موجودہ سیاسی حالات نے دونوں جماعتوں کو مشترکہ نکات پر قریب لانے میں کردار ادا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پارلیمنٹ میں مشترکہ احتجاج اور ہم آہنگی کی یہ حکمت عملی مستقبل میں مزید وسیع سیاسی تعاون کی بنیاد بن سکتی ہے۔
دوسری جانب حکومتی حلقے اپوزیشن کے اس ممکنہ اشتراک کو معمول کی سیاسی سرگرمی قرار دیتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کر سکتے ہیں کہ پارلیمنٹ میں احتجاج ہر جمہوری جماعت کا حق ہے، جبکہ حکومت اپنی آئینی اور پارلیمانی ذمہ داریاں جاری رکھے گی۔ تاہم اگر اپوزیشن جماعتیں ایک مؤثر اور متحدہ حکمت عملی اختیار کرنے میں کامیاب رہتی ہیں تو حکومت کو قانون سازی اور پارلیمانی معاملات میں پہلے سے زیادہ مضبوط سیاسی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ایران کے ساتھ جنگ، امریکہ کے جدید میزائل ذخائرکم پڑ گئے
آنے والے پارلیمانی اجلاس اس حوالے سے فیصلہ کن اہمیت اختیار کر گئے ہیں کہ آیا پی ٹی آئی اور جے یو آئی (ف) کا یہ تعاون صرف ایوان تک محدود رہتا ہے یا مستقبل میں یہ ایک وسیع اپوزیشن اتحاد کی شکل اختیار کرتا ہے۔ یہی پیش رفت آئندہ ملکی سیاسی منظرنامے اور حکومت و اپوزیشن کے تعلقات کی سمت کا تعین بھی کرے گی۔
