جنرل فیض حمید کو نائی کے حوالے کرنے کا حکم کس نے دیا؟


اس وقت پاکستانی سوشل میڈیا پر سابق آئی ایس آئی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی کچھ ویڈیوز وائرل ہیں جن میں ان کی فوجی جوانوں کے ہاتھوں درگت بنتی دکھائی دیتی ہے۔ سب سے مضحکہ خیز لمحہ وہ ہے جب گھوڑے پر سوار ایک فوجی افسر فیض حمید کے ہیئر سٹائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنے جوانوں کو حکم دیتا ہے کہ اس شخص کو لے کر نائی کے جلوے دکھاؤ اور وحید مراد سے نجم سیٹھی بنا ڈالو۔ یعنی موصوف کے وحید مراد جیسے لمبے بالوں کو تراش کر نجم سیٹھی جیسی حجامت بنا ڈالو۔ یاد رہے کہ پاکستانی سیاسی تاریخ کے متنازعہ ترین جرنیل فیض حمید اس وقت کور کمانڈر بہاولپور کے عہدے پر فائز ہیں اور انکی وائرل ویڈیوز پاکستان ملٹری اکیڈمی کے 76ویں لانگ کورس کی تقریب کی ہیں۔

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جنرل فیض حمید اور دیگر فوجی جنرلز الگ الگ قطاروں میں کھڑے ہیں اور پھر ایک سپاہی انسٹرکٹر جنرل فیض کو قطار سے چند قدم آگے آنے کا کہتا ہے۔ اس دوران فوجی سپاہی آرمی افسران سے ان کی کارکردگی کے ساتھ ساتھ ان سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔ فیض حمید سے مخاطب ہونے والے سپاہی انسٹرکٹر کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ "صاحب سے پوچھنا ہو گا کہ کیا صاحب کو سمجھ نہیں آتی؟ اس پر جنرل فیض مسکراتے ہیں تو انسٹرکٹر انہیں الرٹ رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہتا ہے کہ آپ پھر مسکرا رہے ہیں۔ اس کے بعد ویڈیو کے ایک اور حصے میں ڈرل کے دوران جنرل فیض کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے "لیڈیز کو یہاں سے بھیجیں کیونکہ ہماری بے عزتی ہو رہی ہے۔ اس پر وہاں موجود افراد کے قہقہوں کی آوازیں بھی سنی جا سکتی ہیں۔

اسکے بعد انسٹرکٹر کی ہدایت پر جنرل فیض محرر کو فوج کی جانب سے الاٹ کردہ اپنا نمبر بھی لکھواتے ہیں جس پر محرر دوبارہ نمبر دہرانے کا کہتا ہے اور جنرل فیض بلند آواز سے اپنا نمبر پکارتے ہیں۔جنرل فیض حمید کے فوجی افسران کی سپاہیوں کے سامنے قطار میں کھڑے ہونے اور ان کے احکامات پر عمل کرنے کے مناظر پر جہاں سوشل میڈیا صارفین حیران ہیں وہیں دلچسپ تبصروں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ کئی ٹوئٹر صارفین نے سوال کیا کہ یہ کیا ہو رہا ہے اور کیا یہ ویڈیوز اصلی ہیں؟ بعض کا کہنا ہے کہ فوجی افسران کا سپاہیوں کے سامنے اس طرح پیش ہونا فوج کی روایت ہے۔

ایک ٹوئٹر صارف نے ان وائرل ویڈیوز کے بارے میں لکھا کہ بطور سویلین آپ روایتی ڈرل اور جذبات کو سمجھ نہیں سکتے۔ زاویار حیدر نامی صارف نے لکھا کہ یہ سپاہیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا موقع ہوتا ہے جو سمجھتے ہیں کہ ایک جنرل کو بھی سپاہی کی طرح چلنا چاہیے۔ ان کے بقول یہ ہر اس شخص کے لیے ایک یادگار لمحہ ہوتا ہے جو اس عمل سے گزرا ہے اور آج بھی اس ڈرل میں ایک جنرل اپنے سپاہی استاد کا حکم مانتا ہے۔

ارشد علی نامی ٹوئٹر صارف ایک ویڈیو کے جواب میں کہتے ہیں حکم دینے والے ڈرل انسٹرکٹر ہیں اور ٹیچر ہیں۔ ٹریننگ یا پریڈ کے موقع پر ان کے پاس بہت زیادہ اختیارات ہوتے ہیں لہذا آپ انہیں کم نہ سمجھیں۔ علی نامی ٹوئٹر صارف نے ویڈیو پر تبصرہ کرتےہوئے لکھا کہ جنرل فیض کو امانت فٹنس کلب میں خوش آمدید کہتے ہیں۔ واضح رہے کہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا تعلق فوج کی بلوچ رجمنٹ سے ہے۔ جنرل فیض آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں جس کے بعد انہیں اکتوبر 2021 میں کور کمانڈر پشاور مقرر کر دیا گیا تھا۔ جنرل فیض حمید کا نام پہلی مرتبہ نومبر2017 میں تحریکِ لبیک پاکستان کے ساتھ ایک سمجھوتے پر ہونے والے دستخط سے سامنے آیا تھا۔ اس وقت وہ میجر جنرل کے عہدے پر تھے۔ اس معاہدے کے تحت ٹی ایل پی نے نون لیگ کی حکومت کے خلاف فیض آباد میں اپنا مشہور زمانہ دھرنا ختم کردیا تھا۔

Back to top button